بینکوں نے مالی سال 16 میں598.3ارب روپے کا زرعی قرضہ تقسیم کیا
تازہ ترین : 1

بینکوں نے مالی سال 16 میں598.3ارب روپے کا زرعی قرضہ تقسیم کیا

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 اگست ۔2016ء)بینکوں نے مالی سال 16 میں598.3 ارب روپے کا زرعی قرضہ تقسیم کیاہے جو 600 ارب روپے کے مجموعی سالانہ ہدف کا تقریبا 100 فیصد اور مالی سال 15 میں تقسیم کیے جانے والے 515.9 ارب روپے کے قرضوں کے مقابلے میں16 فیصد زیادہ ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ حقیقی شعبے کے متعدد عوامل کے باعث زرعی شعبے میں منفی نمو کے باوجود گذشتہ چند برسوں سے زرعی فنانسنگ میں اضافہ ہو تا رہا ہے۔

زرعی قرضوں کے واجب الادا جزدان میں بھی 32.3 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے جو آخر جون 2015 کے 313.3 ارب روپے سے بڑھ کر آخر جون 2016 میں345.6 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ سال کے دوران اس میں 10.3 فیصد نمو ہوئی۔بینکوں کی جانب سے جن کاشت کاروں کو خدمات مہیا کی گئیں ان کی تعداد 2.2 ملین سے بڑھ کر 2.4 ملین تک پہنچ گئی ہے۔فنانسنگ کے مسائل اور حقیقی شعبے کی دشواریوں کی وجہ سے زرعی قرضوں کی تقسیم کے ہدف کا حصول ایک مشکل کام تھا جن میں اہم نقد فصلوں خصوصا کپاس کی پیداوار میں کمی، ماحولیاتی تبدیلی، زرعی پیداوار کی قیمتوں میں اتار چڑھا و، مارکیٹنگ کے روابط میں فرق اور زرعی قرضوں کے متعلق بینکوں میں بلند خطرے کا تصور وغیرہ شامل ہیں۔

بجٹ میں اعلان کردہ بعض اقدامات پر عملدرآمد کے علاوہ اسٹیٹ بینک نے حکومت کی جانب سے زرعی قرضوں کی تقسیم کے لیے مقررہ ہدف کے حصول کے لیے مربوط کوششیں کی ہیں۔ ان کوششوں میں سازگار ضوابطی ماحول کی فراہمی، بینکوں کو یہ باور کرانا کہ زرعی فنانسنگ ایک منافع بخش کاروبار ہے، فنانسنگ کے نئے ذرائع دریافت کرنا جن میں زرعی ویلیو چین فنانسنگ، گودام رسید فنانسنگ، چھوٹے و پسماندہ کاشت کاروں کے لیے قرضہ ضمانت اسکیم پر عملدرآمد اوربینکوں کی قرض دینے کی کارکردگی کی سخت نگرانی شامل ہیں۔

اسٹیٹ بینک حکومت کی مسلسل اعانت اور گورنر اسٹیٹ بینک اشرف محمود وتھرا اور ڈپٹی گورنر جناب سعید احمد کے قائدانہ کردار کی بدولت بینکوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ باقاعدگی سے کارکردگی کے نظرثانی اجلاسوں کے ذریعے اس ہدف کو حاصل کرسکا ہے۔گورنر اور ڈپٹی گورنر نے بینکوں کے صدور/سی ای اوز کو اپنے اہداف کے حصول پر مبارکباد دی اور شکریہ ادا کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اس شعبے کے معاشی نمو، روزگار اور برآمدات میں اہم کردار کے پیش نظر زرعی قرضوں کی فراہمی میں مزید اضافہ کریں۔

بینکوں کی کارکردگی کے تفصیلی جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ پانچ بڑے بینکوں نے مجموعی طور پر 311.4 ارب روپے کے زرعی قرضے یا اپنے 305.7 ارب روپے کے سالانہ ہدف کے 101.9 فیصد قرضے تقسیم کیے جو گذشتہ برس کی اسی مدت میں تقسیم کیے گئے 262.9 ارب روپے کے قرضوں سے 18.4 فیصد زیادہ ہے۔ پانچ اہم بینکوں میں نیشنل بینک نے 109.2 فیصد حاصل کر کے نہ صرف اپنے سالانہ ہدف سے تجاوز کیا بلکہ مجموعی ہدف کے حصول میں بھی اس کا حصہ زیادہ رہا ہے۔

ایچ بی ایل نے 102.4 فیصد، ایم سی بی نے 101.8 فیصد، یوبی ایل نے اپنے متعلقہ ہدف کا 100.4 فیصد حاصل کیا جبکہ اے بی ایل اپنے سالانہ ہدف کا 86.9 فیصد حاصل کر سکا۔تخصیصی بینکوں کے زمرے میں زیڈ ٹی بی ایل نے 90.97 ارب روپے یا اپنے 102ارب روپے کے سالانہ ہدف کا 89.2 فیصد حاصل کیا جبکہ پی پی سی بی ایل نے 10.3ارب روپے تقسیم کر کے اپنے 12.5 ارب روپے کے ہدف کا 82.7 فیصد حاصل کیا۔

پندرہ ملکی نجی بینکوں نے ایک گروپ کے طور پر اپنیاہداف کا 93.4 فیصد حاصل کیا۔ اس گروپ میں سمٹ، جے ایس بینک، بینک الفلاح، حبیب میٹروپولیٹن، سندھ بینک، سونیری اور بینک آف خیبر اپنے سالانہ اہداف سے آگے نکل گئے۔ تاہم، این آئی بی بینک نے 94.3 فیصد، فرسٹ وومین بینک 87.5 فیصد، بینک الحبیب 88.5 فیصد، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ 87.3 فیصد، فیصل 84.7 فیصد، عسکری 83.9 فیصد، سلک 77.7 فیصد اور بینک آف پنجاب نے زیر جائزہ مدت میں اپنے سالانہ ہدف کا 43 فیصد حاصل کیا۔

مالی سال 16 کے دوران نو مائیکروفنانس بینک ایک گروپ کے طور پر53.9 ارب روپے یا 134.4 فیصد کے زرعی قرضے دینے کے باعث اپنے سالانہ ہدف 40.1 ارب روپے سے آگے نکل گئے۔ این آر ایس پی مائیکروفنانس بینک، خوشحالی، فرسٹ مائیکرو فنانس، تعمیر، موبیلنک مائیکروفنانس، یو مائیکروفنانس، فنکا مائیکروفنانس اور اپنا مائیکروفنانس بینک اپنے اہداف سے آگے بڑھ گئے جبکہ پاک عمان نے اپنے سالانہ ہدف کا 84.4 فیصد حاصل کیا۔

پانچ اسلامی بینکوں نے بھی اپنے ہدف 7.9 ارب روپے کے مقابلے میں 8.5 ارب روپے کا قرضہ دے کر بطور ایک گروپ کیاپنے اہداف سے تجاوز کیا۔ اس گروپ میں میزان بینک، البرک، اور دبئی اسلامی بینک اپنے سالانہ اہداف سے آگے نکل گئے جبکہ بینک اسلامی نے اپنے سالانہ ہدف کا 96.8 فیصد حاصل کیا، اسی طرح برج بینک مالی سال 16 میں اپنے ہدف کا 40فیصد حاصل کر سکا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 08/08/2016 - 19:02:35

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں