تحفظ نسواں بل بارے مسلم لیگ (ن) کو بھی علم نہیں تھا، وزیر اعظم نے شہباز شریف کی باز ..
تازہ ترین : 1

تحفظ نسواں بل بارے مسلم لیگ (ن) کو بھی علم نہیں تھا، وزیر اعظم نے شہباز شریف کی باز پرس بھی کی ہے،مولانا فضل الرحمان کا انکشاف

منصورہ میں مذہبی جماعتوں کے رہنماوٴں کا اجلاس ، تحفظ حقوق نسواں کے حوالے سے لائحہ عمل کی تشکیل پر غور

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 مارچ۔2016ء) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انکشاف کیا ہے کہ تحفظ نسواں بل کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کو بھی علم نہیں تھا اور اس بل پر وزیر اعظم نے شہباز شریف کی باز پرس بھی کی ہے۔لاہور میں جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر منصورہ میں مذہبی جماعتوں کے رہنماوٴں کا اجلاس ہوا جس میں تحفظ حقوق نسواں کے حوالے سے لائحہ عمل کی تشکیل پر غور کیا گیا۔

میڈیارپورٹ کے مطابق اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے فون کرکے انہیں ملاقات کی دعوت دی، انہوں نے شہباز شریف سے ملنے سے اعتراض کیا، جس پر ان سے وزیراعظم نواز شریف نے رابطہ کیا اور ملاقات کی دعوت دی۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم محمد نواز شریف نے حقوق نسواں سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کے بارے میں پارٹی کو بھی لا علم رکھا گیا، وزیر اعظم نے شہباز شریف کو مسئلے کو فوری ختم کرنے کی ہدایت کی۔

مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ان سے کہا کہ کیا وہ یہ سوچ سکتے ہیں وہ کوئی چیز قرآن و سنت کے منافی کوئی کام کرسکتے ہیں، وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ ملک میں بحران پیدا نہیں کرنا چاہتے، وفاق کی سطح پر تمام علماء اکرام سے مل کر خواتین کے تحفظ کا ایک بل لایا جائے گا، اس سلسلے میں پنجاب کی سطح پر کمیٹی تشکیل دی گئی ہے،جس کی سربراہ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کریں گے۔

اجلاس کے دوران جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے تھے کہ نواز شریف برسر اقتدار آکر اچھے کام کریں گے لیکن سب کچھ الٹ ہو رہا ہے، توہین رسالت قانون کوختم کرنیکی کوششیں کی جارہی ہیں، تحفظ حقوق نسواں بل پر مزاکرات بے سود ہوں گے، اس بل کے خلاف ڈٹ جائیں اور تحریک کے ذریعے اسے ختم کرائیں۔مجلس وحدت المسلمین کے رہنما علامہ امین شہیدی نے کہا کہ اگر سر ٹھیک ہو جائے تو پھر سارا دھڑ ٹھیک ہو جاتا ہے، ہمیں پوری دنیا پرمسلط نظام کے ایجنڈے کو سمجھنے کی ضرورت ہے، ایسے لوگوں کو لایا جاتا ہے جو مغرب کے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں، عورت کے مقام کو ختم کر کے نمائشی چیز بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وقت اشاعت : 15/03/2016 - 18:02:17

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں