وفاق چاروں صوبے ، کشمیر وفاٹا، کے الیکٹرک اور نجی شعبہ 6کھرب 57ارب سے زائدکے مقروض ..
تازہ ترین : 1

وفاق چاروں صوبے ، کشمیر وفاٹا، کے الیکٹرک اور نجی شعبہ 6کھرب 57ارب سے زائدکے مقروض نکلا

نجی شعبے کے ذمے 263 ارب ،سندھ حکومت 74 ارب ،آزاد کشمیر 60 ارب ،فاٹا 39 ارب اور کے الیکٹرک 32 ارب روپے کی نادہند ہیں ،وزارت پانی و بجلی کا انکشاف 5.5کھرب کی ریکوری کیلئے لائحہ عمل طے نہ ہوسکا، 1کھرب69کروڑ کے نادہندہ گان کے کیسز نیب کو بھیجے جاسکے

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 مارچ۔2016ء)وزارت پانی و بجلی نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی حکومت ،چاروں صوبائی حکومتوں،آزاد جموں و کشمیر ،فاٹا ، کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی سمیت پرائیوٹ سیکٹر سے 6کھرب ،57ارب ،30کروڑ واجبات باقی ہیں،سب سے زیادہ نجی شعبے کے ذمے 263 ارب روپے کے بقایاجات ہیں، جبکہ سندھ حکومت 74.11ارب ،آزاد جموں و کشمیر حکومت 60.2ارب ،فاٹا 39.5ارب اور کے الیکٹرک بھی 32.59ارب کی مقروض نکلی۔

حیران کن طور پر وزارت پانی وبجلی نے صرف 1کھرب69کروڑ کے نادہندہ گان کے کیسز نیب کو بھیجے،جبکہ 5.5کھرب روپے سے زائد واجبات کی ریکوری کیلئے کیسزنیب کو نہیں بھیجے گئے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کے ذمے 21.91ارب روپے وزارت پانی و بجلی کے واجبات باقی ہیں جبکہ پنجاب حکومت کے ماتحت ادارو ں کے ذمے 4.9ارب ،خیبر پختونخوا حکومت کے 1.87ارب،سندھ حکومت کے 74.11 اور بلوچستان حکومت کے ماتحت ادارو ں کے ذمے 4.52ارب رو پے کے واجبات اوجب الادا ہیں، ذرائع کے مطابق صوبائی حکومتوں کے ذمے ٹیو ویل سبسڈی کے تحت پنجاب کے ذمے 3.84ارب ،خیبر پختونخوا کے ذمے 7کروڑ،سندھ کے ذمے 8کروڑ اور بلوچستان حکومت کے ذمے 15.48ارب روپے کے واجبات باقی ہیں،ذرائع کے مطابق ایگری کلچر بلوچستان صارفین شےئر ز کی مد میں بھی115.92ارب روپے کے واجبات باقی ہیں۔

دوسری جانب آزاد جموں و کشمیرحکومت کے ذمے 60.02ارب ، فاٹا کے ذمے 39.50ارب ، کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ذمے 32.59ارب اور پرائیوٹ سیکٹر کے ذمے 263.86ارب روپے کے واجبات باقی ہیں۔ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے صارفین کی جانب سے کورٹ کیسز کی وجہ سے 18.60ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی تاخیر کا شکار ہے۔دوسری جانب حیران کن طور پر وزارت پانی و بجلی نے کل6کھرب ،57ارب ،30کروڑ میں سے صرف ایک کھرب 69کروڑ روپے کے واجبات کی ادائیگی کیلئے نیب کو کیسز ارسال کئے ہیں جبکہ 5.5کھرب روپے سے زائد واجبات کی ریکوری کیلئے کیسزنیب کو نہیں بھیجے گئے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/03/2016 - 15:11:54

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں