دراکھالہ ڈاکخانہ میں بی آئی ایس پی کے تحت آنیوالی رقم پوسٹ مین کی بجائے اس کی طرف ..
تازہ ترین : 1

دراکھالہ ڈاکخانہ میں بی آئی ایس پی کے تحت آنیوالی رقم پوسٹ مین کی بجائے اس کی طرف رکھے گئے پرائیویٹ شخص کے ہاتھوں سے بانٹی جا نے لگی

وڈھ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 مارچ۔2016ء)دراکھالہ ڈاکخانہ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت آنیوالی رقم پوسٹ مین کی بجائے پوسٹ مین کی طرف سے رکھی گی پرائیویٹ شخص کے ہاتھوں سے بانٹی جانے لگی ۔ گزشتہ روز ACوڈھ نے وڈھ بازار کے قریب چھاپہ مار کر مذکورہ شخص کو لاکھوں کے حساب سے ر قم جو ڈاکخانہ دراکھالہ کی میں انکم سپورٹ پروگرام کے تحت آئے ہوئے ر قم سے تھی کو برآمد کیا تھا کاروائی کرنے کے بجائے مذکورہ شخص کو علاقہ کے معتبرین کی کوششوں سے رہا کیا گیا ڈاکخانہ خضدار کے آفیسران کے مذکورہ پراؤیٹ شخص کی ڈاکخانہ دراکھالہ میں کام کرنے کا علم ہے مگر نہ جانے کیونکر اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہورہی ہے اس سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں جبکہ مذکورہ شخص نے پوسٹ مین کے ساتھ ملکر مستحقین کی کئی فارمز کو ہڑپ کررہی ہیں جبکہ دوقسط ادا کرنے کے بجائے ایک قسط سے 500کی کٹوتی کرکے ٹھیکداری نظام کے تحت وصولی ہوتی ہے ایک شخص ایک فارم سے لیکر 100فارم تک کی رقم کی وصولی کرتی ہیں وہ مستحقین کی رقم بھی وہاں سے کٹوتی ہونے کے بعد 2500کی صورت میں ملتی ہے صرف بہانوں سے مستحقین کو ٹرخاکر خاموش کرنے کوشش ہوتی ہے لوگ بند ڈاکخانہ کا روزانہ چکر کاٹ کاٹ کر مایوسی کا شکار ہے دراکھالہ ،آرینجی اورناچ ،سونارو اور دیگر علاقوں کے مستحقین نے نیب سے فوری کاروائی کرنے کی اپیل کی ہے عوامی حلقوں کے مطابق انہوں نے کئی دفعہ اس پوسٹ مین اور پرؤیٹ شخص کے خلاف کاروائی کرنے کی اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا مگر کوئی بھی عمل نہیں ہورہا ہے تفصیلات کے مطابق دراکھالہ ڈاکخانہ پوسٹ میں کی عوام کے ساتھ ظلم جاری ہے اس ظلم میں خضدار کے اعلیٰ حکام برابر کے حصہ دار ہے پوسٹ مین اپنی مرضی سے جب چاہیے عوام کو پمنٹ کریں یا نہ کریں جبکہ پوسٹ مین اور اسکے پراؤیٹ ساتھی جو ایک قسط سے پوسٹ مین سے لاکھوں کے ڈیمانڈ پر کام کراہا ہے جبکہ ڈاکخانہ دراکھالہ کی بجائے پوسٹ مین وڈھ بازار میں اپنی دوکاندار لگا کر روزانہ لوگوں کو خوار کرنے پر مجبور کرہاہے جبکہ مستحقین کے مطابق ان کے کئی فارمز کو غائب کردیا گیا ہے انکے قسط آنے کے باوجود غائب کیا گیا ہے جن کا ثبوت ان کے پاس ہے مگر کوئی بھی عمل نہیں ہورہا ہے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/03/2016 - 17:24:55

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں