یورپ میں پناہ کی تلاش میں آنے والے اپنی مرضی سے کسی یورپی ملک کا انتخاب نہیں کر ..
تازہ ترین : 1
یورپ میں پناہ کی تلاش میں آنے والے اپنی مرضی سے کسی یورپی ملک کا انتخاب ..

یورپ میں پناہ کی تلاش میں آنے والے اپنی مرضی سے کسی یورپی ملک کا انتخاب نہیں کر سکتے یورپی یونین کو یہ بات واضح انداز میں کرنا چاہیے۔آسٹرین چانسلر

ویانا(ا ردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15مارچ۔2016ء) آسٹریا کے چانسلر فیمان کا کہنا ہے کہ یورپ میں پناہ کی تلاش میں آنے والے اپنی مرضی سے کسی یورپی ملک کا انتخاب نہیں کر سکتے اور یورپی یونین کو یہ بات واضح انداز میں کرنا چاہیے۔فیمان نے یورپی یونین سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ پاکستان اور مراکش جیسے ممالک سے آنے والے تارکین وطن کو یورپ میں پناہ ملنے کے امکانات نہایت کم ہیں۔

اس لیے یونین کو ان ممالک کے ساتھ مذاکرات کر کے یقینی بنانا چاہیے کہ وہ اپنی شہریوں کی واپسی میں تعاون کریں۔آسٹریائی چانسلر نے تارکین وطن کی سالانہ حد مقرر کرنے کے اپنے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریا ایک خاص حد تک ہی مہاجرین کو پناہ دے سکتا ہے۔جرمن چانسلر انگیلا میرکل پر تنقید کرتے ہوئے فیمان کا کہنا تھا کہ میرکل کو بھی جرمنی میں مہاجرین کی حد مقرر کرنا چاہیے۔

ایک انٹرویو میں فیمان نے کہا ہمیں وضاحت کرنا ہو گی تاکہ کوئی بھی ایسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو سکے کہ جرمنی پہنچنے والے ہر تارک وطن کو پناہ دی جا رہی ہے۔ویانا حکومت نے شمالی افریقی ممالک اور افغانستان کے بعد تارکین وطن کی حوصلہ شکنی کے لیے جلد ہی پاکستان میں بھی تشہیری مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آسٹریا کی وزارت خارجہ کے مطابق اشتہاری مہم کے دوران پاکستانی شہریوں کو یہ بتایا جائے گا کہ آسٹریا میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے قوانین مزید سخت ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب ڈچ حکومت کے مطابق رواں برس کے دوران ہالینڈ میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دینے والے ایک چوتھائی تارکین وطن کا تعلق ’محفوظ‘ ممالک سے ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ہالینڈ میں سیاسی پناہ دیے جانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔17 ملین نفوس پر مشتمل اس یورپی ملک میں گزشتہ برس کے دوران تقریبا 60 ہزار نئے تارکین وطن پناہ کی تلاش میں پہنچے تھے۔ ڈچ حکام اس بحرانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ’محفوظ ممالک‘ سمجھے جانے والے ملکوں سے آنے والے پناہ گزینوں کی درخواستوں پر جلد از جلد فیصلے کر رہے ہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 15/03/2016 - 11:36:46

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں