ملک بھر میں 36 تجارتی بنک اور 12529 شاخیں کام کر رہی ہیں وزارت خزانہ
تازہ ترین : 1

ملک بھر میں 36 تجارتی بنک اور 12529 شاخیں کام کر رہی ہیں وزارت خزانہ

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق سوال کا جواب موخر کردیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 نومبر۔2015ء) سینٹ کو بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں 36 تجارتی بنک اور 12529 شاخیں کام کر رہی ہیں بی آئی ایس پی بورڈ کے منظور شدہ ڈیٹا شیئرنگ پروٹوکول کے مطابق فائدہ اٹھانے والوں کے نام اور پتے نہیں بتائے جاسکتے جبکہ ڈپٹی چیئرمین سینٹ سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق سوال کا جواب موخر کردیا۔

جمعہ کو وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر عثمان کاکڑ کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف ا للہ اور قمر الدین کاریز ضلع ژوب میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہ ہونے کی وجہ سے کسٹم سٹیشنز نے کام شروع نہیں کیا یہاں امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بنکوں کی شاخوں کے قیام کا جائزہ لیا جائیگا وزارت خزانہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ 2014-15ء میں گھریلو دیکھ بھال کیلئے بھارت کو خانگی ترسیلات زر 81500 امریکی ڈالر تھیں۔

سٹیٹ بنک آف پاکستان نے تجویز دی کہ تحفظ برائے اقتصادی اصلاحات ایکٹ 1962ء کے تحت افراد سے متعلق معلومات کو انتہائی رازداری سے رکھا جاتا ہے۔ وزارت خزانہ کی طرف سے بتایا گیا کہ بانڈ کا کوپن نرخ 8.25 فیصد سالانہ معہ 10 سالہ معیاد ہے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ سندھ رورل سے 12 ‘ سندھ اربن سے 69‘ پنجاب سے 103‘ خیبر پختوخوا سے 21‘ بلوچستان سے 9 اور فاٹا گلگت بلتستان سے پانچ تعیناتیاں کی گئی ہیں۔

کریم احمد خواجہ کے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں 36 تجارتی بنک اور 12529 شاخیں کام کر رہی ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں اس وقت 36 کمرشل بنک کام کر رہے ہیں جن کی 12529 برانچیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ رورل میں 409‘ اربن میں 2788‘ پنجاب رورل میں 1898‘ پنجاب اربن میں 4662‘ خیبر پختونخوا کے دیہی علاقوں میں 480‘ اربن علاقوں میں 798‘ بلوچستان کے دیہی علاقوں میں 90اور اربن علاقوں میں 361‘ آزاد کشمیر کے دیہی علاقوں میں 200‘ اربن میں 241‘ گلگت بلتستان کے دیہی علاقوں میں 49‘ شہری علاقوں میں 50‘ فاٹا کے دیہی علاقوں میں 39‘ شہری علاقوں میں 21‘ اور وفاقی دارالحکومت کے دیہی علاقوں میں 13 اور شہری علاقوں میں 430 بنک کام کر رہے ہیں الائیڈ بنک کی 1012‘ عسکری بنک کی 396‘ بنک الحبیب کی 526‘ بینک الفلاح کی 638 اور بنک اسلامی کی 319 ‘ حبیب بنک کی 1642‘ ایم سی بی کی 1247‘ نیشنل بنک آف پاکستان کی 1410‘ یونائیٹڈ بنک کی 1367 برانچیں کام کر رہی ہیں۔

اس کے علاوہ زرعی ترقیاتی بنک کی 438 برانچیں بھی مختلف علاقوں میں قائم ہیں وزارت خزانہ کی طرف سے بتایا گیا کہ گریڈ 21 میں 1‘ گریڈ 20 میں 4‘ گریڈ 19 میں 34‘ گریڈ 18 میں 35 افسران کام کر رہے ہیں۔ تمام افسران ہیڈ کوارٹرز کے علاوہ صوبوں اور بی آئی ایس پی کے مختلف دفاتر میں تعینات ہیں۔ وزارت خزانہ کی طرف سے بتایا گیا کہ فروری 2013ء کے آخر تک واجب الادا سرکاری قرضے کی کل رقم 13477.8 ارب روپے تھی۔

وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ بی آئی ایس پی بورڈ کے منظور شدہ ڈیٹا شیئرنگ پروٹوکول کے مطابق فائدہ اٹھانے والوں کے نام اور پتے نہیں بتائے جاسکتے۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی متعلقہ حصہ داران کے ساتھ تکنیکی مشاورت کے عمل میں ہے تاکہ ملک بھر میں نئے سروے کی ضرورت کا جائزہ لیا جائے۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ وزیر منصوبہ بندی و ترقی اپنے متعلقہ سوال کا خود جواب دینا چاہتے ہیں وہ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے ایوان میں نہیں آسکے وہ اس سوال کا جواب خود تیار کرکے دینا چاہتے ہیں تاکہ پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے وہ ارکان کے سوالات کے تفصیلی جوابات دے سکیں۔

فرحت اللہ بابر اور دیگر ارکان نے کہا کہ حکومت سوال کا جواب نہیں دینا چاہتی۔ قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا کہ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے حکومت پر بغیر سوچے سمجھے الزام لگایا جو انہیں زیب نہیں دیتا۔ حکومت نے بارہا کہا ہے کہ وہ پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کے حوالے سے سنجیدہ ہے اور اس پر کام کر رہی ہے۔ قائد ایوان کی درخواست پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر فرحت اللہ بابر کے نامناسب الفاظ حذف کردیئے۔

وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ حکومت کی نیت اور ارادوں پر شک نہ کیا جائے۔ حکومت نے کوئی معلومات چھپائی نہیں ہیں‘ تمام معلومات ایوان میں فراہم کرتے ہیں۔ارکان کے سوالات کے جوابات بھی دیں گے اور ان کو اطمینان دلائیں گے۔ ڈپٹی چیئرمین نے سوال موخر کردیا بعد ازاں سینٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دیاگیا ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/11/2015 - 17:32:21

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں