پاکستانی معیشت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنے اہداف حاصل کر لیے
تازہ ترین : 1

پاکستانی معیشت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنے اہداف حاصل کر لیے

معیشت کے منصوبہ سازوں کی پوری توجہ بقایا جات کی ادائیگیوں اور مالی خسارے پر ہے ۔ٹیکس وصولی بہتر، اخراجات کنٹرول ، مہنگائی کی شرح بھی کم رہی ۔ حکومت نے معیشت کے ارتقاء کیلئے اقتصادی راہداری منصوبے سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کر لیں ہیں، معیشت میں بنیادی اصلاحات نہ لائی گئیں تو اقتصادی راہداری منصوبہ بھی بہترین کارکردگی نہیں دکھا سکے گا،آئی پی آر رپورٹ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 مارچ۔2016ء) تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے پاکستان کی معیشت کے بارے میں ششماہی رپورٹ برائے جولائی ۔دسمبر 2015-16 جاری کر دی ہے ۔جس کے مطابق پاکستانی معیشت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں تاہم یہ ابھی اپنے اصل ہدف سے کافی پیچھے ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستان میں معیشت کے منصوبہ سازوں کی پوری توجہ بقایا جات کی ادائیگیوں اور مالی خسارے پر ہے ۔

صوبوں کے سرپلس ہونے کے باوجود جولائی ۔دسمبر2015-16میں تجارتی خسارہ 1.7فیصد تھا جو کہ سال کیلئے اپنے ہدف کے اند ر ہی رہا ۔ٹیکس وصولی بہتر رہی اور اخراجات بھی کنٹرول رہے نیز مہنگائی کی شرح بھی کم رہی ۔آئی پی آر رپورٹ کے مطابق سالانہ ہدف چھ فیصد کے مقابلے میں، گروتھ کی شرخ کم رہی ۔ بڑے پیمانے کی مینو فیکچرنگ3.9فیصد رہی۔ جہاں تک زراعت کا تعلق ہے کپاس اور چاول جیسی دو اہم فصلوں کی پیداوار میں کمی آئی ۔

اگرچہ گنے کی پیدوار پچھلے سال کی نسبت اچھی تھی لیکن اس نے بھی 68ملین ٹن سے اپنا ہدف مس کر دیا ۔ جہاں تک سرمایہ کاری کا تعلق ہے حکومت اس میں بھی اپنا دیا گیا ہدف پورا نہیں کر سکی ۔یہ کریڈٹ پرائیویٹ سیکٹر کو جاتا ہے جہاں پر مشینری کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہاں بھی یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ سرمایہ کاری کو دوام بخشنے کیلئے کافی ہے ۔

بجلی کی پیداوار جس میں جولائی سے دسمبر تک درمیانہ درجے کا اضافہ ہو رہا تھا ملک کی معاشی سرگرمیوں پر اثر انداز ہو رہا ہے ۔آئی پی آر رپورٹ کے مطابق بقایاجات کی ادائیگیاں حکومت کیلئے اصل چیلنج ہیں برآمدات میں کمی اورکم ایف ڈی آئی کیوجہ سے حکومت کو بیرونی قرضوں پرجو کہ انتہائی مہنگے ریٹ پر لیے جا رہے ہیں انحصار کرنا پڑ تا ہے جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ملک آہستہ آہستہ بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے جس کے اثرات آنے والے برسوں میں ظاہر ہو نگے ۔

جہاں تک برآمدات کا تعلق ہے پچھلے چھ ماہ میں برآمدات 15فیصد تک گر گئی ہیں۔ ٹیکسٹائل جو کہ ہماری اہم برآمد ہے پچھلے 6ماہ میں اس کی برآمد میں 9فیصد تک کمی ہوئی ہے ۔آئی پی آر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے معیشت کے ارتقاء کیلئے اقتصادی راہداری منصوبے سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کر لیں ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جب تک معیشت میں بنیادی اصلاحات نہ لائی گئیں اس وقت تک اقتصادی راہداری منصوبہ بھی بہترین کارکردگی نہیں دکھا سکے گا نیز اقتصادی راہداری منصوبے کی وجہ سے بیرونی قرضوں میں اضافہ ہو گا لہذا حکومت کو چاہیے کہ اس منصوبے پر سنجیدگی سے عمل کرتے ہوئے اس کو موثر بنائے تاکہ اس سے ملکی معیشت کیلئے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے۔

آئی پی آر کی رپورٹ کے مطابق بیرونی قرضہ پاکستان کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے جو کہ پاکستان کیلئے بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے ۔رپورٹ میں شفارش کی گئی ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کرے کیونکہ یہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ مقام فکر ہے کہ ملک کی گروتھ ایک شکنجے میں پھنس چکی ہے لہذا ملک کو اس دلدل سے نکالنے کیلئے حکومت کو چاہیے کہ اپنی اقتصادی پالیسوں پر نظر ثانی کرے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/03/2016 - 16:24:45

اپنی رائے کا اظہار کریں