لاہور ، کوئٹہ بم دھماکے کے بعد صوبے بھر کے ہسپتالوں میں سیکورٹی انتظامات سخت کر ..

لاہور ، کوئٹہ بم دھماکے کے بعد صوبے بھر کے ہسپتالوں میں سیکورٹی انتظامات سخت کر نیکی ہدایت

اہم عمارات، حساس اداروں، سرکاری دفاتر، اہم شخصیات کے ساتھ ساتھ مساجد کے علاوہ دیگر عبادت گاہوں کے باہربھی اضافی نفری تعینات کردی گئی۔

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 اگست ۔2016ء) کوئٹہ میں سول ہسپتال کی ایمرجنسی کے باہر دہشت گردی کی بدترین کارروائی کے بعد صوبائی دارالحکومت کے تمام سرکاری وٹیچنگ ہسپتالوں میں سکیورٹی کے انتظامات کو انتہائی سخت کرتے ہوئے مرکزی دروازوں پرتعینات سکیورٹی گارڈز کو سختی سے ہدایات دی گئی ہیں کہ کسی بھی گاڑی کو مکمل چیکنگ کئے بغیر ہسپتال میں داخل نہ ہونے دیا جائے جبکہ شہرمیں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے اہم عمارات، حساس اداروں، سرکاری دفاتر، اہم شخصیات کے ساتھ ساتھ مساجد کے علاوہ دیگر عبادت گاہوں کے باہربھی اضافی نفری تعینات کردی گئی۔

سکیورٹی کے حوالے سے کیپٹل سٹی پولیس آفیسر کیپٹن(ر) محمد امین وینس نے آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کے ساتھ ساتھ میٹیل ڈیٹیکٹر سے گاڑیو ں کی چیکنگ کے بعد ہی داخل ہوے دیا جاتا ہے۔ جبکہ معمولی شک گزرنے پر سواریوں کو گاڑی سے باہر نکال کر مکمل تلاشی لینے کی ہدایت کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہر کی مختلف شاہرات پر لگائے جانے والے ناکوں سے اگرچہ شہریوں کو کوفت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا ہمیں بھرپور احساس ہے مگر شہریوں کی جان ومال کی حفاظت پولیس کی اولین ترجیحات ہونے میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے تمام تراقدامات پر عملدرآمد کیا جارہاہے۔ جس میں روزانہ کی بنیاد پر شہر کے مختلف علاقوں کے ہوٹلوں اور کسی بھی حوالے سے سرچھپانے کی جگہوں پر سرچ آپریشن کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے عوام الناس کا مکمل تعاون ناگزیر ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ انپے علاقوں کے گردونواح پر کڑی نظررکھیں اور اجنبیوں اورغیر مانوسی افراد کی نقل وحرکت پر کڑی نظر رکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی شخص کو مکان، دوکان یا جگہ کرائے پر دینے سے قبل اس کی مکمل چھان بین کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس کو اطلاع دینا ضروری ہے۔

انہوں نے آخرمیں کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ صرف پولیس ہی کی ذمہ داری نہیں ہے میڈیا بھی اس حوالے سے اپنا بھرپور کردارادا کرے۔ دوسری جانب ہسپتالوں کے مرکزی دروازوں پر تعینات سکیورٹی گارڈز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی گاڑی کو مکمل چیکنگ کے بغیر داخل نہ ہونے دیں۔ سکیورٹی کے حوالے سے سرگنگارام ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نعمان نے آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرگنگارام ہسپتال میں مریضوں اور ان کے لواحقین کی گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے ہسپتال سے فاصلہ پر پارکنگ ایریا مخصوص کیا گیا ہے جبکہ ہسپتال میں داخل ہونے والی تمام گاڑیوں کو معمول کے مطابق چیک کیا جارہا ہے۔

کوئٹہ میں ہونے والے سول ہسپتال کی ایمرجنسی کے باہر بم دھماکہ کے بعد ہسپتال میں سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کردیا گیا ہے اور ہسپتال کے تمام داخلی راسستوں پر تعینات سکیورٹی گارڈز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی گاڑی کو مکمل چیکنگ کے بغیر ہسپتال میں داخل نہ ہونے دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہسپتال کے مختلف حصوں کی مانیٹرنگ کے لئے لگائے گئے کلوزسرکٹ ٹی وی کیمروں کو بھی چیک کیا گیا ہے اور مانیٹرنگ کرنے والے سٹاف کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ مانیٹرنگ کے دوران کسی بھی اہلکار کی معمولی سی غفلت یا لاپروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے حادثہ کے بعد تمام ٹیچنگ وسرکاری ہسپتالوں کی سکیورٹی کو ہائی الرٹ کیا گیا ہے

وقت اشاعت : 08/08/2016 - 17:45:46

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں