2015ء میں کھیلوں کی دنیا کو کئی تنازعات نے جکڑے رکھا
تازہ ترین : 1

2015ء میں کھیلوں کی دنیا کو کئی تنازعات نے جکڑے رکھا

2015ء میں کھیلوں کی دنیا کو کئی تنازعات نے جکڑے رکھا

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔یکم جنوری۔2016ء)2015 میں کھیلوں کی دنیا کو کئی تنازعات نے جکڑے رکھا جن میں فٹبال کی عالمی فیڈریشن فیفا میں مالی بدعنوانی اور بین الاقوامی ایتھلیٹکس میں ڈوپنگ سکینڈل دنیا کو جھنجھوڑدینے کے لیے کافی تھے۔ رپورٹ کے مطابق فیفا کے صدارتی الیکشن سے قبل سوئٹزرلینڈ کے ایک ہوٹل پر پولیس کے چھاپے میں فٹبال کی عالمی فیڈریشن کے متعدد سرکردہ عہدیدار حراست میں لیے گئے اور پھر اس معاملے نے اتنا طول کھینچا کہ فیفا کے صدر سیپ بلیٹر بھی اس سے نہ بچ سکے۔

سیپ بلیٹر جو بڑی شدت کے ساتھ عالمی کپ کی میزبانی کے معاملے میں اپنی شفافیت کا دنیا کو یقین دلا رہے تھے خود یوئیفا کے صدر میشل پلاٹینی کو ایک ایسی رقم کی ادائیگی کے معاملے میں گرفت میں آ گئے جس کے بارے میں فیفا کی اخلاقیات سے متعلق کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس کا نہ کوئی تحریری معاہدہ ہے اور نہ کوئی تذکرہ۔فیفا نے پہلے تو بلیٹر اور پلاٹینی کو 90 روز کے لیے معطل کیا اور پھر ان دونوں پر آٹھ سال تک فٹبال کی کسی بھی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

دنیا کے کونے کونے میں کھیلے جانے والے فٹبال کے کھیل سے لوگوں کی محبت آج بھی قائم ہے لیکن اس کھیل کی عالمی فیڈریشن میں جو کچھ بھی ہوا ہے اس کے سبب عالمی فٹبال پر سے اعتبار اٹھ چکا ہے۔فیفا کرپشن سکینڈل کی بازگشت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ڈوپنگ سکینڈل نے روسی ایتھلیٹکس کے نظام کا پردہ چاک کر دیا۔ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ روس میں مبینہ طور پر سرکاری سرپرستی میں ڈوپنگ کے معاملے میں دھوکہ دہی برتی گئی ‘یہ خبر کسی دھچکے سے کم نہ تھی کہ ماسکو کی لیبارٹری میں ڈوپ ٹیسٹ کے نمونے تباہ کر دئیے گئے تاکہ کوئی نشان باقی نہ رہے۔

یہ سب کچھ سامنے آنے کے بعد روس کی اینٹی ڈوپنگ اتھارٹی معطل کر دی گئی اور روس پر بین الاقوامی ایتھلیٹکس مقابلوں میں شرکت کی عارضی پابندی عائد کر دی گئی ‘یہ صورتِ حال روس کے لیے کسی بدنامی سے کم نہ تھی چنانچہ صدر پوتن کو بھی اس میں مداخلت اور تحقیقات کا حکم دینا پڑا۔صرف روس پر ہی کیا موقوف، کئی دوسرے ملکوں کے ایتھلیٹس کے بارے میں بھی یہ انکشافات ہلچل مچا دینے کیلئے کافی تھے کہ 2001 سے 2012 کے درمیان ہونے والے اولمپکس اور بین الاقوامی مقابلوں میں میڈل جیتنے والے ایک تہائی ایتھلیکٹوں نے محدود منشیات یا پھر کارکردگی میں اضافہ کرنے والی ادویات کا استعمال کیا تھا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 01/01/2016 - 12:39:41

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :