سانحہ کوئٹہ پر لاہور میں وکلاء کا احتجاج ، ریلی ۔ حکومت کے استعفے کا م،طالبہ
تازہ ترین : 1

سانحہ کوئٹہ پر لاہور میں وکلاء کا احتجاج ، ریلی ۔ حکومت کے استعفے کا م،طالبہ

لاہور (اْردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی 08 اگست۔2016ء ) وکلاء تنظیموں نے کوئٹہ میں خود کش حملے میں ہلاکتوں پر گہری تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے اور کوئٹہ کے وکلاء سے یکجہتی کے اظہار کیلئے وفد بلوچستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ۔وکلاء تنظیموں نے امن امان برقرار رکھنے میں ناکامی پر مرکزی اور بلوچستانکی صوبائی حکومت کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

جبکہ وکلاع برادری تین روز تک سوگ منائے گی ۔ لاہور ہائیکورٹ بار میں منگل کی صبح شہدائے کوئٹہ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی، سانحہ کوئٹہ کے فوری بعد لاہور ہائیکورٹ بار کا ہنگامی اجلاس ہوا اور ریلی نکالی گئی جس میں منظور کی گئی مذمتی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سانحہ کوئٹہ کی پرزور مذمت کرتی ہے اور مذکورہ دلخراش سانحہ پر مرکزی حکومت اور حکومت بلوچستان سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی ہے۔

بار نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے بذات خود کوئٹہ جا کر وکلاء سے اظہار یکجہتی اور سانحہ کوئٹہ کی مکمل تحقیق کیلئے انکوائری کمیٹی کا اعلان کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔بار شہید وکلاء کے لواحقین کی مالی معاونت کیلئے وکلاء برادری سے تعاون کی درخواست کرتی ہے،لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سانحہ کوئٹہ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کرتی ہے ۔

وکلاء بازؤوں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بلوچستان کے وکلاء کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کوئٹہ روانہ ہو گا۔ بار کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر رانا ضیاء عبدالرحمن نے کہا کہ کوئٹہ میں ہمارے وکلاء بھائیوں اور سویلین کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ ہم پر قیامت صغری ٹوٹ پڑی ہم شدید دکھ، کرب اور اذیت میں مبتلا ہیں۔

انہوں نے کہا مرکزی اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں مکمل طور پر بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔ وکلاء برادری دونوں حکومتوں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا یہ حملہ کالے کوٹ پر نہیں بلکہ بلوچستان اور پاکستان پر حملہ ہے۔ کو جشن آزادی منانے کی تیاریوں میں مصروف تھی دشمن نے ہمیں خوف و ہراس اور افراتفری میں مبتلا کرنے کی کوشش کی لیکن دشمن انشاء اللہ ناکامی کا منہ دیکھے گا۔

وکلاء برادری اپنے بھائیوں کی شہادت پر ہمت نہیں ہاری بلکہ ہم نے ہمیشہ وطن عزیز کیلئے قربانیاں دیں اور آئندہ بھی قربانیاں دیتے رہیں گے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن محمد انس غازی ، پیر محمد مسعود چشتی سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن،سید فرہاد علی شاہ ممبر پنجاب بار کونسل، محمد رمضان چوہدری سابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل، شفیق بھنڈارہ ممبر پاکستان بار کونسل، محمد کاظم خان سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کوئٹہ میں وکلاء پر حملہ نا صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان پر حملہ ہے۔

سارا ملک افسردہ اور وکلاء اس قیامت صغری پر خون کے آنسو رو رہے ہیں کالے کوٹ پر نہیں بلکہ بلوچستان اور پاکستان پر حملہ ہے۔
انہوں نے مندرجہ ذیل قرارداد رائے شماری کیلئے ہاؤس کے سامنے پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
1۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سانحہ کوئٹہ کی پرزور مذمت کرتی ہے اور مذکورہ دلخراش سانحہ پر مرکزی حکومت اور حکومت بلوچستان سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی ہے۔


2۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بلوچستان کے وکلاء کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کوئٹہ روانہ ہو گا۔
3۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن شہید وکلاء کے لواحقین کی مالی معاونت کیلئے وکلاء برادری سے تعاون کی درخواست کرتی ہے۔
4۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے گذارش کرتی ہے کہ عزت مآب بذات خود کوئٹہ جا کر وکلاء سے اظہار یکجہتی کریں اور سانحہ کوئٹہ کی مکمل تحقیق کیلئے انکوائری کمیٹی کا اعلان کریں۔


5۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سانحہ کوئٹہ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کرتی ہے ۔ وکلاء بازؤوں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے۔
6 ۔ مورخہ 09اگست 2016ء بروز منگل بوقت 11:00بجے دن لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں شہدائے کوئٹہ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔
اجلاس کے بعد وکلاء نے جی پی او چوک تک پرامن احتجاجی ریلی نکالی۔

وقت اشاعت : 08/08/2016 - 18:06:42

اپنی رائے کا اظہار کریں