بلجیم اور فرانس کی پولیس نے مشترکہ طور پر ملک برسلز کے علاقہ فورے میں واقع ایودریز ..
تازہ ترین : 1
بلجیم اور فرانس کی پولیس نے مشترکہ طور پر ملک برسلز کے علاقہ فورے میں ..

بلجیم اور فرانس کی پولیس نے مشترکہ طور پر ملک برسلز کے علاقہ فورے میں واقع ایودریز میں ایک گھر پر چھاپہ مارا

برسلز(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 مارچ۔2016ء)بلجیم اور فرانس کی پولیس نے مشترکہ طور پر ملک برسلز کے علاقہ فورے میں واقع ایودریز میں ایک گھر پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران پولیس نے گھر کو چاروں اطراف سے گیرے میں لے کر گھر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں اندر چھپے تین ملزمان نے فائرنگ کرنا شروع کر دی۔ پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کرنے والا ایک ملزم پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا سہہ دوپہر تین کے شروع ہونے والا کرپشن شام ساڑھے چھ بجے ختم ہوا جس میں پولیس کے تین اہل کاربھی زخمی ہوئے ذرائع کے مطابق فرانس پولیس نے برسلز پولیس کوبتایا کہ پیرس حملوں کے کچھ ملزمان برسلز کے مختلف علاقوں میں ابھی بھی چھپے ہوئے ہیں ایک انداز کے مطابق پچھلے ایک ڈیڈھ ماہ سے فرانس پولیس کی اطلاع پر برسلزکی پولیس نے چند مشکوک جگہوں پر چھان بین شروع کردی جس پر وہ علاقہ فورے میں واقع ایووریز پراپنی تحقیقات کے مطابق پہنچے تووہاں موجود تین ملزمان میں سے دو فرار ہونے میں کامیاب ہوگے اور ایک حملہ آور کوساڑھے تین گھنٹے اور پولیس نے جوابی فائرنگ کے نتیجے میں مار گرایا۔

یاد رہے فورے کے علاقہ میں80فیصد مسلم آبادی آباد ہے اور یہاں بچوں کے سکول بھی زیادہ ہیں ۔ جبکہ پولیس ریڈمین اس وقت ہوئی جب سکولوں میں چھٹی ہونے میں صرف بیس منٹ باقی ہے۔ سارے علاقے میں خوف وحراس کی لہر ڈور گئی۔ پولیس نے سارے علاقے کو گھیرے میں لے کر نہ صرف ٹریفک معطل کردی بلکہ سکولوں اور گھروں میں بیٹھے لوگوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ گھروں سے نہ نکلیں۔

فائرنگ کی گونج سے علاقہ کے مکین سہم گئے پولیس کے ذرائع نے کہا ہے کہ پیرس حملوں کے کچھ ملزمان کوکافی عرصہ سے تلاش کیا جارہا ہے۔اور فورے کے علاقہ ایودریز کو ڈیڈھ ماہ سے چند مشکوک سرگرمیوں کی وجہ سے چھان بین کی جارہی تھی کہ آخر جب ریڈ کی گئی تو ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کرنا شروع کردی۔بلجیم کے وزیراعظم شارل میشل نے ہنگامی پریس کا نفرس طلب کرلی۔ پورے علاقے میں سخت سیکو رٹی کردی گئی تاکہ کسی ناخوشگوار واقعہ سے نبٹا جاسکے۔ آئندہ چند روز میں پورے برسلز میں سیکورٹی ہائی الرٹ کرکے دوبارہ تحقیقات کی جائیں گی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 16/03/2016 - 13:37:28

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں