مذہبی جماعتوں کا تحفظ نسواں ایکٹ کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ
تازہ ترین : 1
مذہبی جماعتوں کا تحفظ نسواں ایکٹ کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ

مذہبی جماعتوں کا تحفظ نسواں ایکٹ کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ

لاہور(ا ردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15مارچ۔2016ء)مذہبی جماعتوں نے پنجاب میں حال ہی میں منظور کیے جانے والے تحفظ نسواں ایکٹ کو فوری طور پر واپس لینے اور اسلامی نظریاتی کونسل کے مشاورت سے نیا قانون لانے کا مطالبہ کیا ہے۔یہ مطالبہ لاہور میں جماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹر منصورہ میں مختلف مذہبی جماعتوں کے رہنماو¿ں کے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیے میں کیا گیا۔

اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تحفظ خواتین سے متعلق موجودہ قوانین پر سختی سے عمل کروایا جائے۔ حکومت 27 مارچ سے پہلے نئے قانون کو واپس لے ورنہ 1977 جیسی تحریک جنم لے سکتی ہے۔ علما سیکیولر اور لبرل نظریات کا مقابلہ مل کر کریں گے۔اعلامیے میں ممتاز قادری کی پھانسی کی بھی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ توہین مذہب کے جرم میں جیلوں میں بند مجرموں کے مقدمات کا فیصلہ قانون کے مطابق جلد کیا جائے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ دہشت گردی کو مدارس سے جوڑنے کا عمل بند کیا جائے اور مدارس اور مساجد پر لگائی گئی نامناسب پابندیاں ختم کی جائیں۔اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل کی تمام شقوں پر عمل درآمد کیا جائے۔کانفرنس میں نیا قانون لانے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مذاکراتی کمیٹیاں بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ یہ اجلاس موجودہ حکمرانوں کے پے در پے خلاف شریعت اور آئین و نظریہ پاکستان کے منافی اقدامات و بیانات کی شدید مذمت کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی ہے پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ریاستی مذہب اسلام اور قرار داد مقاصد آئین کا لازمی حصہ ہے ۔اسی آئین کے مطابق حلف اٹھانے والوں کی طرف سے پاکستان کو لبرل بنانے کے اعلانا ت اور اسلامی دفعات کے منافی اقدامات ،آئین پاکستان سے بغاوت اور بانیان پاکستان و شہیدان وطن کی روحوں سے بے وفائی ہے ۔

اجلاس واشگاف الفاظ میں اعلان کرتا ہے کہ نظام مصطفی کے نفاذ ناموس رسالت کے تحفظ اور خاندانی نظام کی بقا کے مقاصد کے لئے تمام دینی جماعتیں اور طبقات متحد ہیں اور پاکستان کو اسلام کی منزل سے ہٹانے کے خواب دیکھنے والے مٹھی بھر سیکولر و بے دین طبقات کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دئےے جائیں گے ۔اجلاس واضح کرتاہے کہ دینی معاملات پر ہم مشترکہ مو¿قف اور مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے اور مشترکہ تحریک چلانے پر اتفاق کرتے ہیں۔

غیر شرعی ،غیر اسلامی ،غیر آئینی اقدامات و اعلانات کے خلاف ہم ایک ہیں اور سیکولر و لبرل نظریات کا مل کراور ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔ دینی جماعتوں کامشترکہ اعلان ہے کہ 27مارچ تک پنجاب حکومت متنازعہ بل واپس لے اور وفاقی حکومت اسے یقینی بنائے۔2اپریل کو علماءو مشائخ کانفرنس اسلام آباد میں منعقد کی جائے گی اور آئندہ لائحہ عمل اور تحریک کااعلان کیاجائے گا۔

تحریک کے دوران اسلام آباد، لاہور ،کراچی اور ملک بھر میں تمام جماعتوں کی طرف سے مشترکہ عظیم الشان تحفظ ناموس رسالت ریلیوں اور بڑے بڑے جلسوں کا اہتمام کیاجائے گا۔ ایک سٹیرنگ کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے جو خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں نیا بل تشکیل دینے کے لیے علماءاور ماہرین سے مشاورت اور آئندہ کے تمام مراحل اور تحریک کالائحہ عمل طے کرے گا۔

اجلاس حکومت کو خبر دار کر تا ہے کہ اگر اس نے خلاف شریعت طرز عمل ترک نہ کیا اور تحفظ ناموس رسالت ،سودی معیشت کے خاتمہ ، خاندانی نظام کی بربادی کے مغربی ایجنڈے سے لاتعلقی اور مساجد و مدارس کے تحفظ کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوںسے پہلوتہی کی تو ان شاءاللہ 1977ءکی تحریک نظام مصطفی ﷺ سے بڑی تحریک اٹھے گی اور جس کا مقابلہ کرنا کسی کے بس میں نہیں ہو گا۔

اجلاس واضح کرتا ہے کہ تحفظ ناموس رسالت اور عشق مصطفی ﷺ امت مسلمہ کا قیمتی سرمایہ ہے ۔اسلام دشمن قوتوں کوخوش کرنے کے لیے عاشق رسول غازی ممتاز حسین قادری شہید کو پھانسی دے کر حکومت نے پاکستان کے اسلامی تشخص قانون ناموس رسالت اور قانون عقیدہ ختم نبوت کو عملاً غیر مو¿ثر بنانے کی کوشش کی ہے اور اسلامیان پاکستان کے دلوں کو چھلنی کیا ہے لیکن تمام حکومتی اقدامات اور میڈیا کے مکمل بلیک آو¿ٹ کے باوجود عاشق رسول ملک ممتاز حسین قادری شہید کے جنازہ میں لاکھوں عاشقان مصطفی کی شرکت اور کراچی میں تاریخی ناموس رسالت ریلی اور ملک بھر میں ریلیوں اور جلسوں ،مظاہروں میں لاکھوں اہل ایمان کی پرجوش شرکت واضح کرتی ہے کہ قو م نے عاشق رسول کو سزائے موت سمیت حکومت کے تمام غیر اسلامی اقدامات کو مسترد کر دیا ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور تحفظ ختم نبوت ﷺ کے سلسلہ میںتمام آئینی و قانونی تقاضوں پر فی الفور اور مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائے ۔

نیز توہین رسالت کے جرم میں جیلوں میں بند تمام مجرموں کے کیسوں کا قانون کے مطابق فوری فیصلے کئے جائیں۔ عدالتوں سے دی گئی سزاﺅں پر فوری عمل درآمد کیاجائے اور آسیہ مسیح ملعونہ سمیت کسی بھی مجرم کو بیرون ملک بھیجنے کی قطعاً جسارت نہ کی جائے۔پنجاب اسمبلی کا تحفظ خواتین ایکٹ۔خاندانی وحدت کو توڑنے اور خاندانی نظام کو تباہ کرنے کے مغربی ایجنڈے کی تکمیل کا ذریعہ ہے یہ قانون عورت کے ساتھ ناانصافیوں اور شرح طلاق میں اضافہ کا سبب بنے گااور اس پر عمل درآمد سے عورت زیادہ غیر محفوظ ہو گی۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی کا یہ ایکٹ مکمل طور پر واپس لیا جائے اور پھر اسلامی نظریاتی کونسل و علمائے کرام کے مشورہ سے قرآن وسنت کی روشنی میں خواتین کے تحفظ کا نیا بل لایاجائے ۔ ہم یہ بھی اعلان کرتے ہیں کہ عورتوں کو اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیے گئے تمام حقوق اور تحفظ و تکریم کے لیے بھر پور مہم چلائی جائے گی ۔

ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیںکہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی جیل سے رہائی اور پاکستان واپسی کے لیے اپنی ذمہ داریاں فوری طور پر ادا کرے۔ سودحرام قطعی ہے اور سود خوروں کے خلاف اللہ و رسول ﷺ کی طرف سے اعلان جنگ ہے لیکن آئین پاکستان کے واضح آرٹیکلز اور وفاقی شرعی عدالت و شریعت ایپلٹ بینچ سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلوں کے باوجود حکومت پوری ڈھٹائی سے سودی معیشت برقرار رکھنے پر بضد ہے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت عدالتوں میں فریق بننے کی بجائے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے تمام سودی قوانین کا فوری خاتمہ کر کے ملکی معیشت کو سودی نظام سے پاک کرے ۔ یہ اجلاس دہشت گردی کو دینی مدارس اور مذہبی کارکنوں سے جوڑنے ،علمائے کرام کو ہراساں کرنے ،توہین آمیز طریقہ سے ناجائز گرفتاریوں ،لاو¿ڈ سپیکر پر ناروا پابندیوں بغیر مقدمہ چلائے بغیر ثبوت و شواہد ماورائے عدالت شہریوں کو غائب کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے ۔

اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ مساجد و مدارس پر عائد تمام نارواپابندیاں ختم کی جائیں ۔ناجائز گرفتار شدگان اور لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے ۔ اجلاس غازی ممتاز حسین شہید کی نماز جنازہ ،ناموس رسالت ریلی کراچی اور ناموس رسالت ﷺ کے حوالہ سے کسی بھی سرگرمی کی کوریج پر مکمل پابندی عائد کرنے اور خبر جاننے اور خبر دینے کے بنیادی حق سے محرومی پر حکومت پیمر ا اور میڈیا مالکان کی شد ید مذمت کرتا ہے۔

اجلاس میڈیا مالکان پر واضح کرتا ہے کہ وہ اسلامیان پاکستان کے دینی جذبات سے تصادم کا راستہ اختیار کرنے سے باز آئیں اوراپنے مالی مفادات کے لئے امت سے کٹ جانے سے گریز کریں ۔اجلاس کسی بھی درجہ میں کوریج کرنے والے چینلزاور سوشل میڈیا کی تحسین کرتا ہے کہ جس نے الیکٹرانک میڈیا کے بلیک آو¿ٹ اور منفی طرز عمل کو مکمل طور پر ناکام بنا دیاہے ۔

ہم کوریج کرنے والے اداروں اور ملک بھر میں دینی کارکنوں کے خلاف مقدمات کی فی الفور واپسی اوروفاقی وزیراطلاعات و چیئرمین پیمرا کی فوری برطرفی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اجلاس روزنامہ جنگ کی طرف سے 23مارچ1940ءکی قرار داد پاکستان کے حوالہ سے ”نئی قرار داد کا وقت آگیا ہے “کے عنوان سے مہم چلانے کو ابہام اور فکری و نظریاتی انتشار پید اکرنے کا ایک ذریعہ سمجھتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ خود بانی پاکستان حضرت قائد اعظم ؒ کی صدارت میں پیش کردہ قرار داد پاکستان اوربانیانِ پاکستان کی منظورکردہ قرار داد مقاصد ملک و قوم اور آئین کی بنیادی اساس ہے ۔

انہیں متنازعہ بنانے کی ناپاک جسارت انتہائی خطرناک اور ملک دشمنی کے متراد ف ہے ۔اجلاس روزنامہ جنگ کے مالکان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ یہ مہم فوری طور پر بند کریں ۔یہ اجلاس الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا و دیگر ذرائع سے بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی ،نیم برہنہ لڑکیوں پر مشتمل بھارتی اشتہارات ،کیٹ واک ، فیشن شوز اور سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں موسیقی وڈانس محفلوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتاہے اور حکومت پر زور دیتاہے کہ وہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 31کے مطابق اسلامی معاشرہ قائم کرنے کے لیے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے۔

وقت اشاعت : 15/03/2016 - 19:49:54

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں