پاکستانی ایکسپورٹرز ملکی اکنامی کو مضبوط بنانے کیلئے جہاد کررہے ہیں ،ہمارے جوان ..
تازہ ترین : 1

پاکستانی ایکسپورٹرز ملکی اکنامی کو مضبوط بنانے کیلئے جہاد کررہے ہیں ،ہمارے جوان سرحدوں پر ملکی استحکام کیلئے جہاد کررہے ہیں، بریگیڈیئر ابوزر

ایکسپورٹرز محب وطن ہیں ،ملک دشمن مفاد پرست عناصرنچلے عملے کوشامل کرکے منشیات اسمگل کرنے کی کوشش کرکے برآمدکنندگان کیلئے مشکلات کھڑی کردیتے ہیں،ڈی جی ریجنل ڈائریکٹریٹ اینٹی نارکوٹکس فورس

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 نومبر۔2015ء) برآمدی کارگو کی منشیات سے متعلق جانچ پڑتال میں اینٹی نارکوٹکس فورس کا کردار نہ صرف ملک وقوم بلکہ برآمدکنندگان کے لیے بھی ناگزیر اور اہم ہے، پاکستانی ایکسپورٹرز ملکی اکنامی کو مضبوط بنانے کیلئے جہاد کررہے ہیں جبکہ ہمارے جوان سرحدوں پر ملکی استحکام کیلئے جہاد کررہے ہیں،پاکستانی ایکسپورٹرز ایماندار اور محب وطن ہیں تاہم ملک دشمن مفاد پرست عناصرنچلے عملے کوشامل کرکے منشیات اسمگل کرنے کی کوشش کرکے برآمدکنندگان کے لیے مشکلات کھڑی کردیتے ہیں۔

یہ بات ڈائریکٹرجنرل ریجنل ڈائریکٹریٹ اینٹی نارکوٹکس فورس بریگیڈئر ابوزر نے جمعہ کو رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان(ریپ)میں چاول کے برآمدکنندگان سے خطاب کے دوران کہی۔اس موقع پر ریپ کے سینئروائس چیئرمین نعمان احمدشیخ نے بھی خطاب کیا جبکہ کرنل واجد،کرنل عاصم، ریپ کے سابق چیئرمین جاوید غوری ،حامد حسین قریشی،واجد ممتاز پراچہ،عبدالطیف پراچہ،مزمل رؤف چیپل اور دیگر بھی موجود تھے۔

بریگیڈئر ابوزر نے کہا ہے کہ اے این ایف مجموعی سالانہ برآمدات کیصرف 2 فیصد کنٹینرز چیک کیے جارہے ہیں جبکہ ہمیں 5 فیصد کنٹینرز کی چیکنگ کا مینڈیٹ حاصل ہے ۔انہوں نے کہا کہ اے این ایف میں رسک منیجمنٹ سسٹم کے تحت منشیات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے جسکی وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں منشیات کی ایک بڑی مقدار تیار ہوتی ہے جسکی وسطی ایشیائی ریاستوں اور پاکستان کے راستے اسمگلنگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، سال2013 میں اے این ایف نے منشیات اسمگلنگ کے 10 کیسزپکڑے تھے جبکہ 2014میں18کنٹینرز پکڑے گئے اور ان کنٹینرز میں مجموعی طور پر406.5کلوگرام ہیروئن اور 223.800کلوگرام چرس سمیت دیگر منشیات موجودتھیں۔

انہوں نے کہا کہ برآمدکنندگان اس ضمن میں محتاط رہیں کیونکہ اسمگلرز انکے پورے نچلے عملے کو خریدکر برآمدی کارگو کے ذریعے منشیات اسمگل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں، برآمدکنندگان کو اپنا اصلی فارم ’’ای‘‘ فروخت نہیں کرنا چاہیے جو منشیات کی اسمگلنگ میں استعمال کیا جاتا ہے جبکہ پورٹ آپریٹرز کی جانب سے ون ونڈوسروس بھی مہیا نہیں کی جانی چاہیے ، انہوں نے کہا کہ برآمدکنندگان کو اے این ایف انسپیکشن کے دوران اپنے کلیرنگ ایجنٹ کو لازمی طور پر بھیجنا چاہیے جبکہ برآمدی مال کی ری پیکنگ کے دوران بھی کلیرنگ ایجنٹ موجود ہونا چاہیے۔

انکا کہنا تھا کہ اے این ایف انسپیکشن نہ صرف ملک بلکہ برآمدکنندگان کے اپنے مفاد میں ہے کیونکہ اگر کسی اسمگلر نے برآمدی کارگو میں منشیات رکھدیں اور وہ یورپ یا امریکا میں پکڑی گئیں تو ان کی کمپنی ہمیشہ کے لیے بلیک لسٹ ہوجائے گی۔ بریگیڈئر ابوزر نے بتایا کہ ایک کلوگرام ہیروئن اسمگل کرنے کی سزا 14 سال قیدجبکہ10 کلوگرام ہیرؤین کی اسمگلنگ پر سزائے موت اور تمام جائیداد کی ضبطگی شامل ہے جبکہ سعودی عرب اور ملائیشیا میں منشیات اسمگل کرنے پر سرقلم کردیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مصنوعی کھجوروں ،کتابوں،قالینوں،مشینری،بیٹری کے تاروں،ویکیوم کلینر اور دیگر اشیاء میں چھپا کر ہیروئن اور دیگر منشیات اسمگل کی جاتی ہیں،ہمیں خدشات کے پیش نظر گولڈ کٹیگری میں شامل بڑی کمپنیوں کے کنسائنمنٹ بھی چیک کرنے پڑتے ہیں کیونکہ پاکستان دشمن ایسے کنٹینرز میں ہیروئن رکھ کر بیرون ممالک پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش کرسکتا ہے۔

ریپ کے سینئروائس چیئرمین نعمان احمدشیخ نے اس موقع پر کہا کہ بندرگاہوں پریافتہ لیبر تعینات کی جائے جس سے ایکسپورٹ کا مال اے این ایف انسپیکشن کیلئے نکالتی ہے اسے دوبارہ اصلی حالت مں رکھا جائے برآمدی کنسائمنٹس کی اسکیننگ کیلئے جدید اسکینرز لگائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ریپ کے 1500ممبران پاکستان کے چاروں صو بوں سے تعلق رکھتے ہیں اور زر مبادلہ کی مد میں سالانہ دو ارب ڈالرملک کو فراہم کر تے ہیں ،ہمیں اس بات کا اعتراف ہے کہ اینٹی نارکوٹک فورس ملک پاکستان کو منشیات کی لعنت سے پاک کر نے کیلئے جو اقدامات کررہا ہے وہ قابل تحسین ہیں اور تمام رائس ایکسپورٹرز اس سلسلے میں آپ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کیلئے دل و جان سے تیار ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ رائس ایکسپورٹرزکو اے این ایف کی انسپیکشن کے طریقہ کار پر تحفظات ہے،ہمارے ایکسپورٹرز نے بڑی سر مایہ کاری کر نے کے بعد چاول کی برانڈنگ پر کام کیا ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں سخت مقابلے کا رحجان ہے ،جب اے این ایف کی انسپیکشن کے بعد شپمینٹ ہمارے خریدار کو پہنچتی ہے تو اسکا بہت براحال ہوتاہے کیونکہ چاول کے بیگ پھٹے ہوئے ہوتے ہیں جسکی وجہ سے نہ صرف ہمارے ملک کا امیج خراب ہوتا ہے بلکہ ہمارے ایکسپورٹرز کو بھی بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔

نعمان شیخ نے کہا کہ رائس ایکسپورٹرز کا مطالبہ ہے کہ شپمینٹ کی چیکنگ کا ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے کہ اے این ایف کا کام بھی احسن طریقے سے ہوجائے اور ہمارے چاول کے بیگ بھی خراب نہ ہوں ۔ انکا کہنا تھا کہ ریپ کے سرپرست اعلیٰ عبد الرحیم جانو کی بے مثال قیادت میں پاکستان چاول بر آمد کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن گیا ہے اور پاکستانی چاول بہترین کوالٹی کا چاول ہے جو کہ دنیا کے 100سے زائد ممالک میں بر آمد کیا جاتا ہے اور درآمدی ممالک پاکستانی چاول کو پسند بھی کرتے ہیں جبکہ رائس ایکسپورٹرز کو یہ بھی اعزاز ہے کہ انکے کنائنمنٹس میں کبھی اے این ایف کو شکایات نہیں ملیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/11/2015 - 23:05:20

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں