پاک ایران تجارت اور ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے تناظر میں وزارت تجارت میں اعلیٰ ..
تازہ ترین : 1

پاک ایران تجارت اور ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے تناظر میں وزارت تجارت میں اعلیٰ سطحی اجلاس

ایران کے ساتھ تجارت کے معاملات میں بلوچستان کے کاشتکاروں کے مفادا ت کا تحفظ کریں گے اور انھیں ہر قسم کی پالیسی امداد فراہم کریں گے،وفاقی وزیرخرم دستگیر

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 مارچ۔2016ء)پاک ایران تجارت اور ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے تناظر میں وزارت تجارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں دونوں ممالک کے مابین تجارت میں اضافے کیلئے جامع حکمت عملی کی تیارکی گئی ۔اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر تجارت انجنئیر خرم دستگیر خان نے کی۔اجلاس میں سٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، وزارت نیشنل فوڈسکیورٹی اینڈ ریسرچ اور برآمدی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں کلکٹر کسٹمز کوئٹہ نے بتایا کہ بارڈر پر منظم کنٹرول کی بدولت پاک ایران سرحد پر محصولات میں تین گنا اضافہ ہوا ہے، اس سے غیر قانونی تجار ت میں حوصلہ افزا کمی واقع ہوئی اور تجارت رجسٹر ہونے سے ریونیو میں اضافہ ہوا ہے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندے نے بتایا کہ پاکستان میں ایران کے ساتھ بینکوں کے ذریعے تجارت میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں، اس معاملے میں قانون میں کوئی ابہام نہیں اور تاجر ایران کے ساتھ یورو کرنسی میں تجارت کر سکتے ہیں ۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارت کے معاملات میں بلوچستان کے کاشتکاروں کے مفادا ت کا تحفظ کریں گے اور انھیں ہر قسم کی پالیسی امداد فراہم کریں گے۔انھوں نے کہا کہ ایران سے پابندیوں کے خاتمے کے بعد تجارت کے مواقعوں سے بھر پور فائدہ اٹھانے کیلئے ایران میں وسیع پیمانے پر تجارتی نما ئشیں کرنے کا پروگرام ہے جس کیلئے متعلقہ ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں اور اس کا شیڈول جلد ہی جاری کر دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان ایران کو اپنی برآمدی اشیاء میں اضافہ کرنا چاہتا ہے اور روایتی برآمدی اشیاء کے ساتھ ساتھ گھریلو اپلائنسز ، لائٹ نجنئیرنگ اشیاء اور ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل کی برآمدات میں اضافے کیلئے کوشاں ہے۔اجلاس میں پاکستان دورے پر آئے ایرانی تجارتی ترویج کے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل اور کراچی میں ایرانی کمرشل کونسلر نے وزیر تجارت کی خصوصی دعوت پر شرکت کی۔

انھوں نے پاکستانی چاول ، کینو اور بلوچ برآمد کنند گان کے مسائل کے براہ راست جوابات دئیے اور انھیں متعلقہ ایرانی حکام تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ایران میں کھانے پینے کی اشیاء کی بڑی کھپت ہے اور پاکستانی کمپنی نے ایران کو 100میٹرک ٹن گوشت کی برآمد کا معاہدہ کیا ہے ، اس کی بدولت پاکستان سے فوڈ سیکٹر میں برآمدات میں مزید اضافہ ہو گا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 16/03/2016 - 21:01:14

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں