نئے آڈیٹر رپورٹنگ ماڈل کے بارے میں آئی سی اے پی کا سیمینار
تازہ ترین : 1

نئے آڈیٹر رپورٹنگ ماڈل کے بارے میں آئی سی اے پی کا سیمینار

کراچی ۔ 17 مارچ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17 مارچ۔2016ء) انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاوٴنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی اے پی) نے لسٹڈ کمپنیوں کے نمائندوں کے لئے آئی سی اے پی ہاوٴس کراچی میں ”نئے آڈیٹر رپورٹنگ ماڈل - ایک بنیادی تبدیلی“ کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا۔ متعلقین اور صارفین کے لئے آڈیٹرز کی رپورٹ کی قدر میں اضافے کے لئے انٹرنیشنل آڈیٹنگ ایشورنش سٹینڈرڈز بورڈ (IAASB) نے آڈٹ رپورٹ سے متعلق آڈیٹنگ کے بارے میں بین الاقوامی سٹینڈرڈز کا ایک نظر ثانی شدہ سیٹ جاری کیا ہے۔

آڈیٹرز کی رپورٹ میں نظرثانی کی اہم خصوصیات میں آڈٹ کے اہم امور کا تعارف، جاری تشویش کا تجزیہ اور سالانہ رپورٹ کا حصہ بننے والی دیگر معلومات کے بارے میں رپورٹنگ شامل ہے۔ سٹینڈرڈز کے نظر ثانی شدہ سیٹ کا اطلاق دسمبر 15، 2016ء کو ختم ہونے والے عرصے یا اس کے بعد کے لئے مالی اسٹیٹمنٹس کے بارے میں آڈٹ رپورٹس پر ہوگا۔ لسٹڈ کمپنیوں کے لئے اہم آڈٹ امور کا تعارف ایک قابل ذکر اضافہ ہے جو نہ صرف آڈیٹر کی رپورٹ بلکہ مالی رپورٹنگ کے معیار کو زیادہ وسیع انداز میں تبدیل کر دے گا ، اور اس طرح سرمایہ کاروں اور دیگر اہم متعلقین کی معلوماتی قدر میں بھی اضافہ ہوگا۔

آئی سی اے پی کی سدرن ریجنل کمیٹی کے چیئرمین ذوالفقار اختر نے کہا ہے کہ ”یہ سیشن بنیادی تبدیلی کے بارے میں ہے اور یہ کہ یہ کیسے آڈٹ رپورٹ میں بھروسے میں اضافے کی حوالے سے قدر میں اضافہ کرنے جارہا ہے۔“آئی سی اے پی ساوٴتھ کے نائب صدر ندیم یوسف عادل نے کہا کہ ”آڈیٹر کی رپورٹ میں قابل ذکر تبدیلیوں پر غور کرتے ہوئے، انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاوٴنٹنٹس آف پاکستان ، ملک کے بہت سے شہروں میں آگہی سیمینارز منعقد کر رہی ہے۔

یہ سیشنز عملی اطلاق اور ان کی نتائج پر تبادلہ خیال کے لئے منعقد کئے جا رہے ہیں۔“انہوں نے کہا کہ ”انسٹی ٹیوٹ یہ یقین رکھتا ہے کہ مالی اسٹیٹمنٹس کی آڈٹ کی ادراکی قدر کے لئے آڈیٹر کی رپورٹنگ میں اضافہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو نتیجتاً مالی اسٹیٹمنٹس کی رپورٹنگ پر بھروسے میں اضافہ کرتا ہے جو کہ عوامی مفاد میں ہے۔“سدرن ریجن کمیٹی کے رکن اور سی پی ڈی کنوینر ارسلان خالد نے نئی آڈٹ رپورٹ کے پہلووٴں پر ایک پریزنٹیشن پیش کی۔

چیف آپریٹنگ آفیسر اور سیکریٹری آئی سی اے پی فیروز رضوی نے نئی آڈٹ رپورٹ کے اطلاق سے پیدا ہونے والے عملی مسائل کے بارے میں بات کی۔ چیئرمین آڈیٹنگ سٹینڈرڈز کمیٹی آئی سی اے پی فرخ رحمٰن نے سوالات و جوابات کے سیشن کا انعقادکیا۔صدر آئی سی اے پی حافظ محمد یوسف نے کہا کہ ”اس سیشن میں نئے آڈیٹر رپورٹ ماڈل کے بارے میں بہت زیادہ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

اگر کوئی بھی الجھن محسوس کی جارہی ہے تو وہ وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی چلی جائے گی۔“سیمینار میں شرکت کرنے والوں میں لسٹڈ کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز، چیف فنانشل آفیسرز اور آڈٹ کمیٹیوں کے چیئرمین شامل تھے۔ مہمانوں نے نئے آڈیٹر رپورٹنگ ماڈل اور اس بارے میں اپنے خیالات کا تبادلہ کیا کہ کارپوریٹ دنیاکے لئے نئی آڈیٹر رپورٹ کی کیا اہمیت ہے۔

وقت اشاعت : 17/03/2016 - 22:30:14

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں