پیرس حملے ، انتہا پسند جماعت داعش نے ذمہ داری قبول کر لی
تازہ ترین : 1
پیرس حملے ، انتہا پسند جماعت داعش نے ذمہ داری قبول کر لی

پیرس حملے ، انتہا پسند جماعت داعش نے ذمہ داری قبول کر لی

پیرس (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار. 14 نومبر 2015 ء): خوشبوؤں کے شہر پیرس میں حملوں کی ذمہ داری انتہا پسند تنظیم داعش نے قبول کرلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق مطابق شام اور عراق میں برسرِ پیکار انتہا پسند تنظیم داعش نے پیرس حملوں کی ذًہ داری قبول کرتے ہوئے آئندہ برس مارچ میں یورپ کے متعدد شہروں کو نشانہ بنانے کا اعلان بھی کردیا ہے ۔ انتہا پسند جماعت داعش نے اپنے اعلان میں کہا کہ مستقبل میں روم ، لندن اور واشنگٹن پر حملے کیے جاسکتے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر داعش کے حامیوں نے Parisisburning# کا استعمال کر کے اپنی خوشی کا اظہار بھی کیا ہے. جبکہ ایک اور حامی کا کہنا تھا کہ پیرس نے عراق، مالی اور افریقہ میں مسلمانوں کو جلایا اور اب پیرس خود جل رہا ہے. واضح رہے کہ پیرس میں فٹبال میچ کے دوران دہشتگردوں نے مختلف مقامات پر 6 حلے کیے جن کے نتیجے میں 160 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 200 افراد زخمی ہیں جن میں سے 80 سے زائد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ۔ دہشتگردوں کے حملے کے بعد پیرس میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

اس خبر کا حوالہ

وقت اشاعت : 14/11/2015 - 11:37:46

متعلقہ عنوان :

قارئین کی رائے :

  • muhammad naveed Says : 14/11/2015 - 16:44:35

    in my opinion,recent bombing in France is the BrainChild of Jews.they have achieved multiple objectives after conducting such ruthless and barbaric attacks on innocent spectators.For instance,to strengthen the anti-Islam atmosphere in Europe,Secondly to raise anti-muslim sentiments across the world,thirdly to stop the muslims migration to Europe who cannot survive in their war-stricken home-lands fourthly to teach a lesson to the France if she accepts phalistine as an Independent state.as ISIS is the creation of Israel,on the instruction or according to Patrons plan ISIS has accepted the responsibility of the attacks.The chief vicious objective behind such scheme is the destablization of political systems,byfurcation of state-geography,anarchy,bloodshed,enervation of Faith in state-system and looting of mineral resources of these states.all those involved in this GR8-GAME are well-known to the muslim world.they are doing bussiness by captalizing the prevailing situation.they only know the Secret of benefitting the war-like situations.they are crooked,brutal and BIG BLOT on the name of HUMANITY.

    Reply to this comment

اپنی رائے کا اظہار کریں