٭٭٭٭٭پاکستان بار کونسل ، پنجاب بار کونسل ، سپریم بار اور ہائیکورٹ بار کا سانحہ ..
تازہ ترین : 1

٭٭٭٭٭پاکستان بار کونسل ، پنجاب بار کونسل ، سپریم بار اور ہائیکورٹ بار کا سانحہ کوئٹہ کے خلاف ملک گیر ہڑتال ،یوم سوگ منانے کا اعلان

حکومت عوام کے جان و مال کا تحفظ نہیں کرسکتی تو اگلا الیکشن نہ لڑے ‘سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا سات روزہ سوگ کا اعلان لاہور ہائیکورٹ بار کی احتجاجی ریلی ، اعلیٰ سطحی وفد بلوچستان کے وکلاء کیساتھ اظہار یکجہتی کے لئے کوئٹہ روانہ ہو گی ،تین روزہ سوگ کا اعلان ،وکلاء بازؤوں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گےکل غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائیگی‘رانا ضیاء عبدالرحمن

لاہور( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 اگست ۔2016ء)پاکستان بار کونسل ، پنجاب بار کونسل ، سپریم بار ایسوسی ایشن اور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے سانحہ کوئٹہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملک گیر ہڑتال اور یوم سوگ منانے کا اعلان کر دیا ، وکلاء کل ( منگل ) احتجاجاً عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے جبکہ مختلف مقامات پر جاں بحق افراد کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی جائے گی ۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان بار کونسل کے وائس چیئر مین ڈاکٹر فروغ نسیم اور چیئر مین ایگزیکٹیو کمیٹی عبد الفیاض نے سانحہ کو ئٹہ کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے اس واقعہ سے وکلاء کے حوصلے پست نہیں ہو نگے۔انہوں نے کہا کہ بار کونسل اس سانحہ کے خلاف (کل ) منگل کو ملک گیر ہڑتال کرے گی اور بارز میں مذمتی اجلاس منعقد کئے جائیں گے ۔

دہشت گردی کے واقعے کے خلاف احتجاجاً آج ملک بھر کے وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے اور واقعے کے خلاف سات روزہ سوگ بھی منایا جائے گا ۔پنجاب بار کونسل نے بھی سانحہ کوئٹہ کے خلاف 2روز ہڑتال کا اعلان کر تے ہوئے کہا کہ وکلاء 9اور 10اگست کو عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے ۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹرعلی ظفر نے کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعہ کے بعد سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں دیگر عہدیداروں کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ کوئٹہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔

یہ وکلاء پر نہیں بلکہ انصاف پر حملہ ہے ،اس کے ذریعے انصاف کے ادارے کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں ، عوام کو انصاف کی فراہمی اور انکے حقوق کیلئے لڑتے ہیں ، جمہوریت کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اس لئے ایک سازش کے تحت انہیں کمزور کرنے کی سازش کی گئی ہے لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے ساتھ پہلے بھی ایسا ہوا لیکن ہم حوصلہ نہیں ہاریں گے ، کمزور نہیں ہوں گے بلکہ مزید طاقتور ہوں گے اور وکلاء کو کمزور کرنے کی کوشش ناکام بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تمام وکلاء تنظیموں کے عہدیداروں کا ہنگامی اجلاس بلا رہے ہیں جس میں لانگ ٹرم منصوبہ بندی کی جائے گی کیونکہ ایک واقعہ ہوتا ہے جس میں بچے ، بوڑھے ، خواتین ،وکلاء شہید ہوتے ہیں ایک اجلاس ہوتا ہے میڈیا میں چار روز چلتا ہے اور پھر ایک اور واقعہ ہو جاتا ہے ۔ لاء اینڈ آرڈر حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ ہر شہری کو جان و مال کا تحفظ دینا حکومت کی بنیادی ذمہ داری میں شامل ہے ۔

اگر حکومت یہ کام نہیں کر سکتی تو اگلا الیکشن نہ لڑے اور ان کو آنے دے جو قوم کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی وکلاء تنظیم کے صدر کو بڑی دیر سے دھمکیاں مل ہو رہی تھیں لیکن انہیں تحفظ فراہم نہیں کیا گیا ۔ وکلاء انصاف کے ادارے کے ستون ہیں انہیں بھی اسی طرح تحفظ ملنا چاہیے جس طرح سیاستدانوں اور ججز صاحبان کو مل رہا ہے ۔

ہم صرف وکلاء کے لئے نہیں بلکہ ایک عام شہری کے لئے بھی حکمت عملی بنانے جارہے ہیں ۔ ہم چار روزہ سوگ کے بعد اس معاملے کو چھوڑ نہیں دیں گے، شہیدوں کا خون ضائع نہیں ہونے دیں گے ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دہشتگرد تو یہی چاہتے ہیں کہ انصاف کی فراہمی کا سلسلہ رک جائے لیکن ہم انصاف کی فراہمی کے لئے ڈیوٹی دیتے رہیں گے بیشک ہمیں مشکلات کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے ۔

دہشتگرد وں کا انٹیلیکچول پر حملہ قوم کو بد دل کرنے کا منصوبہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے وکلاء سے اظہا ریکجہتی کیلئے وفد بلوچستان بھی جائے گا۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسے حالات میں وزیر اعظم ، وزرائے اعلیٰ روزانہ کی بنیاد پر میٹنگز کریں گے اس میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلیاں کی جائیں لیکن بڑے دنوں سے میڈیا میں نہیں دیکھا کہ اس کی کوئی میٹنگ ہوئی ہے ۔

انہوں نے سانحہ کوئٹہ کیخلاف سات روزہ سوگ کا اعلان کیا ۔جبکہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی سانحہ کوئٹہ کے خلاف تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء بازؤوں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے۔ صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشنرانا ضیاء عبدالرحمن کی زیرِ صدارت سانحہ کوئٹہ میں ہونیوالی ہلاکتوں کی مذمت کے خلاف جنرل ہاؤس کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں محمد انس غازی سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، سید اسد بخاری فنانس سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، لاہورکے علاوہ وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ رانا ضیاء عبدالرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں ہمارے وکلاء بھائیوں اور سویلین کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ ہم پر قیامت صغری ٹوٹ پڑی ہم شدید دکھ، کرب اور اذیت میں مبتلا ہیں۔

انہوں نے کہا مرکزی اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں مکمل طور پر بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔ وکلاء برادری دونوں حکومتوں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا یہ حملہ کالے کوٹ پر نہیں بلکہ بلوچستان اور پاکستان پر حملہ ہے۔ قوم 14اگست 2016ء کو جشن آزادی منانے کی تیاریوں میں مصروف تھی دشمن نے ہمیں خوف و ہراس اور افراتفری میں مبتلا کرنے کی کوشش کی لیکن دشمن انشاء اﷲ ناکامی کا منہ دیکھے گا۔

وکلاء برادری اپنے بھائیوں کی شہادت پر ہمت نہیں ہاری بلکہ ہم نے ہمیشہ وطن عزیز کیلئے قربانیاں دیں اور آئندہ بھی قربانیاں دیتے رہیں گے۔ انہوں نے مندرجہ ذیل قرارداد رائے شماری کیلئے ہاؤس کے سامنے پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سانحہ کوئٹہ کی پرزور مذمت کرتی ہے اور مذکورہ دلخراش سانحہ پر مرکزی حکومت اور حکومت بلوچستان سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بلوچستان کے وکلاء کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کوئٹہ روانہ ہو گا۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن شہید وکلاء کے لواحقین کی مالی معاونت کیلئے وکلاء برادری سے تعاون کی درخواست کرتی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے گذارش کرتی ہے کہ عزت مآب بذات خود کوئٹہ جا کر وکلاء سے اظہار یکجہتی کریں اور سانحہ کوئٹہ کی مکمل تحقیق کیلئے انکوائری کمیٹی کا اعلان کریں۔

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سانحہ کوئٹہ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کرتی ہے ۔ وکلاء بازؤوں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے۔ مورخہ 09اگست 2016ء بروز منگل بوقت 11:00بجے دن لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں شہدائے کوئٹہ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ اجلاس کے بعد وکلاء نے جی پی او چوک تک پرامن احتجاجی ریلی نکالی۔

وقت اشاعت : 08/08/2016 - 19:04:17

اپنی رائے کا اظہار کریں