صدر ممنون حسین سے تاجکستان کے ایوان زیریں کے چیئرمین ظہروف شکروف کی ملاقات،دوطرفہ ..
تازہ ترین : 1

صدر ممنون حسین سے تاجکستان کے ایوان زیریں کے چیئرمین ظہروف شکروف کی ملاقات،دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

پاکستان خطے میں امن کا خواہشمند ہے ،مسئلہ کشمیر کو مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں،ممنون حسین

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 مارچ۔2016ء) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت سمیت تمام پڑوسی ممالک سے خوشگوار تعلقات کا خواہشمند ہے ، جموں و کشمیر کے مسئلہ کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہیے ہیں ، افغانستان میں امن پاکستان اور عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے ، افغانستان کی حکومت اور طالبا ن پر مذاکرات کے لیے بھرپور کوشش کررہے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے تاجکستان کے ایوان زیریں کے چیئرمین ظہروف شکروف سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ، ترجمان ایوان صدر کے مطابق بدھ کے روز تاجکستان کے ایوان زیریں کے چیئرمین نے یہاں ایوان صدر میں ملاقات کی ہے جس میں دو طرفہ تعلقات اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے ،صدر مملکت نے کہا کہ تاجکستان اور پاکستان کے درمیان دیرنہ تعلقات ہیں ،دنوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی کے لیے دفاعی تعاون خوش آئند ہے ،پاکستان ،تاجکستان کے ساتھ دفاعی شعبے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کر سکتا ہے ، پاکستان دفاعی شعبہ میں انسانی وسائل کی ترقی کے لیے تاجکستان سے تعاون کر سکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تعلقات کی مزید مضبوطی کے لیے عوامی رابطوں او ر تجارت کا فروغ ناگزیر ہے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہش ہے ، افغانستان میں امن کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں ، افغانستان کی حکومت اور طالبان بھی مذاکرات کے لیے کوششیں کر رہے جو ایک نیک شوگن ہے ،صدر مملک نے کہا کہ افغانستان میں امن پاکستان اور عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے ، پاکستان خطے میں امن کے لیے بھارت سمیت تمام پڑوسی ممالک سے خوشگوار تعلقات کا خواہشمند ہے ، اور بھارت سے جموں کشمیر کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کر نا چاہتے ہیں ۔

اس موقع پر تاجکستان کے ایوان زیریں کے چیئرمین ظہروف شکروف نے صدر مملکت کا بھرپور مہمان نواز پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اورتاجکستان صدیوں سے ثقافتی رشتہ میں منسلک ہیں ،پاک چین اقتصادی راہدری منصوبہ پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے خوشحالی کا پیغام ہے ، راہدری منصوبے سے تاجکستان بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ ۔

وقت اشاعت : 16/03/2016 - 17:33:08

اپنی رائے کا اظہار کریں