سعودی ٹیلی کام کمپنیوں کا انٹرنیٹ فون سروس بند کرنے پرغور
تازہ ترین : 1

سعودی ٹیلی کام کمپنیوں کا انٹرنیٹ فون سروس بند کرنے پرغور

لاکھوں صارفین بین الاقوامی کالزکیلئے سستے ذریعے سے محروم ہوجائیں گے

جدہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 نومبر۔2015ء)سعودی عرب میں کام کرنے والی ٹیلی کام کمپنیو ں نے مشترکہ طور پر صارفین کو انٹرنیٹ پر مبنی ٹیلی فون خدمات استعمال کرنے سے روکنے پر غور شروع کردیا ، اس اقدام کا مقصد فون کالز کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافہ کرنا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں بڑی ٹیلی کام کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے حکام کا کہنا ہے کہ آیندہ چند ہفتوں کے دوران نیٹ پر مبنی ٹیلی فون خدمات کو بند کردیا جائے گا تاکہ یہ کمپنیاں فون کی مد میں اپنی سالانہ آمدن میں اضافہ کرسکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنیاں صارفین کو مطلع یا انتباہ کیے بغیر یہ سروسز ختم کرسکتی ہیں۔ایک سعودی وکیل ڈاکٹر ابراہیم زمزمی نے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیوں کو اپنے صارفین کی امیدوں اور توقعات پر پورا اترنا چاہیے۔ایک عرب روزنامے الوطن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ٹیلی کمیونیکشن کی عالمی مارکیٹ بالکل کھلی ہے اور ٹیلی کام کمپنیاں اجارہ داری کے ذریعے اربوں ریال منافع نہیں کما سکیں گی۔

انھیں اپنے صارفین کو سہولتیں مہیا کرنا ہوں گی۔وکیل زمزمی نے مزید کہا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کو اپنی مارکیٹنگ پالیسیاں وضع کرتے وقت صارفین کی مالی استعداد کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ صارفین ان کی خدمات سے استفادہ کرسکیں۔یہ کمپنیوں کے منافع کمانے کے لیے ایک اہم مارکیٹنگ حکمت عملی ہوسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹیلی کام کمپنیاں اپنی اجارہ دارانہ پالیسیوں کو مسلط کرنے کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں تو وہ صارفین سے محروم ہوجائیں گی کیونکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑی تیز رفتاری سے پیش رفت ہو رہی ہے اور ان کا بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن سسٹمز پر کوئی کنٹرول نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں اس وقت لاکھوں لوگ بین الاقوامی فون کالز کے لیے نیٹ پر مبنی ایپلی کیشنز کو استعمال کرتے ہیں۔دنیا بھر میں قریباً 90 کروڑ افراد اپنے خاندان یا دوستوں سے بات چیت کے لیے وٹس اپ ایپلی کیشن کا استعمال کرتے ہیں۔75 کروڑ میسنجر ،16 کروڑ ٹانگو اور 12 کروڑ کے لگ بھگ لائن فون استعمال کرتے ہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/11/2015 - 17:46:02

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں