سپیکر قومی اسمبلی کا وزارت داخلہ اورتحفظ خوراک کے کچھ سوالات کے ایک سال کا عرصہ ..
تازہ ترین : 1

سپیکر قومی اسمبلی کا وزارت داخلہ اورتحفظ خوراک کے کچھ سوالات کے ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود جوابات نہ آنے اور بعض وزارتوں کے سیکرٹریز کی لابی میں عدم موجودگی پر شدید برہمی کا اظہار

اگر بیورو کریسی کو میری زبان سمجھ نہیں آتی تو اسی زبان میں سمجھاؤں گا جو یہ سمجھتے ہیں ، ایاز صادق کا فوری سیکرٹری داخلہ کو سپیکر چیمبر میں بلانے کا بھی حکم 2018 تک لوڈ شیڈنگ پرمکمل قابو پا لیا جائے گا ،2017 کے اختتام تک 10 ہزار میگا واٹ اضافی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر دی جائے گی ، آئندہ سال بھاشا ڈیم پر کام کا آغاز کر دیا جائے گا ، پیپلز پارٹی کے دور میں بجلی کی پیداوار میں 17 ہزار میگا واٹ تھی ،اسے اڑھائی سالوں میں 17 ہزار 900 میگا واٹ تک پہنچا دیا،وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی ، پارلیمانی سیکرٹریز تحفظ خوراک ، قومی صحت اور ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے وفقہ سوالات میں ارکان کے سوالوں کے جواب

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 مارچ۔2016ء) قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات میں وزارت داخلہ اور وزارت فوڈ سیکیورٹی کے بعض سوالات کے ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود جوابات نہ آنے اور بعض وزارتوں کے سیکرٹریز کی لابی میں عدم موجودگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ریمارکس دیئے کہ اگر بیورو کریسی کو میری زبان سمجھ نہیں آتی تو اسی زبان میں سمجھاؤں گا جو یہ سمجھتے ہیں ، سپیکر نے فوری طورپر سیکرٹری داخلہ کو سپیکر چیمبر میں بلانے کا بھی حکم جاری کیا ، وقفہ سوالات میں حکومت کی طرف سے ایوان کو آگاہ کیا گیا کہ 2018 تک ملک میں لوڈ شیڈنگ پر قابو پا لیا جائے گا ،2017 کے اختتام تک 10 ہزار میگا واٹ اضافی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر دی جائے گی ، 2017 میں بھاشا ڈیم پر کام کا آغاز کر دیا جائے گا ، پیپلز پارٹی کے دور میں بجلی کی پیداوار میں 17 ہزار میگا واٹ تھی جسے اڑھائی سالوں میں 17 ہزار 900 میگا واٹ تک پہنچا دیا ۔

پیر کو وقفہ سوالات میں حکومت کی طرف سے وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی ، پارلیمانی سیکرٹری فوڈ سیکیورٹی رجب بلوچ ، پارلیمانی سیکرٹری قومی صحت ڈاکٹر درشن اور پارلیمانی سیکرٹری برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے ارکان کے سوالات کے جواب دیئے۔ سید نوید قمر نے کہا کہ وقفہ سوالات میں متعدد سوالوں کے جواب موصول نہیں ہوئے بالخصوص پہلا سوال 21 ویں سیشن میں پوچھا گیا اور 30 ویں سیشن میں بھی جواب نہیں آیا سپیکر اس کا نوٹس لیں اور رولنگ دیں ۔

سپیکر نے کہا کہ یہ سوال 18 مارچ کو کابینہ سیکرٹریٹ نے داخلہ کو بھجوایا انہوں نے معاملے پر سیکرٹری داخلہ کو طلب کیا اور کہا کہ لگتا ہے کہ اسی زبان میں بات کرنی پڑے گی جو زبان بیورو کریسی سمجھتی ہے ۔ بیگم حسنین کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری قومی صحت ڈاکٹر درشن نے کہا کہ ہیپاٹائٹس کنٹرول کے چار پروگرام چاروں صوبوں میں چل رہے ہیں ۔

پنجاب میں 80، سندھ میں 54 ، کے پی کے میں 33 اور بلوچستان میں 4 مراکز کام کر رہے ہیں ۔ گزشتہ پانچ سالوں میں پنجاب میں 94500 ، سندھ میں 1 لاکھ 19 ہزار 717 ، کے پی کے میں 31 ہزار 317 اور بلوچستان میں 4029 مریضوں کا علاج کیا گیا مجموعی طور پر پورے پاکستان میں 2 لاکھ 49 ہزار 563 مریضوں کا علاج کیا گیا ۔ قومی انسداد ٹی بی پروگرام کے تحت گزشتہ 5 سالوں میں 9 لاکھ 41 ہزار 889 لوگوں کا علاج کیا گیا ۔

ساجدہ بیگم کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری پورٹس اینڈ شپنگ میاں امتیاز احمد نے کہا کہ ملک میں اس وقت پورٹ قاسم، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور گوادر پورٹ کے نام سے 3 پورٹس اتھارٹیز کام کررہی ہیں ۔ شاہدہ رحمانی کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے پانی و بجلی نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی اراضی کی فراہمی کا کام جاری ہے اس سال دسمبر میں یہ پراسیس مکمل ہو گا ۔

2017 میں کام کا آغاز ہو گا حکومت اپنے وسائل سے مکمل کرے گی ۔ پیپلز پارٹی کے دور میں بجلی کی پیداوار 14 ہزار میگا واٹ تھی جسے 3 سال میں 17 ہزار 900 میگا واٹ کر دیا ہے ۔ 2017 میں 18 ہزار سے زائد بجلی پیدا ہو گی ۔ 2018 تک لوڈ شیڈنگ پر قابو پا لیا جائے گا مارچ2018 تک نیشنل گرڈ میں 9 سے 10 ہزار میگا واٹ بجلی مزید شامل کر دیں گے ۔ نندی پور پاور پراجیکٹ کا نظر ثانی شدہ پی سی ون 59 ارب روپے کا بنا تھا ہم نے اسے 54 ارب پر مکمل کیا ہے ۔

توانائی کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے پارلیمانی سیکرٹری فوڈ سیکیورٹی نے شہریار جتوئی کے سوال کے جواب میں کہا کہ وزیر اعظم کے کسان پیکج میں 348 ارب روپے کسانوں کی مدد کے لئے رکھے گئے اس سے کسانوں کو 147 ارب کا براہ راست فائدہ ہو گا ۔ سندھ کے علاوہ کسی صوبے نے پروگرام میں اپنا 50 فیصد حصہ نہیں دیا ۔ پنجاب کے 33 اضلاع میں کپاس اور چاول کے کاشتکاروں کو 12 ایکڑ کاشت کرنے پر فی کس 5000 روپے مدد دی گئی ۔

166 تقسیم کار مراکز قائم کیے گئے ہیں صوبے کے 16لاکھ کسانوں میں 32 ارب روپے تقسیم کرنے کا پروگرام ہے ۔ زرعی ترقیاتی بنک نے 102 ارب کے کوٹے میں 38 ارب روپے تقسیم کرائے ہیں 28 ملین پنجاب ، 7 ملین سندھ ، 2 ارب کے پی کے اور بلوچستان میں 13 کروڑ تقسیم کیے جا چکے ہیں ۔ رجب بلوچ نے کہا کہ وفاق صرف گندم کی امدادی قیمت مقرر کرتا ہے چاول کی قیمت صوبے طے کرتے ہیں ۔

ڈاکٹر درشن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 2016 کے پہلے 8 ماہ میں صحت کے لئے 20 ارب 70 کروڑ 19 لاکھ روپے کے فنڈز محتص کیے گئے ۔ ہیپاٹائٹس کی ادویات کی قیمتیں انڈیا سمیت خطے کے سارے ممالک سے زیادہ سستی ہیں ۔ ایڈز کے علاج کے لئے 2014-15 میں 3 کروڑ کی رقم مختص کی گئی 2 کروڑ 60 لاکھ روپے کی رقم خرچ کی گئی ۔ وزارت پانی و بجلی کی طرف سے دیئے گئے ایک تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ اس وقت سب سے سستلی بجلی ہائیڈل سے حاصل ہوتی ہے جس کا ریٹ 1 روپے 78 پیسے ہے ، گیس سے 7.97 روپے ، نیوکلیئر سے 8.33 روپے اور ایس پی پیز کے ذریعے 9.06 روپے فی یونٹ بجلی حاصل ہوتی ہے ۔

سولر سے سب سے مہنگی بجلی 22 روپے فی یونٹ حاصل ہوتی ہے ۔ ملک میں ہائیڈل سے کل 6902 میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے ۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے مکانات و تعمیرات نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسلام آباد میں سرکاری مکانات کی تعداد 17613 ہے جو مختلف درجوں کے ہیں شازیہ صوبیہ کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ 2013-14 میں یوریا کھاد پر 11 ارب 2014-15 میں 4.1 ارب کی سبسڈی دی گئی

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/03/2016 - 21:40:03

اپنی رائے کا اظہار کریں