مقبوضہ کشمیر میں شہادتوں کا سلسلہ جاری‘آزادی کے70پروانوں نے جانیں قربان کیں‘مقبوضہ ..
مقبوضہ کشمیر میں شہادتوں کا سلسلہ جاری‘آزادی کے70پروانوں نے جانیں ..

مقبوضہ کشمیر میں شہادتوں کا سلسلہ جاری‘آزادی کے70پروانوں نے جانیں قربان کیں‘مقبوضہ وادی میں ایک ماہ سے کرفیو‘بدترین انسانی المیے پر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی‘مقبوضہ وادی میں اشیاء خوردونوش کی شدید قلت ‘سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک سمیت حریت قیادت جیلوں اور گھروں میں نظر بند

سری نگر(اْردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔08 اگست۔2016ء ) مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند نوجوان برہان وانی کی شہادت کو30دن گزرگئے ہیں۔برہان کی شہادت کے بعد اٹھنے والی آزادی کی لہر کو دبانے کے لیے بھارتی فوج اب تک 70 کشمیریوں کو شہید کرچکی ہے۔ ایک ماہ قبل بھارتی فوج کے ہاتھوں برہان مظفر وانی کی شہادت نے کشمیر میں آزادی کی جدوجہد میں نئی روح پھونک دی۔

کشمیری عوام برہان کی شہادت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے جنہیں منتشر کرنے کے لیے بھارتی فوج نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک ماہ کے دوران 70کشمیری شہید ہوچکے ہیں جبکہ پیلٹ گن کے استعمال سے ساڑھے چھ ہزار کشمیری زخمی ہوئے جن میں سے بیشتر کی بینائی چلی گئی اور سیکڑوں معذور ہوگئے ، کٹھ پتلی انتظامیہ نے وادی کو ایک ماہ سے چھاؤنی میں بدل رکھا ہے۔

انٹرنیٹ ، موبائل فون سروس بند ہے۔ حریت رہنماؤں میں سے بیشتر گھروں میں نظر بند یا حراست میں ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ضلع شوپیان کے علاقے سیدیو میں بھارتی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک اور نوجوان عامر لون زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے پیر کو جاں بحق ہوگیا جس سے کشمیر میں گزشتہ 31روز سے جاری انتفادہ کے دوران شہید ہونے والے شہریوں کی تعدا 70ہوگئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق عامرلون 29جولائی کو بھارتی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہوا تھا اور وہ سرینگر کے صورہ ہسپتال میں زیر علاج تھا۔ ان کی شہادت سے 8جولائی کو بھارتی فورسز کے ہاتھوں ایک فرضی جھڑپ میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد پرامن مظاہرین پر بھارتی فوسز کی فائرنگ سے شہید ہونیوالے معصوم شہریوں کی تعداد 70ہوگئی ہے۔

دریں اثناء قابض حکام نے وادی کشمیر میں آج مسلسل 31ویں روز بھی کرفیو اور دیگر پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں۔ اسلام آباد، کلگام، شوپیان اور پلوامہ اضلاع میں مسلسل کرفیو نافذ ہے جبکہ سرینگر ، بارہمولہ اور کپوارہ اضلاع میں سخت پابندیاں جاری ہیں۔ حریت قیادت نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سول سیکرٹریت سرینگر اوردیگر انتظامی دفاتر کو جانے والے تمام راستے بلاک کردیں ۔

علاقے میں تعلیمی اور کاروباری ادارے مسلسل بند ہیں اور سڑکوں پر کوئی ٹریفک نہیں ہے۔قابض انتطامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چےئرمین سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک سمیت تقریباً تمام حریت قیادت کوجیلوں یا گھروں میں نظر بند رکھا ہے۔ بھارتی فورسز نے آج ضلع اسلام آباد کے علاقے بجبہارہ میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پیلٹ گن کا استعمال کرکے دو خواتین سمیت ایک درجن افراد کو زخمی کردیا۔

بھارتی فورسز بجبہارہ کے علاقے سیمتھن میں گھروں میں گھس گئی جس کے خلاف علاقے میں لوگوں نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران جہاں ہزاروں زخمیوں کے علاج و معالجہ میں طبی و نیم طبی عملے نے جانفشانی کے ساتھ کام کیا وہیں بھارتی فورسز نے محکمہ صحت کی114ایمبولینس گاڑیوں کی توڑپھوڑ کی اور 12 ڈرائیور وں کو تشدد کا نشانہ بناکرزخمی کردیا۔

محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ احتجاجی تحریک کے دوران گاڑیوں کی توڑ پھوڑ سے محکمے کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔محکمے کے مطابق سب سے زیادہ گاڑیوں کی توڑ پھوڑ ضلع اسلام آباد میں ہوئی جہاں 32گاڑیوں کو نقصان پہنچا جبکہ کولگام میں 20، پلوامہ میں 11،شوپیاں میں 2،سرینگر میں 6،بڈگام میں 12،کپوارہ میں 11،بارہمولہ میں 6، گاندربل میں 11اور بانڈی پورہ میں 3 ایمبولینس گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

محکمہ ہیلتھ سروسزکشمیر کے اسٹنٹ ایگزیکٹوانجینئر ریاض احمد نے بتایا کہ اس دوران 12ڈرائیوروں کو تشدد کانشانہ بناکر زخمی کردیا گیاجن میں سے 2 کو ہسپتالوں میں داخل کرانا پڑا۔ ریاض احمد نے کہا کہ پچھلے ایک ماہ کے دوران مختلف علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں مریضوں کو سرینگر کے ہسپتالوں میں منتقل کیاگیا اور ڈرائیور اْن مشکل حالات میں بھی کام کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک ماہ سے ہسپتالوں میں مریضوں کا بھاری رش ہے اور ایسے حالات میں اگر گاڑیوں کو چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گئی تو حالات انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔کئی ایک ایمبولنس ڈرائیوروں نے صحافیوں کو بتایا کہ اْن کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور انہیں پچھلے ایک ماہ کے دوران گاڑیوں سے نیچے اتار کر زدوکوب کیا گیا۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے قابض انتظامیہ کی طرف سے ہزاروں کی تعداد میں سپیشل پولیس آفیسرز بھرتی کرنے کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک آزادی کو اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں مٹانے کی ایک اور سامراجی چال ہے۔

ایک بیان میں کہا سید علی گیلانی نے کہا کہ اس کامقصدکشمیر میں’’اخوان‘‘ کو نئے سرے سے منظم کرنا ہے جس نے کشمیر میں کئی دہائیوں تک انسانیت سوز اور حیوانیت کا خونی کھیل کھیلا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکمران نوجوانوں کو ایس پی او کے نام پر روزگار فراہم کرنے کا ڈرامہ رچارہے ہیں حالانکہ قابض حکمرانوں کو یہاں کے عوام کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں ، جموں وکشمیر میں اس وقت جو بربریت اور سفاکیت کا مظاہرہ ہورہا ہے اْس میں مرکزی کردار پولیس ادا کر رہی ہے اور بھارتی حکمران اس فورس کومزیدوسعت دیکر کشمیریوں کے ہاتھوں کشمیریوں کا خون بہانے کا کھیل کھیل رہے ہیں تاکہ باہر کی دنیا کو یہ تاثر دیا جاسکے کہ یہاں ریاست کی اپنی پولیس صورتحال کو قابو کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

سید علی گیلانی نے عوام سے بالعموم اور نوجوان طبقے سے بالخصوص اپیل کی کہ وہ قابض انتظامیہ اور اس کی ایجنسیوں کے جھانسے میں نہ آئیں اورآزادی کی تحریک پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے چانکیائی پالیسی ساز کشمیر پولیس، ٹاسک فورس اورایس پی اوزکے ذریعے ظلم کے تمام ہتھکنڈے استعمال کرکے ہمارے ارادوں اور جذبہ آزادی کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ پروگرام کے مطابق کل سول سیکریٹریٹ سرینگر ،ڈی سی آفسز اورتحصیل آفسز کی طرف جانے والے تمام راستے بند کردیں۔انہوں نے ملازمین سے پروگرام کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے جموں وکشمیرلبریشن فرنٹ کے نائب چیئرمین شوکت احمد بخشی، مشتاق اجمل اور زونل صد نور محمد کلوال کو گرفتار کرلیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے نور محمد کلوال اور مشتاق اجمل کو مہجور نگر پل کے قریب ایک پارٹی رہنما کی والدہ کے انتقال کے سلسلے میں تعزیت پرسی سے واپس آتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ گرفتاری کے بعدانہیں راج باغ پولیس تھانہ منتقل کردیا گیاہے۔بھارتی پولیس نے بمنہ میں شوکت احمد بخشی کو بھی ایک چھاپے کے دوران گرفتارکر کے انہیں پولیس چوکی بمنہ منتقل کردیا ہے۔

اس سے قبل بھارتی پولیس نے فرنٹ کے ضلع پلوامہ کے رہنما شبیر احمد گنائی کو بھی گرفتار کرکے کٹھوعہ جیل منتقل کردیا تھا۔ادھر لبریشن فرنٹ کے سینئر رہنماء ظہور احمد بٹ جو 20 جوالائی سے پولیس حراست میں ہیں، غیر قانونی حراست اور جبری اقدامات کیخلاف گزشتہ روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں، جس کی وجہ سے انکی صحت مسلسل بگڑتی جارہی ہے۔ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چےئرمین محمد یاسین ملک نے گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کو غیر جمہوری عمل قراردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی کاروائیاں قابض حکمرانوں کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتی ہیں۔انہوں نے خبر دار کیا کہ اگر ظہور احمد بٹ کو کوئی گزند پہنچی تواس کی تمام تر ذمہ داری کٹھ پتلی حکمرانوں پر عائد ہوگی۔ ادھر سرینگر میں گزشتہ ایک ماہ سے کرفیو ،بندشو ں کی وجہ سے شہریوں کو اشیاء خوردونوش کی قلت کاسامنا ہے اور کشمیری سوکھی سبزیاں ، دالوں ، آلو اور پیاز پر اکتفا کرنے پرمجبور ہیں ۔

ایک اور اطلاع کے مطابق قابض بھارتی فورسز نے سرینگر کے علاقوں برزلہ اورہمدانیہ کالونی بمنہ میں گھروں میں گھس کر مکانوں اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی ہے۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ بھارتی پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس نے کئی مکانوں کی کھڑکیوں اور گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے اور جب لوگوں نے احتجاج کرنے کی کوشش کی تو سی آر پی ایف نے اْن پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔

جبکہ اولڈ برزلہ کی آبادی گزشتہ ایک ماہ سے گھروں میں محصور ہے جبکہ بھارتی فوسز نے علاقے کو خار دار تار لگا کر سیل کر دیا ہے۔ کسی بھی شہری کو آنے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز نے کئی مکانوں کے شیشے توڑ دیے اور نوجوانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ برزلہ پل پر سی آر پی ایف اور پولیس کی گاڑیاں دن بھر موجود رہتی ہیں اور یہاں سے اولڈ برزلہ کی طرف جانے والی سڑک پر خار دار تار لگا دی ہے جبکہ بھارتی فورسزنے رامباغ سے اولڈ برزلہ کو جانے والے راستوں کو بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے لوگ خوف ودہشت کے ماحول میں جی رہے ہیں۔

دریں اثناء نٹی پورہ اور رام باغ سرینگر کے مکینوں کا کہنا ہے کہ سی آر پی ایف شام ہوتے ہی اْن کی بجلی کاٹ دیتی ہے جس کے نتیجے میں علاقہ گزشتہ چار روز سے اندھیرے میں ڈوباہواہے۔ مقامی لوگوں نے صحافیوں بتایا کہ رام باغ بالا ، نٹی پورہ چوک ، آستان محلہ ،اولڈ جامع مسجد محلہ اور دیگر علاقے گزشتہ چار روز سے اندھیر ے میں ہیں اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وہ پانی کی بوند بوند کیلئے ترس رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سی آر پی علاقے میں خوف ودہشت پیدا کرنے کے لیے ایسے حربے استعمال کررہی ہے اور لوگوں کو دہشت کے ماحول میں زندہ رہنے پر مجبور کررہی ہے۔

وقت اشاعت : 08/08/2016 - 13:32:14

اپنی رائے کا اظہار کریں