قومی اسمبلی میں خواتین ارکان کا ایم این ایز کی ترقیاتی سکیموں میں حصہ نہ ملنے کے ..
تازہ ترین : 1

قومی اسمبلی میں خواتین ارکان کا ایم این ایز کی ترقیاتی سکیموں میں حصہ نہ ملنے کے خلاف احتجاج ،ایوان سے واک آؤٹ

چوہدری برجیس طاہر او ر رانا افضل ک جانب سے منانے کی کوششیں رائیگاں، خواتین ارکان ایوان میں واپس نہ آئیں حکومت کاشتکاروں کو سبسڈی دے ،بھارت سے زرعی اجناس منگوانے پر پابندی عائد کی جائے ، مولانا امیر زمان اور دیگر کا نکتہ اعتراض پر اظہار خیال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 مارچ۔2016ء) قومی اسمبلی میں خواتین ارکان کا ایم این ایز کی ترقیاتی سکیموں میں حصہ نہ ملنے کے خلاف منگل کو احتجاج کے بعد ایوان سے واک آؤٹ، جماعت اسلامی کی رکن اسمبلی عائشہ سید نے نکتہ اعتراض پر ایوان کی توجہ خواتین ارکان کو ترقیاتی فنڈز نہ ملنے کی جانب مبذول کرائی اور تمام خواتین ارکان سے احتجاجاً واک آؤٹ کرنے کی درخواست کی، حکومتی بنچوں پر موجود خواتین ارکان کے علاوہ دیگر تمام جماعتوں کی خواتین ارکان نے واک آؤٹ میں حصہ لیا، ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی نے وفاقی وزیر امور کشمیر چوہدری برجیس طاہر اور پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ رانا محمد افضل کو خواتین ارکان کو منانے کیلئے بھیجا مگر وہ ایوان میں واپس نہ آئیں۔

منگل کو عائشہ سید سمیت طاہرہ اورنگزیب ، شیر اکبر خان، مولانا امیر زمان، نواب یوسف تالپور، شیخ صلاح الدین اور ڈاکٹر اطہر جدون نے بھی نکتہ اعتراض پر اہم قومی ایشوزاور حلقوں کے مسائل پر ایوان کی توجہ مبذول کرائی۔عائشہ سید نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں پٹرول 62روپے کی بجائے 66 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے، خواتین ارکان کو ترقیاتی فنڈز دیئے جائیں کیونکہ خواتین ایوان کا 80 فیصد کارروائی چلاتی ہیں، ہم فنڈز کی عدم فراہمی پر ایوان سے واک آؤٹ کرتی ہیں، اس پر پی ٹی آئی، پی پی پی اور جماعت اسلامی کی ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئیں۔

طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ معذور افراد کی امداد اور ملازمتوں میں کوٹے کے حوالے سے میرا بل زیر التواء ہے، اسے جلد فائنل کیا جائے۔ شیر اکبر خان نے کہا کہ ضلع بونیر ملک کا پسماندہ ترین ہے، مطالبہ ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن کو بھی سی پیک سے منسلک کیا جائے۔ مولانا امیر زمان نے کہا کہ بلوچستان کے زمینداروں کو کارڈز فراہم نہیں کئے جا رہے، بلوچستان میں دہشت گرد ایف سی کی وردی میں وارداتیں کرتے ہیں۔

نواب یوسف تالپور نے کہا کہ گندم کی کٹائی کا موسم آ چکا ہے، پاسکو کی ذمہ داری ہے کہ وہ امدادی رقم پر خریداری یقینی بنائے، ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ پاسکو نے سندھ اور پنجاب کیلئے کیا ٹارگٹ مقرر کر رکھے ہیں، حکومت کاشتکاروں کو سبسڈی دے اور بھارت سے زرعی اجناس منگوانے پر پابندی عائد کرے۔ شیخ صلاح الدین نے کہا کہ ایم کیو ایم کا لائسنس یافتہ اسلحہ ضبط کیا گیا تھا جو واپس کیا جائے۔ ڈاکٹر اظہر جدون نے کہا کہ ہزارہ میں ریلوے کی بکنگ ایجنسی بند کی جا رہی ہے، جس کی بندش روکی جائے۔

وقت اشاعت : 15/03/2016 - 18:44:25

اپنی رائے کا اظہار کریں