چینی عدلیہ نے کرپشن پر زبردست دباؤ برقرار رکھنے کا تہیہ کررکھا ہے ، چیف جسٹس
تازہ ترین : 1

چینی عدلیہ نے کرپشن پر زبردست دباؤ برقرار رکھنے کا تہیہ کررکھا ہے ، چیف جسٹس

گذشتہ سال سابق رہنما ژو ینگ کانگ سمیت 22 سابق اعلیٰ اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی گئی

بیجنگ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 مارچ۔2016ء) چین کے جوڈیشل حکام نے اتوار کو کہا کہ ملک حکام کے تین سال پرانی انسداد دہشتگردی جاری رکھنے کے پیش نظر کرپشن پر ” زبردست دباؤ “ برقرار رکھے گا ،گذشتہ سال سابق رہنما ژو ژانگ کانگ سمیت وزارتی سطح یا اس سے اوپر کے مجموعی طورپر 22چینی سابق اہلکاروں کے خلاف عدالتی کارروائی کی گئی جبکہ 41کے خلاف رسمی تحقیقات کی گئیں جو کہ 2014ء میں 28سے زیادہ ہیں ۔

پراسیکیورٹرجنرل کاؤ جیانگ منگ نے یہ بات سپریم پیپلز پروکیوریٹوریٹ ( ایس پی پی ) کی گذشتہ سال کے بارے میں ورک رپورٹ پیش کرتے ہوئے قانون سازوں کو بتائی ۔ چیف جسٹس ژاؤ جیانگ نے بھی کہا کہ چینی عدالتوں نے ژو اور 15دوسرے سینئر حکام کی طرف کارروائی مکمل کر لی ہے جو کہ کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن کے بارے میں پارٹی اور ملک کے عزم صمیم کا آئینہ دار ہے ۔

”شیروں اور مکھیوں“ دونوں کو نشانہ بنانے کی انسداد رشوت ستانی کی تین سال سے زائد عرصے کی اعلیٰ پیمانے کی مہم میں مختلف اہلکاروں کو ان کی حیثیت اور کرپشن کی سطح کے مطابق سزائیں سنائی گئیں ۔اس مقبول مہم کی رفتار میں کمی کے اب تک کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں ۔ ایس پی پی کی ورک رپورٹ کے مطابق 2003اور 2015کے درمیان تین برسوں میں وزارتی سطح یا اس سے اوپر کی سطح کے قریباً 80سابق اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کی جا چکی ہیں ۔

چیف جسٹس ژاؤ نے کہا کہ ہم کرپشن پر زبردست دباؤ برقرار رکھیں گے ، پروکیوریٹرجنرل کاؤ کے مطابق یہ اعداد و شمار گذشتہ سال کی تعداد کے مقابلے میں کم ہے، 2015ء میں مجموعی طورپر 54249اہلکاروں کے خلاف رشوت ستانی کے 40834میں ان کے ملوث ہونے کے خلاف تحقیقات کی گئیں ، گذشتہ سال 55101حکام کے خلاف 41487کیسوں میں تحقیقات کی گئیں ان میں 4568اہلکار ڈویژن یا اس کے اوپر کی سطح کے اور 769اہلکار علاقائی سطح یا اس سے اوپر کے ہیں۔

کاؤ نے کہا کہ ” شیروں “کے سلسلے میں پراسیکیورٹر نے رشوت ستانی اور خورد برد کے 490کیسوں کی تحقیقات کی جن میں ایک ملین ژوان (154083ڈالر )فی کس سے زیادہ کی رقم شامل ہے ۔8200سے زائد رشوت پیش کرنیوالوں کے علاوہ 13000سے زائد اہلکاروں کیخلاف تحقیقات کر کے رشوت وصول کرنے پر سزائیں دی گئیں ۔کاؤ نے کہا کہ ”مکھیوں “ کے سلسلے میں حصول اراضی ، سماجی بیمہ ، تعلیم اور میڈی کیئر سروسز کے علاوہ زرعی شعبہ کے نچلی سطح کے 20500سے زائد اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کی گئیں اور سزا دی گئی ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/03/2016 - 15:56:38

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں