مالاکنڈ آپریشن کے وقت دہشت گردوں کیخلاف عدالتوں میں سماعت نہیں ہو سکتی تھی ، سپریم ..
تازہ ترین : 1

مالاکنڈ آپریشن کے وقت دہشت گردوں کیخلاف عدالتوں میں سماعت نہیں ہو سکتی تھی ، سپریم کورٹ کے لاپتہ افراد کے حوالے سے از خود نوٹس پر اس کا نفاذ ہوا، اس میں فاٹا کی 7 ایجنسیاں اور 6بندوبستی علاقے شامل ہیں، سول پاور ریگولیشن 2011 کے تحت فاٹا میں کل 28 تفتیشی مراکز ، 258 افرا د زیر حراست ہیں ،تفتیشی مراکز میں کوئی خاتون زیر حراست نہیں

تفتیشی مراکز میں سہولیات کا فقدان ہیں،ہمارے پاس بجٹ نہیں کے وہاں قیدیوں کو سہولیات دے سکیں سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کو فاٹا امن و امان کے سیکر ٹری کی سول پاور ریگولیشن 2011 بارے بریفنگ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 مارچ۔2016ء) سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کوسول پاور ریگولیشن 2011 کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے فاٹا امن و امان کے سیکر ٹری شکیل نادر خان نے کہا ہے کہ مالاکنڈ آپریشن کے وقت دہشت گردوں کیخلاف عدالتوں میں سماعت نہیں ہو سکتی تھی ، سپریم کورٹ کے لاپتہ افراد کے حوالے سے از خود نوٹس پر اس کا نفاذ ہوا، جس میں فاٹا کی 7 ایجنسیاں اور 6بندوبستی علاقے شامل ہیں، ریگولیشن کا مقصد گرفتار افراد کی باعزت واپسی تھا، سول پاور ریگولیشن 2011 کے تحت فاٹا میں کل 28 تفتیشی مراکز ہیں جن میں سے6 آپریشنل ہیں اوران میں 258 افرا د زیر حراست ہیں ،تفتیشی مراکز میں کوئی خاتون زیر حراست نہیں ، تفتیشی مراکز میں سہولیات کا فقدان ہیں،ہمارے پاس بجٹ نہیں کے وہاں قیدیوں کو سہولیات دے سکیں، بار بار لکھنے کے باوجو بجٹ نہیں دیا گیا ۔

کمیٹی کا اجلاس قائم مقام چیئر مین سینیٹر محسن خان لغاری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو ا۔اجلاس میں سینیٹرز فرحت اﷲ بابر، نثار محمد ، ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی، ستارہ ایاز ، ثمینہ عابد، مفتی ابرارکے علاوہ وزارت سیفران کے طارق حیات اور صوبہ خیبر پختونخوا کے سیکرٹری قانون شکیل نادر خان ،قومی کمیشن برائے انسانی حقو ق کے ممبرز فضیلہ عالیانی ، چوہدری شفیق ،پیمرا کے جنرل منیجرز ناصر ایوب، وکیل خان، پی ایف یو جے صدر افضل بٹ ، بول ٹی وی کے نذیر لغاری، فیصل عزیز خان، سبوخ سیدنے شرکت کی ۔

سول پاور ریگولیشن 2011 کے حوالے سے سینیٹر فرحت اﷲ بابر کے سوالات کے جواب میں یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ کل 28 تفتیشی مراکز میں سے چھ اپریشنل ہیں اور258 افرا د زیر حراست ہیں پورے فاٹا کے لئے پارا چنار میں 150 قیدیوں کی ایک جیل ہے تفتیشی مراکز میں کوئی خاتون زیر حراست نہیں ۔ اور انکشاف ہوا ہے کہ تفتیشی مراکز کے لئے بار بار لکھنے کے باوجو بجٹ نہیں دیا گیا نواگئی ایف سی قلعے میں ایک مرکز تین چار کمروں پر اور دوسر امرکز لنڈی کوتل ایف سی قلعہ کی کوارٹر گارڈ میں بنایا گیا ہے ۔

مالاکنڈ اپریشن کے وقت دہشت گردوں کے خلاف عدالتوں میں سماعت نہیں ہو سکتی تھی ۔ سپریم کورٹ کے لاپتہ افراد شہریوں کے حوالے سے از خود نوٹس پر اس کا نفاذ ہوا جس میں فاٹا کی سات ایجنسیاں اور چھ بندوبستی علاقے شامل ہیں اوور سائٹ بورڈ قائم کر دیا گیا ہے گورنر نے افواج پاکستان کو اپنا ایک بھی اختیار نہیں دیا ہے ریگولیشن کا مقصد گرفتار افراد کی باعزت واپسی تھا اور مراکز میں زیر حراست افراد کے لواحقین کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی کوئی شکایات موجود نہیں ۔

ریگولیشن خاص لوگوں اور علاقے کیلئے ہے عام شہریوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا ۔سینیٹر نثار محمد نے کہا کہ پارلیمنٹ کی طرف سے کی گئی قانو ن سازی جس میں فوجی عدالتوں کا قیام بھی شامل ہے کے بعد ریگولیشن کی ضرورت نہیں آرڈنینس قانون سازی کے بعد از خود ختم ہو جاتے ہیں ریگولیشن اور قانون سازی پر گہری نظر سے توجہ دی جانی چاہیے دونوں کی حیثیت اور اہمیت کو بھی مد نظر رکھا جائے ۔

سینیٹر ستارہ ایاز نے 2011 سے ریگولیشن کے بعد اب تک تفتیشی مراکز اپریشن نہ ہونے پر تفتیش کا اظہار کیا ۔سینیٹر ثمینہ عابد نے کہا کہ بریفنگ پیپر بروقت فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ مکمل معلومات حاصل ہو سکیں جس کی سینیٹر فرحت اﷲ بابر اور نثار محمد نے بھی حمایت کی ۔ سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ بغیر بریفنگ پڑھے اجلاس کا مقصد بھی فوت ہے اور معاملات کو سلجھانے میں مشکل پیش آتی ہے ۔

سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ یہ تاثر ہے کہ بریفنگ جان بوجھ کر نہیں دی جاتی ۔ایگز یکٹ کمپنی اور بول ٹی وی نیٹ ورک کے معاملے پر وزارت داخلہ کی طرف سے بریفنگ کیلئے کسی ایک بھی ذمہ دار کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا گیا ۔سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ کسی مصروفیت و عدم شرکت کی وجہ سے آگاہ نہیں کیا گیا اور کہا کہ اگلے اجلاس میں وزارت داخلہ اپنی شرکت یقینی بنائے ۔ (رڈ)

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 15/03/2016 - 22:42:42

اپنی رائے کا اظہار کریں