پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن میں موجودہ دور حکومت میں 691 نئے افراد کو بھرتی کیا ..
تازہ ترین : 1
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن میں موجودہ دور حکومت میں 691 نئے افراد کو ..

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن میں موجودہ دور حکومت میں 691 نئے افراد کو بھرتی کیا گیا!۔

یومیہ خسارہ 10 کروڑ سے تجاوز ،ایم بی اے ڈگری ہولڈر کو ٹیکنیشن بھرتی کرنے کا انکشاف ،موجودہ دور حکومت میں اعلیٰ عہدوں سمیت کیڈٹ پائلٹس‘ آئی ٹی سٹاف‘ سینئر ٹیکنیشن سمیت کئی عہدوں پر بھرتیاں کی گئیں

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 مارچ۔2016ء) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن میں موجودہ دور حکومت کے اڑھائی سے زائد عرصے میں 691 نئے افراد کو بھرتی کیا گیا‘ گزشتہ سال 420 افراد کو پی آئی اے کا حصہ بنایا گیا‘ قومی ایئرلائن کے مجموعی نقصانات 250 ارب سے زیادہ ہے جبکہ یومیہ خسارہ 10 کروڑ سے تجاوز کرگیا ہے‘ ایم بی اے کی ڈگری رکھنے والے کو ٹیکنیشن بھرتی کرنے کا انکشاف بھی ہوا ہے‘موجودہ دور حکومت میں اعلیٰ عہدوں سمیت کیڈٹ پائلٹس‘ آئی ٹی سٹاف‘ سینئر ٹیکنیشن سمیت کئی عہدوں پر بھرتیاں کی گئیں۔

پی آئی اے کے ذمہ 330ارب روپے کا قرضہ اور ماہانہ 4ارب 10 کروڑ روپے شرح سود ادا کئے جانے کا انکشاف بھی کیا گیا‘ 14ہزار 703 مستقل ملازمین کے ہوتے ہوئے 35 سو عارضی ملازمین رکھے گئے‘ ذرائع کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن میں حکومت کا موجودہ حصہ 91.7 فیصد ہے جبکہ 4.4 فیصد پبلک شیئرز سمیت 3.9 فیصد ملازمین کی ٹرسٹ کا ہے۔ پی آئی اے کے پاس 38جہاز موجود ہیں جن کی اوسطاً عمر تقریباً گیارہ سال ہے۔

فی جہاز پی آئی اے میں ملازمین کی تعداد 387 ہے۔ پی آئی اے کے پاس اے 320 کے 11‘ بوئنگ777 کے 11اور اے ٹی آر 72 اور 42کے بھی 11 جہاز موجود ہیں جبکہ اے 310 کے پانچ جہاز ہیں۔ 2013 میں اکیس جہاز تھے 2015 میں 38 جبکہ 2017 میں پی آئی اے کے پاس 43جہاز ہونگے۔ پی آئی اے میں 14703 مستقل ملازمین سمیت 35 سو عارضی ملازمین موجود ہیں پاکستان میں پی آئی اے ملازمین کی تنخوا دوسرے ممالک سے کم ہے سب سے زیادہ تنخواہ ایئرفرانس کے ملازمین کی ہے پی آئی اے کو مالی سال 2015 میں دو ارب بیس کروڑ کا منافع ہوا سال کا کل کاروبار 99 ارب کا ہوا جبکہ رواں سال 113 ارب کے کاروبار کا ہدف رکھا گیا ہے ملک کے 22شہروں سمیت دنیا کے 27 ممالک میں پی آئی اے کی پروازیں جاتی ہیں۔

پی آئی اے کے ذمہ 330 ارب روپے کی رقم لگیسی لون کی مد میں واجب الادا ہے جس پر چار ارب دس کروڑ روپے ماہانہ شرح سود ادا کیا جارہا ہے۔

وقت اشاعت : 13/03/2016 - 15:53:45

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں