ایران اور آسٹریلیا کے تعلقات نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ،جواد ظریف
تازہ ترین : 1

ایران اور آسٹریلیا کے تعلقات نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ،جواد ظریف

کینبرا ۔ 15 مارچ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 مارچ۔2016ء) ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران اور آسٹریلیا کے تعلقات نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کینبرا میں آسٹریلوی ہم منصب جولی بشپ کے ساتھ ایک مشترکہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور آسٹریلیا کے درمیان تعلقات تاریخی اہمیت کے حامل ہیں اور ان تعلقات کو فروغ دینے کے لئے نئے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔

محمد جواد ظریف نے جولی بشپ کے ساتھ ملاقات میں تعمیری مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کے ساتھ مختلف شعبوں بشمول اقتصادی و تجارتی، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مذاکرات ہوئے ہیں جبکہ انتہا پسندی و دہشت گردی جیسے منظم جرائم بھی شامل ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ تشدد کے خلاف مہم میں سنجیدہ تعاون کی ضرورت ہے اور ایران، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور تشدد و انتہا پسندی کے خلاف مہم سے متعلق سنجیدہ عزم رکھتا ہے۔

انھوں نے دہشت گردی کے خلاف مہم کے بارے میں ایران و آسٹریلیا کے نقط نظر سے متعلق کہا کہ شام اور یمن میں دہشت گردی کے خلاف مہم کے بارے میں ایران و آسٹریلیا، مشترکہ نقط نظر رکھتے ہیں اور دونوں ملکوں کو چاہئے کہ داعش کے مقابلے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلام، امن و دوستی اور انتہا پسندی کا مخالف دین ہے مگر اس وقت مسلمان ہی تشدد کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔

مشترکہ پریس کانفرنس میں آسٹریلیا کی وزیر خارجہ جولی بشپ نے بھی ایران کے خلاف پابندیوں کے خاتمے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا نے ایران کے خلاف پابندیاں ختم کردی ہیں اور وہ ایران کے ساتھ اقتصادی و تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے آمادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے وزیر خارجہ کے ساتھ یمن اور سعودی عرب کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، اپنا دورہ نیوزی لینڈ مکمل کر کے پیر کی رات آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا پہنچے جہاں انھوں نے اس ملک کی وزیر خارجہ کے علاوہ آسٹریلیا کے وزیر تجارت و سرمایہ کاری سے بھی ملاقات کی اور آسٹریلیا کی خارجہ، دفاع اور تجارتی امور کی کمیٹی میں علاقائی و عالمی مسائل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 15/03/2016 - 14:27:07

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں