تحفظ خواتین ایکٹ منتخب اسمبلی کا پاس کردہ ہے، اس کی واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ..
تازہ ترین : 1
تحفظ خواتین ایکٹ منتخب اسمبلی کا پاس کردہ ہے، اس کی واپسی کا سوال ہی ..

تحفظ خواتین ایکٹ منتخب اسمبلی کا پاس کردہ ہے، اس کی واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔وزیرقانون پنجاب

لاہور(ا ردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15مارچ۔2016ء)وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ تحفظ خواتین ایکٹ منتخب اسمبلی کا پاس کردہ ہے، اس کی واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحفظ خواتین ایکٹ میں قران و سنت کے منافی کسی چیز میں ترمیم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماءاور مذہبی لیڈر معمول کے عمل کو ٹارگٹ بنانے کی کوشش نہ کریں، بلکہ علماءاور مذہبی لیڈر امت مسلمہ کو درپیش گھمبیر صورتحال کا حل نکالیں۔

وزیر قانون پنجاب کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعتوں اور علماءنے ادھر کا رخ کیونکر کر لیا، سمجھ نہیں سکا، لگتا ہے علماء اور قائدین کے پاس اور کوئی کام نہیں جو اسے لیکر بیٹھ گئے ہیں۔ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ حکومت کو شاباش دینے کے بجائے سے الٹا مغربی ایجنڈا کہہ کر ایشو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، علماءاور اسلامی جماعتیں خوامخوہ کے مسائل پیدا کر نے کے بجائے ملکی استحکام میں اپنا کردار ادا کریں۔

وقت اشاعت : 15/03/2016 - 21:42:08

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں