اب کی بار استعفیٰ دیا تو اکیلا نہیں ہونگا (ن)لیگ کے 14ممبران اسمبلی کو بھی ساتھ لے ..
تازہ ترین : 1

اب کی بار استعفیٰ دیا تو اکیلا نہیں ہونگا (ن)لیگ کے 14ممبران اسمبلی کو بھی ساتھ لے کر آئیں گے،سردا ر خالد ابراہیم

راولاکوٹ کے لوگوں نے نظریہ پاکستان کو ووٹ دئیے اُنہیں اس نظریہ کا خیال رکھنا ہو گا (ن) لیگ کی وجہ سے اگر میں جیتا ہوں تو حلقہ 4کی نشست اُن کی وجہ سے میری پارٹی ہاری بھی ہے مسعود خان ایماندار اور باوقار ملازم رہا ہے اُسے چاہیے وہ چاکر نہ بنے، حاجی یعقوب کے حشر سے برا حشر آزاد کشمیر کے نئے حکمرانوں کا ہو گا،صدر کا اگلا انتخاب براہ راست ہو گا اور میں منتخب ہو کر دکھاؤں گا،راولاکوٹ میں جلسے سے خطاب

راولاکوٹ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 اگست ۔2016ء) جے کے پی پی کے سربراہ خالد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ اگر وہ قانون ساز اسمبلی سے استعفیٰ دے کر آئے تو اب کی بار وہ اکیلے نہیں ہوں گے بلکہ (ن)لیگ کے 14ممبران اسمبلی کو بھی ساتھ لے کر آئیں گے،راولاکوٹ کے لوگوں نے نظریہ پاکستان کو ووٹ دئیے اُنہیں اس نظریہ کا خیال رکھنا ہو گا،نواز شریف سے میرا کوئی معائدہ نہیں ہوا تھا اور نہ مجھے غرض ہے کہ نواز شریف میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں ،(ن) لیگ کی وجہ سے اگر میں جیتا ہوں تو حلقہ 4کی نشست اُن کی وجہ سے میری پارٹی ہاری بھی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے رولاکوٹ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس سے قبل ریلی کا انعقاد کیا گیا اور کچہر ی روڈ میں ٹریفک جام ہوگیا ۔ سردار خالد ابراہیم نے کہا کہ بینظیر سے معائدہ نہیں کیا تھا نواز شریف سے کیسے کرتا؟ دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑی سیاسی بد دیانتی اب کی بار آزادکشمیر میں ہوئی جہاں حکومت نے ہی اپوزیشن بھی بنائی،لاہور سے جو لوگ آج آزاد کشمیر میں اپنے ملازم مسلط کر رہے ہیں انہیں ناکام کر کہ دم لوں گا،مہاراجہ کے دور میں جس طرح مہارانیوں کی پالکیں اٹھوائی جاتی تھیں اب جب کہ رائے ونڈ سے ایک پینل میں اپنا نام اُس انداز میں دیکھا تو مجبورا رائے ونڈ کا حکم مسترد کرنا پڑا باوجود اس کہ کہ آج مہاراجہ کہ دور کی طرح کالی بھیڑیں موجود ھیں ثابت کیا کہ زندہ کھالیں کھنچوانے والوں کے وارث زندہ ہیں جو ماڈل ٹاؤن کی پالکیان کبھی نہیں اُٹھائیں گے، نواز شریف اچھا آدمی ضرور ہے مگر لیڈر نہیں ہے اور میں اس کی سوچ کے ساتھ نیں چل سکتا اور نہ اُس کی ملازم بیٹی قبول ہے،مسعود خان ایماندار اور باوقار ملازم رہا ہے اُسے چاہیے کہ واہ چاکر نہ بنے، حاجی یعقوب کے حشر سے برا حشر آزاد کشمیر کے نئے حکمرانوں کا ہو گا جنہوں نے برطانیہ سے ہوٹل والوں کو لا کر اپنے سروں پر مسلط کیا اور ساتھ قائداعظم کو کافر اعظم کہنے والوں کو اپنا اتحادی بنایا،صدر کا اگلا انتخاب براہ راست ہو گا اور میں منتخب ہو کر دکھاؤں گا ۔

خالد ابراہیم خان نے کہا کہ راجہ فاروق حیدر پہلے آدمی ہیں جنہیں حق ملا،کشمیریوں کا حق حکمرانی بحال کرانا ہو گا۔مودی کے دوستوں کو بے نقاب کر کے دم لونگاخالدابراہیم خان نے کہا کہ مودی کے دوستوں کو بے نقاب کر کے راہوں گا۔ سردار ابراہیم کو زندگی کے آخری دور میں جے کے پی پی کے پیلٹ فارم سے صدر ریاست بنوایا تھا۔صدارت ا س وقت میر احق نہیں تھا ۔

لیکن جب ن لیگ نے خواتین نشتوں پر بددیانتی کی تومجبورا مجھے صدارتی امیدوار بننا پْڑا ورنہ میں پہلے 19 جولائی کے جلسہ میں لوگوں سے کہ گیا تھا۔ کہ دو سیٹیں دیں میں تین پر جا کر رکوں گا ۔لیکن دو کے بجائے صرف ایک نشست ملی خالد ابراہیم نے کہا کہ کے بی خان یاسین گلشن نجیب نقی فاروق طاہر راجہ صدیق افتحار گیلانی میری وجہ سے الیکشن جیتے فاروق حیدر اتنے حلقوں میں نہیں گے۔

جتنے میں میں گیا۔ یہ چھ لوگ اور میرٹ سے ہٹ کر آٹھ مخصوص نشستوں پر ممبران بننے والوں کو بھی اس وقت اسمبلی سے مستفعی ہونا ہو گا۔ جب اگر مجھے استفعی دینا پڑے جنرل انور لائق آدمی تھا جب کشمیر پر بات کرتا تو ہمارے سر فخر سے بلند ہوتے لیکن وہ سیاسی آدمی نہیں تھا، تب اس کی بھی مخالفت کی دی۔۔ سکندر حیات نے سب لوگوں کو چور دروازے سے اقتدار میں آناسیکھایا ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 08/08/2016 - 17:49:44

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں