صوبہ میں سیاحت کے فروغ کیلئے ٹوورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کی پہلی سیاحتی پالیسی ..
تازہ ترین : 1

صوبہ میں سیاحت کے فروغ کیلئے ٹوورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کی پہلی سیاحتی پالیسی اہم سنگ میل ہے ‘محکمہ کا ایک سال میں سیاحت کی مد میں 50ارب روپے کا ہدف حاصل کرنا اچھا اقدام ہے ‘سیاحت کی ترقی کیلئے قلعہ بالا حصار کو پشاور کا سنٹر مقام بنائینگے ‘جس میں ہوٹلز اور دیگر سیاحتی سہولیات میسر ہونگی یا تمام چیزیں صوبہ کے ماسٹر پلان میں شامل ہے

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کاچھانگلہ گلی کے مقام پہلی سیاحتی پالیسی کی افتتاحی تقریب سے خطاب

ایبٹ آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 مارچ۔2016ء )پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاہے کہ صوبہ میں سیاحت کے فروغ کیلئے ٹوورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کی پہلی سیاحتی پالیسی اہم سنگ میل ہے محکمہ کا ایک سال میں سیاحت کی مد میں 50ارب روپے کا ہدف حاصل کرنا اچھا اقدام ہے سیاحت کی ترقی کیلئے قلعہ بالا حصار کو پشاور کا سنٹر مقام بنائینگے جس میں ہوٹلز اور دیگر سیاحتی سہولیات میسر ہونگی یا تمام چیزیں صوبہ کے ماسٹر پلان میں شامل ہے ان خیالات کا اظہار چھانگلہ گلی کے مقام پہلی سیاحتی پالیسی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ان کے ہمراہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری محمد اعظم خان ، صوبائی وزیر کھیل محمود خان ، مشیر برائے سیاحت عبدالمنیم خان ، صوبائی وزیر صحت شہرام ترکئی ، دیگر کئی ممالک کے سفیر،منیجنگ ڈائریکٹر ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا مشتاق احمد خان ، جی ایم ایڈمن اینڈ پراپرٹی سجاد حمید ، جنرل منیجر ٹی آئی سیز محمد علی سید ، ایڈوائزر ڈاکٹر علی جان سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی ۔

ٹوورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام پہلی سیاحتی پالیسی کی افتتاحی تقریب چھانگلہ گلی گلیات میں منعقدہوئی ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہاکہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبہ کی اپنی سیاحتی پالیسی بنانا دیگر صوبوں کیلئے مثال ہے اس سے قبل ملکی سیاحتی پالیسی تھی تاہم یہ پہلی سیاحتی پالیسی ہے جس پر ٹووراز م کارپوریشن اور پوری ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے ، امید ہے کہ ٹوورازم کاپوریشن اب اس سیاحتی پالیسی کو مکمل لاگو کرنے میں کامیاب ہو گا کیونکہ پالیسی بنانا آسان ہے تاہم اسے لاگو کرنا مشکل کام ہے ، صوبہ کی 60فیصد نوجوان نسل میں یوتھ پالیسی متعارف کروائینگے ، سیاحت کے فروغ کیلئے گلیات اور دیگر سیاحتی مقامات پر ریسورٹس بنائے جائینگے تاکہ یہاں پر سیاحوں کو راغب کرنے کیساتھ ساتھ ان کو سہولیات اور دیگر نئے سیاحتی مقامات دے سکیں ، انہوں نے کہاکہ صوبہ میں 400 ریسٹ ہاؤسز ہیں اور ان کو کمرشل لائز کیا جائے گا جس میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کو بھی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک سے بات کر کے کمرشل لائز کیا جائے گا تاکہ اس تک سیاحوں اور عام آدمی کی پہنچ ممکن ہو سکے ،آئی ڈی پیز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ ان کی واپسی سے قبل ملک کی تمام پارٹیز کو مل کر ان کیلئے پالیسی بنانی چاہیے یا پھر کوئی قانون ہونا چائیے تاکہ فاٹا کے یہ علاقہ ایک بار پھر دہشت گردی کی بھینٹ نہ چڑجائے ، اگر فاٹا خیبرپختونخوا میں شامل ہو جا تا ہے تو فاٹا میں معدنیات اور دیگر سیاحتی مقامات موجود ہیں جس کو سیاحت کیلئے آباد کیا جائے گا ، صوبہ میں بدھ مت اور دیگر آرکیالوجی کے لحاظ سے کافی مقامات موجود ہیں جبکہ سیٹھی ہاؤس ، گور گٹھڑی اور فصیل شہر کو یادگار بنانے کیلئے ماسٹر پلان ترتیب دیا گیا ہے جس پر جلد آٖغاز ہو جائے گا ۔

صوبہ میں بلین سونامی درخت کی کمپین میں 10کروڑ سے زیادہ درخت لگا دیئے گئے ہیں جبکہ اپریل تک 25کروڑ درخت لگا لئے جائینگے صوبہ میں 3بڑے نیشنل پارک بنائے جائینگے جس میں سیاحت سمیت والڈ لائف کو بھی محفوظ بنایا جائیگا صوبہ میں250 پرانی ثقافتی آثار موجود ہیں جو کہ بحال کرنے سمیت ان کو محفوظ بنایا جائے گا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 16/03/2016 - 19:54:29

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں