خوشبووٴں کے شہر پیر س میں کنسرٹ ہال، فٹ بال سٹیڈیم اور دیگر مقامات پریکے بعد دیگرے ..
تازہ ترین : 1

خوشبووٴں کے شہر پیر س میں کنسرٹ ہال، فٹ بال سٹیڈیم اور دیگر مقامات پریکے بعد دیگرے سات حملے،کم از کم 180افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی

ریسکیو آپریشن کے دوران 8 حملہ آوروں کو بھی ہلاک کردیا گیاہے، پیرس پولیس اوباما، پیوٹن،بان کی مون،نوازشریف سمیت دنیا بھر کے رہنماوٴں نے حملوں کی شدید مذمت ، فرانس کو ہر ممکن تعاون کی پیشکش شدت پسند تنظیم داعش نے ذمہ داری قبول کرلی، مستقبل میں امریکہ، روم اور دیگر ملکوں پر بھی حملوں کااعلان حملوں کے بعد فرانس کی تاریخ میں 71سال بعد ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور فوج کو طلب کر لیا گیا، کرفیونافذ دہشتگردی کا سب سے ہولناک واقعہ پیرس کے بٹاکلن کنسرٹ ہال میں ہوا جہاں120سے زائد افراد کو ہلاک کیا گیا فرانسیسی صدر وہاں پہنچ کر صورتحال دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے،دہشت گردوں کے خلاف پوری قوت سے لڑنے کا اعلان کیا یہ لوگ ہمیں خوفزدہ نہیں کر سکتے ہم اپنے عوام کو مکمل تحفظ فراہم کریں گے،پریس کانفرنس

پیرس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 نومبر۔2015ء) فرانس کے دارالحکومت خوشبووٴں کے شہر پیر س میں کنسرٹ ہال، فٹ بال سٹیڈیم اور دیگر مقامات پر بدترین دہشت گردی کے سات یکے بعد دیگرے واقعات میں کم از کم 180افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے جبکہ ریسکیو آپریشن کے دوران 8 حملہ آوروں کو بھی ہلاک کردیا گیا۔امریکی صدر اوباما،روسی صدر ولادیمیرپیوٹن، چینی وزیراعظم، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون،پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف سمیت دنیا بھر کے رہنماوٴں نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے فرانس سے اظہار یکجہتی اور ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔

شدت پسند تنظیم داعش نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مستقبل میں امریکہ، روم اور دیگر ملکوں پر بھی حملے کئے جائیں گے۔حملوں کے بعد فرانس کی تاریخ میں 71سال بعد ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور فوج کو طلب کر لیا گیا جبکہ پیرس بھر میں کرفیو لگا کر لوگوں کو گھر وں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔دہشت گردی کا سب سے ہولناک واقعہ پیرس کے بٹاکلن کنسرٹ ہال میں ہوا جہاں بعد میں فرانسیسی صدر پہنچ گئے اور وہا ں صورتحال دیکھ کر آبدیدہ ہوگئے تاہم اس موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف پوری قوت سے لڑنے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ لوگ ہمیں خوفزدہ نہیں کر سکتے ہم اپنے عوام کو مکمل تحفظ فراہم کریں گے۔

اس کنسرٹ ہال میں امریکی میوزک بینڈ پرفارم کر رہا تھا کہ دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے پہلے 15 افراد کو ہلاک اور 100 سے زائد کو یرغمال بنا لیااور بحفاظت نکلنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا لیکن پولیس کی طرف سے انکار پر حملہ آوروں نے بعد میں تمام یرغمالیوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کردیا جب کہ مقابلے میں 8 دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے۔ کنسرٹ ہال میں موجود مقامی ریڈیو کے رپورٹر جولین پیئرز نے آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی ہولناک دس منٹ تھے جس میں دہشت گردوں نے انتہائی اطمینان کیساتھ لوگوں کا قتل عام کیا اور خون کی ہولی کھیلی، تمام لوگ سر پر ہاتھ رکھے کھڑے ہوئے تھے اور ان پر گولیاں برسائی جارہی تھیں، ان لوگوں نے اس دوران تین سے چار مرتبہ اپنے اسلحے کو لوڈ بھی کیا لیکن اطمینان کے ساتھ اپنا کام بھی کرتے رہے۔

اس نے بتایا کہ بیس سے 25 لاشیں اس نے خود فرش پر بکھری ہوئی دیکھیں ۔ ایک اور عینی شاہد نے کہا کہ یہ لوگ مذہبی قسم کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ اس مقام پر امریکی راک بینڈ ایگلز آف ڈیتھ میٹل نامی گروپ اپنے فن کا مظاہرہ کررہا تھا ۔ پیئرز نے کہا کہ وہ خوش قسمتی سے سٹیج کے قریب تھا اور دیکھ رہا تھا کہ سیاہ لباس میں ملبوس یہ لوگ اندر داخل ہوئے ، انہوں نے اے کے 47 گنیں اٹھائی ہوئی تھیں، رپورٹر نے بتایا کہ جب دہشت گرد اپنا اسلحہ لوڈ کررہے تھے تو اسے خوش قسمتی سے بیرونی دروازہ نظر آگیا اور وہ بھاگنے میں کامیاب ہوگیا، اس نے کہا کہ یہ انتہائی دہشت ناک منظر تھا جب ان لوگوں نے آتے ہی فائرنگ شروع کردی ۔

ایک اور عینی شاہد پائیرے جانازاک نے بتایا کہ وہ اپنی بہن اور دوستوں کیساتھ اوپر بالکونی میں بیٹھ کر شو دیکھ رہا تھا کہ اچانک فائرنگ کی آواز سنی، ہم نے سمجھا کہ شائد یہ فائرنگ بھی شو کا حصہ ہے لیکن بعد میں ہم نے دیکھا کہ فائرنگ براہ راست شائقین پر کی جارہی تھی شائد ان کے پاس کلاشنکوف جیسی گنیں تھیں اور پھر وہاں انتہائی شور شرابہ مچ گیا اور لوگ بھاگنے لگے مگر ہر طرف خون اور لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔

ان لوگوں نے بیس سے پچیس افراد کو یرغمال بنایا اور وہ کہہ رہے تھے کہ یہ تمہارے صدر کا قصور ہے، تمہارا نہیں اسے شام میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے تھی اور یہ لوگ عراق کے بارے میں بھی باتیں کررہے تھے۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں نے شاپنگ مال اور دیگر جگہوں پر بھی فائرنگ کر کے متعدد افراد کو ہلاک کیا۔ایک اور بڑا واقعہ پیرس کے فٹبال اسٹیڈیم میں ہوا جہاں فرانس اور جرمنی کی ٹیموں کے درمیان میچ کھیلا جارہا تھا اور اسے دیکھنے کے لئے فرانسیسی صدر اپنی پوری کابینہ اور 80 ہزار کے قریب شائقین موجود تھے کہ دو خود کش حملہ آوروں نے دھماکے کردیئے جس سے میچ روک کر صدر اولاند اور کابینہ کے ارکان کو نکال دیا گیا جبکہ لوگوں کو بھی بھاگنے سے روک دیا گیا اور سیکورٹی انتظامات کرکے منظم انداز میں شائقین کو اسٹیڈیم سے نکالا گیا۔

دہشت گردی کے واقعہ کے بعد پورے فرانس میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جب کہ پیرس میں فوج کو تعینات کردیا گیا اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ امدادی ٹیموں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا تاہم بیشتر زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق مارے جانے والے حملہ آوروں کے تعلق سے متعلق ابھی کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے تاہم ایک حملہ آور کا کہنا تھا کہ یہ فرانس کی شام میں مداخلت کا نتیجہ ہے۔ پولیس نے پہلے کہا کہ 4 سے 5 دہشت گردوں کے چھپے ہونے کی اطلاعات ہیں اور بعد میں آٹھ دہشت گردوں کا ہلاک کرنے کا اعلان کیا گیا۔فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے دہشت گرد حملوں کے پیش نظر جی 20 کانفرنس میں شرکت منسوخ کر کے بٹاکلن کنسرٹ کا دورہ کیا اور ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد معمولی نہیں تھے اور حملہ آور عوام کو خوف زدہ کرنا چاہتے تھے لیکن دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہر صورت جاری رہیگا۔

فرانسیسی صدر نے کہا کہ ہم دہشت گردوں کو ہلاک کرینگے، فرانس ان کیلئے سخت ترین ملک ثابت ہوگا۔ فرانس ان لوگوں سے خوفزدہ نہیں ہوگا تاہم آج ہم غمزدہ ضرور ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ لوگ زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کرنا چاہتے تھے۔ میں ان تمام خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں جو اس سانحے سے متاثر ہوئے ہیں لیکن میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ ہماری سیکیورٹی فورسز انتہائی مشکل حالات میں بھی فرائض سرانجام دینا اور اپنے لوگوں کی حفاظت کرنا جانتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس جنگ میں آگے آگے ہونگے اور اس ظلم کو ختم کرینگے کیونکہ جب دہشت گرد ایسا کام کریں تو انہیں جان لینا چاہئے کہ فرانس ان کیخلاف پرعزم اور متحد ہے دارالحکومت پیرس میں دہشت گردی کے ہولناک واقعے کے بعد فرانسیسی صدر نے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے تمام سرحدوں کو سیل کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

دوسری جانب پیرس میں حملوں کے بعد وزیراعظم نواز شریف، امریکی صدر براک اوباما اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ امریکی صدر براک اومابا کا کہنا تھا کہ فرانس میں دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور پوری فرانسیسی عوام کے ساتھ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس ہمارا پرانا اتحادی ہے اور حملہ آوروں کا تعاقب کیا جائے گا۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستانی قومی کی دعائیں فرانسیسی عوام کے ساتھ ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جب کہ سلامتی کونسل نے بھی دہشت گردی کے واقعہ کی پرزور مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ ترکی، مصر اور روس نے بھی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

وقت اشاعت : 14/11/2015 - 11:13:11

اپنی رائے کا اظہار کریں