کاشتکار بہاریہ کماد کی کاشت فروری سے وسط مارچ تک مکمل کر لیں محکمہ زراعت پنجاب ..
تازہ ترین : 1

کاشتکار بہاریہ کماد کی کاشت فروری سے وسط مارچ تک مکمل کر لیں محکمہ زراعت پنجاب

کماد کی ترقی دادہ اقسام کی بروقت کاشت اور جدید پیداواری ٹیکنالوجی پر عمل پیرا ہو کر فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کریں ترجمان

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 مارچ۔2016ء)کاشتکار بہاریہ کماد کی کاشت فروری سے وسط مارچ تک مکمل کر لیں۔ محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے کاشتکاروں کو سفارش کی ہے کہ وہ کماد کی ترقی دادہ اقسام کی بروقت کاشت اور جدید پیداواری ٹیکنالوجی پر عمل پیرا ہو کر فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کریں ۔کما دکاشت کیلئے بہتر نکاس والی بھاری ا ور ہلکی میرا زمین کا انتخاب کریں۔

کماد کی اگیتی تیار ہونے والی ترقی دادہ اقسام میں سی پی ایف 243، ایچ ایس ایف 240 ، ایچ ایس ایف 242، سی پی 77-400 اور سی پی ایف 273 اوردرمیانی تیار ہونے والی ترقی دادہ اقسام میں ا یس پی ایف ۔245، ایس پی ایف 234 ، ایس پی ایف 213 اور سی پی ایف 246 شامل ہیں۔ سی پی ایف 247 اورایس پی ایف- 234 صرف راجن پور، بہاولپور اور رحیم یار خان کے اضلاع کیلئے موزوں ترین قسم ہے۔

سی او جے 84 پچھیتی تیار ہونے والی زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل قسم ہے۔چار آنکھوں والے 13 تا 15 ہزار سمے یا تین آنکھوں والے 17 تا 20 ہزار سمے فی ایکڑ ڈالیں۔ سموں کی یہ تعداد گنے کی موٹائی کے لحاظ سے تقریباً 100تا 120 من بیج سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ کاشت میں تاخیر یا زمین کی صحیح تیاری نہ ہو تو بیج کی مقدار میں 10 تا 15 فیصد اضافہ کر دیں۔ ہمیشہ صحتمند، بیماریوں اور کیڑوں سے پاک فصل سے بیج کا انتخاب کریں اور گری ہوئی فصل سے بیج نہ لیں ۔

خاص طور پر ایسے کھیت سے بیج ہر گز نہ رکھیں جس میں رتا روگ کی بیماری موجود ہو۔ لیری (یکسالہ) فصل سے بیج کا انتخاب کریں۔ بیج کی تیاری کے وقت گنے کاصرف اوپر والا حصہ استعمال کریں جبکہ نیچے والاحصہ مل کو بھیج دیں۔بیج کو پھپھوندکش زہروں کے محلول میں 3 سے5 منٹ تک بھگو کر کاشت کریں۔ زمین کی تیاری کے وقت روٹا ویٹر یا ڈسک ہیرو چلا کر پچھلی فصل کی باقیات کو زمین میں ملا دیں۔اگر 18 انچ گہری کھیلیاں بنانی ہوں تو زمین کی تیاری کے وقت سب سائیلر کا استعمال کریں اور 3 سے 4 دفعہ عام ہل چلا کر زمین کو خوب بھربھرا کر لیں۔

وقت اشاعت : 13/03/2016 - 15:04:25

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں