ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے اختیارات نہ ہونے کا اعتراف کیا ہے،براہمداغ بگٹی
تازہ ترین : 1

ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے اختیارات نہ ہونے کا اعتراف کیا ہے،براہمداغ بگٹی

بی آر پی قومی سیاسی اور جمہوری جماعت ہے جو پرامن اور سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور قوم کی نمائندگی کرتی ہے،صدر بلوچ ری پبلکن پارٹی

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 نومبر۔2015ء)بلوچ قوم دوست رہنما اور بلوچ ری پبلکن پارٹی کے صدر نواب براہمداغ بگٹی کہا ہے کہ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے اعتراف کیا ہے کہ انکے پاس اختیارات نہیں ہیں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی آر پی ایک قومی سیاسی اور جمہوری جماعت ہے جو پرامن اور سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور قوم کی نمائندگی کرتی ہے۔

بی آر پی نے ہمیشہ بلوچ قومی مسئلے کو سیاسی اور پرامن طریقے سے حل کرنے کی جدوجہد کی اور کررہی ہے لیکن سکیورٹی اداروں اوراسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بلوچ تحریک کو ہمیشہ بندوق کے زور پر ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ انھوں نے حالیہ دنوں میں مزاکرات کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تحریک میں جدوجہد کے مقاصد حاصل کرنے کیلئے بلاخر مزاکرات اور بیٹھ کرہی مسائل کا نکالا جاتا ہے اور بحیثیت ایک قومی سیاسی جماعت بی آر پی کو یہ اختیار اور حق حاصل ہے کہ وہ قومی معاملات کو گفت و شنید اور پرامن انداز میں آگے لیکر چلے۔

انھوں نے کہا ڈاکٹر مالک کی طرف سے بارہا ملاقات کرنے کی درخواست گئی لیکن معاملات ان کے ہاتھ میں نہ ہونے کی وجہ سے ان سے ملنے سے انکار کرتے رہے اور حالیہ عرصے میں بھی ان سے ملاقات میں انہوں اعتراف کیا کہ ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے اور وہ صرف پیغامات لیجانے کا کام کرہے ہیں۔ ملاقات میں ان پر واضع کیا گیا کہ جب تک بلوچستان میں ریاستی مظالم اور بلوچ قوم کے خلاف کاروئیوں کو روکا نہیں جاتا اس وقت تک مزاکرات کیلئے ماحول سازگار نہیں ہوسکتا۔

نواب براہمداغ بگٹی نے بتایا کہ موجودہ تحریک میں یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ریاست کی جانب سے مزاکرات کی بات جارہی ہو یا حکومتی نمائندگان کے ساتھ بلوچ تحریک میں شامل رہنماوں نے ملاقات یا بات کی ہو۔ اس سے پہلے بھی پیپلز پارٹی کی دور حکومت میں اس وقت کے وزیرداخلہ رحمان ملک سے نوابزادہ حیربیار مری صاحب کی ملاقاتیں ہوتی رہیں اور ڈاکٹر اﷲ نظر کی طرف سے بھی بلوچستان کے موجودہ وزیراعلی کے ساتھ رابطہ کیا جاتا رہا۔

بی آر پی ان رہنماوں کی فیصلوں کا احترام کرتی ہے اور ان رابطوں کے ایجنڈوں سے لاعلم ہونے کے باوجود اس نیت سے ان اقدامات کی مخالفت نہیں کی گئی کہ حکومتی اہلکاروں سے ملاقات اور رابطوں میں قومی مفاد کو مدنظر رکھا گیا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ بلوچ تحریک میں موجود کچھ کمزوریوں اور غلطیوں سے بلوچ قوم کو آگاہ کریں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شاید کچھ باتیں ایسی ہیں کہ جن کو ظاہر کرنے سے دشمن کو فائدہ ہو لیکن ان کے ظاہر نہ کرنے سے بلوچ قوم کو اس سے کئی گناہ زیادہ نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈاڈائے قوم شہیدنواب اکبر بگٹی اپنے زندگی میں ہمیشہ یہ کوشش کرتے رہے کہ بلوچ قوم کو ایک متحدہ پلیٹ فارم یا سنگل پارٹی کے ذریعے متحد کیا جائے اور اس کی طاقت پارٹیوں اور تنظیموں میں بٹنے کی بجائے ان میں یکجہتی کو پروان چھڑایا جائے۔

شہیداعظم کی شہادت کے بعد تمام دوستوں کی کوششوں کے نتیجے میں بلوچ نیشنل فرنٹ کی بنیاد رکھی گئی جس میں تمام آزادی پسند بلوچ جماعتیں اکھٹی ہوئیں۔ اس اتحاد کا مقصد بلوچستان میں ریاستی مظالم اور آپریشن کے خلاف آواز بلند کرنا اور بلوچ قومی آجوئی کی جدوجہد کو متفقہ حکمت عملی کے ذریعے آگے بڑھانا تھا۔ اس وقت متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ مقاصد کے علاوہ تمام معاملات اور اظہار رائے کیلئے متعلقہ رہنما یا جماعت اپنے ذاتی حیثیت یا انفرادی جماعت کے پلیٹ فارم کو استعمال کریں گے۔

بدقسمتی سے بی ایس او آزاد کے کچھ دوستوں کی طرف سے پہلی بار اس فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی اور بی این ایف کے پلیٹ فارم سے خلاف ایک اخباری بیان دیا گیا جو کہ بی این ایف کے قوائد کے خلاف تھا۔ بی آر پی کی جانب سے ان دوستوں سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اسے نہ دہرانے کی یقین دہانی کرائی لیکن کچھ دن گزرنے کے بعد ایک بار پھر اسی طرز کا ایک اور اخباری بیان جاری کیا گیا جس پر بی آر پی کی جانب سے دوستوں سے رابطے کرنے پر پتہ چلا کہ بی ایس او میں موجود کچھ لوگوں کی طرف سے بیان جاری کیا گیا ہے لیکن انکی قیادت نے معذرت کرکے ان لوگوں کے خلاف کاروائی کرنے کاباور کروایا۔

ہم نے صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے دوستوں کو ایک اور موقع دیا کیونکہ اتنی بڑی تحریکوں میں اس طرح کے چھوٹے واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن یہ معاملات ابھی ختم نہیں ہوئے تھے کہ بی این ایف کی پلیٹ فارم سے ایک اور بیان جاری کیا گیا جس میں نوابزادہ حیربیار مری صاحب کو بلوچ قوم کا بین الاقوامی نمائندہ مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا حالانکہ اس وقت بی این ایف کی قیادت بی آر پی کے پاس تھی لیکن ہمیں بیان جاری ہونے تک اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

البتہ اگر اتحاد میں شامل جماعتوں کی جانب سے باقائدہ اس بارے میں بیٹھ کر گفت و شنید کی جاتی تو کافی امکانات تھے کہ بی آر پی حیربیار صاحب کو بین الاقوامی نمائندہ تسلیم کرتی لیکن چونکہ یہ بیان مکمل طور پر بی این ایف کی ضوابط کی منافی تھی لہذا بی آر پی نے اس کی تردید کی اور تمام سطحوں پر اس کی مخالفت کی۔ بی آر پی کی مخالفت کرنے پر حیربیار مری صاحب بھی ہم سے ناراض ہوگئے حالانکہ ان کو بھی اس غیرسیاسی عمل اور اس میں ملوث عناصر کی کھل کر مخالفت کرنی چاہیئے تھی۔

ہم نے اتحاد میں موجود جماعتوں بی این ایم اور بی ایس او آزاد کے دوستوں سے اس غیرسیاسی عمل کو مسترد کرنے کی درخواست کی لیکن انکی طرف سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا حالانکہ چھان بین کے بعد پتہ چلا کہ مذکورہ بیان سویڈن میں مقیم سمندر آسکانی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس کا بی این ایف سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ اتحاد میں شامل جماعتوں اوردوستوں کی ان غیرسیاسی اور غیرسنجیدہ رویوں سے مجبور ہوکر بی آر پی نے بی این ایف کے تمام عہدوں سے استعفی دیکر علیحدگی کا اعلان کردیا حالانکہ یہ وہ اتحاد تھا جسکی بنیاد رکھنے کے وقت یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اس کو آگے چل کر قومی سنگل پارٹی کی شکل دی جائیگی لیکن یہ بھی دوستوں کی نا پختہ اور غیرسیاسی رویے کی نظر ہوگیا۔

کچھ لوگوں کی طرف سے بی آر پی پر بی این ایف کو توڑنے کا الزام لگاکر ہدف تنقید بنایا گیا لیکن آگے چل کر بی این ایم اور بی ایس او کے دوستوں نے بھی تسلیم کیا کہ اتحاد کو توڑنے میں کن عناصر کا کردار رہا۔ ان واقعات کے بعد بھی ریاست کی جانب سے بلوچستان میں مظالم کا سلسلہ بڑھتا رہا اور آئے روز آپریشن، اغواہ نما گرفتاریوں اور مسخ شدہ لاشوں کو پھینکنے کا سلسلہ تیز کردیا گیا جس میں نہ صرف آزادی پسند جماعتوں بلکہ پوری بلوچ قوم کو آپریشن، سینکڑوں کی تعداد میں سیاسی رہنماوں، کارکنوں اور نوجوانوں کی ریاستی فورسز کے ہاتھوں اغواہ اور بعد ازاں شہادت سے شدید نقصان اٹھانا پڑا۔

دوسری جانب آزادی پسند سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے درمیان اتفاق و اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر تحریک کو مضبوط اور متحرک کرنے میں کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہورہی تھی۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بی آر پی کی جانب سے ایک بار پھر کوشش کی گئی کہ تمام آزادی پسند جماعتوں اور رہنماوں کو یکجہ کرکے متحدہ پلیٹ فارم کیلئے کام کیا جائے۔

اس سلسلے میں بہت سی کوششوں کے بعد جون 2014 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں بی آر پی، بی این ایم، نواب مہران مری، میر جاوید مینگل، سردار بختیار ڈومکی سمیت تمام جماعتوں اور رہنماوں کے درمیان ملاقاتیں اور گفت و شنید ہوئی۔ مستقبل میں اتحاد کی طرف جانے کے کچھ ایسے نقات پر بی این ایم اور بی آر پی کے درمیان اختلافات سامنے آئے کہ جن کا تذکرہ کرنا بھی مزائقہ خیز عمل ہوگا۔

ان دونوں جماعتوں کی اپنے موقف پر قائم رہنے پر میرجاوید مینگل اور نواب مہران مری کو اختیار دیا گیا کہ وہ فیصلہ کریں کہ کس کا موقف درست ہے۔ جب ان رہنماوں کی طرف سے بی آر پی کی موقف کے حق میں فیصلہ کیا گیا تو بی این ایم کے دوستوں نے اکثریتی رائے کو ماننے سے انکار کیا اور اپنے موقف پر قائم رہے جس کی وجہ سے معاملات آگے نہ چل سکے۔ اس صورتحال میں کچھ ذمہ داری نواب مہران مری اور میر جاوید مینگل پر بھی عائد ہوتی ہے کیونکہ انھوں نے بی این ایم کے دوستوں کو اکثریتی رائے ماننے کیلئے قائل کرنے کیلئے کردار ادا نہیں کیا۔

اگر یہ رہنما بی این ایم کو قائل کرنے کی کوشش کرتے یا بی این ایم کے دوستوں کا بلاوجہ اپنے موقف پر بضد ہونے پر قوم کو آگاہ کرتے تو شاید وہ بھی اکثریت رائے کو مانتے ہوئے قومی اتحاد کو تشکیل دینے میں اپنا فرض نبھاتے۔ نواب براہمداغ بگٹی نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ بی این ایم یا دوسری جماعتیں یا رہنما بی آر پی کی اس موقف سے اختلاف کریں اور ان کا اپنا الگ موقف ہو جو انکا حق ہے لیکن ماضی کی کمزوریوں اور غلطیوں پر ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنانے یا بیان بازی کرنے سے معاملات سدھرنے کی بجائے مزید بگاڑ کی طرف جائیں گے۔

کمزوریاں اور غلطیاں بی آر پی میں بھی موجود ہونگی اور ہم ان کا نشاندہی اور اصلاح کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بلوچ قوم میں ناامیدی اور مایوسی کی سب سے بڑی وجہ ریاستی مظالم اور نسل کشی نہیں ہے بلکہ بلوچ آزادی پسند جماعتوں اور رہنماوں کے درمیان نااتفاقی اور اتحاد کا نہ ہونا ہے کیونکہ قوم بھی سمجھتی ہے کہ اگر ان مشکل حالات میں یہ جماعتیں اور رہنما ایک دوسرے کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہیں تو بالفرض بلوچستان آزاد ہوجاتا ہے (جو ان حالات کے چلتے انتہائی مشکل ہے) تو پھر یہ جماعتیں کس طرح ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوکر قوم و سرزمین کو بربادی اور تباہی کی طرف لیجائیں گی جب مختلف بین الاقوامی کھلاڑی اپنے مفادات کی خاطر نومولود ریاست کو کنٹرول کرنے یا اس کی پالیسیوں کو ایک خاص رخ دینی کی کوشش کریں گی۔

حالیہ دنوں میں کچھ تنظیموں کے درمیان تصادم کی صورت میں اس خوفناک منظر کی کچھ جھلکیں بھی دیکھنے کو ملی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ دوستوں کی طرف سے اتحاد و یکجہتی کی بجائے تنقید و تقسیم کی طرف زیادہ توجہ دیا جارہا ہے۔ بلوچستان سے باہر بھی کچھ ایسے عناصرموجود ہیں جن کو بلوچ قوم، سرزمین اور قومی تحریک سے کوئی تعلق اور سروکار نہیں لیکن وہ بھی ایک خاص موقف کا ساتھ دیکر دیگر کو تنقید کا نشانہ بناکر اپنی دانشوری دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

بدقسمتی سے کچھ دوستوں کی طرف سے انہیں بلوچ قوم کا ہمدرد سمجھا جاتا ہے لیکن دراصل یہ عناصر صرف اپنی ذاتی مفادات کی خاطر کام کررہے ہیں جس کی چھوٹی سء مثال یہ ہے کہ اگر انکے فرسٹ کلاس فلائٹ ٹکٹ اور فائیو سٹار ہوٹل کمروں کا بندوبست کیا جائے تب جاکے کسی مظاہرے میں یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں یا بلوچ کے حق میں دو باتیں کرتے ہیں۔ بلوچ قوم اور تحریک کو ایسی مصنوعی نہیں بلکہ حقیقی ہمدردی اور یکجہتی کی ضرورت ہے جسکا حصول صرف قومی اتحاد میں ہی ممکن ہے۔

نواب براہمداغ بگٹی نے کہا کہ ان تمام حالات کے باوجود میں پرامید ہوں اور بلوچ قوم کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ جہاں تک ممکن ہوسکے بلوچ ری پبلکن پارٹی بلوچ قومی تحریک میں قومی اتحاد کی تشکیل کیلئے جدوجہد کرتی رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ ہم بلوچ قومی تحریک میں شامل تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماوں بمشول بی این ایم، بی آر ایس او، بی ایس او آزاد، نوابزادہ حیربیار مری، نواب مہران مری، سردار بختیار ڈومکی، میرجاوید مینگل اور دیگر سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچ قوم کی خاطر اور بلوچ شہداء کی قربانیوں کی خاطر اپنے تمام اختلافات کے باوجود قومی یکجہتی اور اتحاد کی لئے کردار ادا کریں۔

چونکہ میرے پاس سوئٹرلینڈ سے باہر سفر کرنے کے دستاویزات نہیں ہیں لہذا میں ان تمام جماعتوں اور رہنماوں کو دعوت دیتا ہوں کہ ایک مہینے کے عرصے میں کوشش کرکے اپنے تمام مصروفیات کو ایک طرف کرتے ہوئے یہاں آکر سرجوڑ کر بیٹھیں اور اپنے تمام اختلافات کو باہمی گفت و شنید سے دور کرتے ہوئے قومی اتحاد کے تشکیل کو یقینی بنانے کیلئے اپنا فرض ادا کریں۔

انھوں نے کہا کہ اگر کسی وجہ سے سوئٹزرلینڈ میں ملنا ممکن نہ ہو تو کسی دوسرے یورپی ملک میں ملاقاتیں کی جائیں جس میں بی آر پی کے وفود بھی موجود ہوں اور میں بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کرونگا۔ بہت سے نقاط یا معاملات پر اختلافات بھی ہوسکتاہے لیکن ان کو اکثریتی رائے سے دور کیا جاسکتا ہے اور اگر کوئی جماعت یا رہنما اکثریتی رائے کو ماننے سے بھی انکار کرے تو اسے بلوچ قوم کے سامنے جوابدہ کیا جائے تاکہ بلوچ قوم فیصلہ کرسکے ہمارے صفحوں میں بے اتفاقی کا ذمہ دار کون ہے۔

اتحاد کی صورت میں ریاست سے مزاکرات سے لیکر تمام قومی معاملات کے بارے میں اکثریتی رائے سے جو بھی فیصلہ کیا جائے گا ہم ان کو ماننے کیلئے تیار ہونگے کیونکہ اتفاق اور یکجہتی سے ہی بلوچ قوم کے خلاف ریاستی مظالم کو شکست دی جاسکتی ہے اور اتحاد ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/11/2015 - 23:20:06

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں