علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے طلبہ کی تعداد 13 لاکھ سالانہ سے تجاوز کرچکی ہے، وائس ..
تازہ ترین : 1

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے طلبہ کی تعداد 13 لاکھ سالانہ سے تجاوز کرچکی ہے، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی

اسلام آباد ۔ 17 مارچ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17 مارچ۔2016ء) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے طلبہ کی تعداد 13 لاکھ سالانہ سے تجاوز کرچکی ہے، یہ تعداد ملک کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلبہ کی مجموعی تعد ادسے زیادہ ہے، یونیورسٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے مختلف اقدامات کئے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کا اوپن یونیورسٹی پر اعتماد تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں داخلوں کی تعداد میں تاریخی اضافہ ہورہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے سمسٹر بہار 2016ء کے داخلوں کے بارے میں منعقدہ انفارمیشن سیمینار سے اپنے ایک پیغام میں کیا ہے۔ طلبہ کے نام اپنے پیغام میں ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا ہے کہ داخلوں کی تاریخ میں بغیر لیٹ فیس چارجز کے 21مارچ تک توسیع اس لئے کی گئی تھی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ میری ذاتی کوشش ہے کہ علم حاصل کرنے کا ایک بھی خواہشمندداخلہ حاصل کرنے سے محروم نہ رہ سکے، اس نقطہ نظر سے ملک بھر میں یونیورسٹی کے تمام علاقائی دفاتر کو ہدایت کی گئی تھی کہ داخلوں کے بارے میں ملک کے ہر کونے میں انفارمیشن سیمینارز منعقد کرائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو تعلیمی نیٹ میں لائیں۔

اوپن ڈے/انفارمیشن سیمینار کا اہتمام ڈائریکٹوریٹ آف سٹوڈنٹس ایڈوائزری اینڈ کونسلنگ سروسز نے شعبہ داخلہ، ڈائریکٹر ریجنل سروسز، اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاقائی دفاتر کے تعاون سے کیاتھا۔ اوپن ڈے /انفارمیشن سیمینار میں مقامی کالجز کے طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ سمسٹر بہار 2016ء کے میٹرک تا پی ایچ ڈی پروگرامز کے داخلوں کی آخری تاریخ 21۔

مارچ مقرر ہے  داخلوں کی تاریخ میں کسی صورت توسیع نہیں کی جائے گی۔ داخلہ فارم اور پراسپکٹس اسلام آباد میں واقع یونیورسٹی کے مین کیمپس اور ملک کے مختلف شہروں میں موجود علاقائی دفاتر/رابطہ دفاتر میں قائم سیل پوائنٹس سے دستیاب ہیں۔ جبکہ ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کے پراسپکٹس اور داخلہ فارمز یونیورسٹی کی ویب سائٹ www.aiou.edu.pkسے ڈاؤن لوڈ بھی کئے جاسکتے ہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/03/2016 - 21:56:06

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں