سینیٹ میں اپوزیشن کااقتصادی راہداری میں مغربی روٹ اور بلوچستان کے اضلاع کو نظرانداز ..
تازہ ترین : 1

سینیٹ میں اپوزیشن کااقتصادی راہداری میں مغربی روٹ اور بلوچستان کے اضلاع کو نظرانداز کرنے پر احتجاجاً علامتی واک آؤٹ

پاکستان کا اقتصادی روڈ میپ سب کو نظر آرہا ہے کئی ارکان مختلف ایشوز پر مجھ سے بات کرتے ہیں مجموعی مسائل کے حوالے سے تبادلہ خیال نہیں کرتے ہمیں مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے اجلاس کے دور ان اظہار خیال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 نومبر۔2015ء) سینٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے پاک چین اقتصادی راہداری میں مغربی روٹ اور بلوچستان کے اضلاع کو نظرانداز کرنے پر احتجاجاً علامتی واک آؤٹ کیا ڈپٹی چیئرمین کی ہدایت پر حکومتی ارکان اپوزیشن کو منا کر ایوان میں واپس لائے جبکہ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہاہے کہ آئی ایم ایف سے قرضہ شوق سے نہیں لیا داسو اور سندھ کے منصوبوں کیلئے بھی پیسے لئے ملکی مفاد پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا پاکستان کا اقتصادی روڈ میپ سب کو نظر آرہا ہے کئی ارکان مختلف ایشوز پر مجھ سے بات کرتے ہیں مجموعی مسائل کے حوالے سے تبادلہ خیال نہیں کرتے ہمیں مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے ۔

جمعہ کو سینٹ اجلاس میں وقفہ سوالات کے دور ان وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے بتایا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کو تعصب کی عینک سے نہیں دیکھنا چاہیے‘ مشرقی اور مغربی روٹ پر منصوبے کے مطابق کام کیا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت مشرقی اور مغربی روٹ پلان کئے گئے ہیں دونوں روٹس کو فی الحال سنگل اور بعد ازاں موٹروے میں تبدیل کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ روڈ کی تعمیر کے منصوبے الگ ہیں اور دیگر اقتصادی منصوبے ان شاہراہوں کے ساتھ بنیں گے ان میں توانائی کے پنجاب میں 5 ہزار میگاواٹ‘ سندھ میں 4 ہزار میگاواٹ‘ بلوچستان میں 300 میگاواٹ‘ کے پی کے میں 1300 میگاواٹ اور آزاد کشمیر میں 11 سے 12سو میگاواٹ کے منصوبے بنیں گے ۔اجلاس کے دور ان وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ کے جواب سے مطمئن نہ ہونے پر سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ ہم احتجاجاً واک آؤٹ کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کرگئے اسی دوران سینیٹر سردار اعظم موسیٰ خیل نے کورم کی نشاندہی کردی اور باہر چلے گئے جس پر قائد ایوان نے انہیں کہا کہ آپ باہر نہیں جاسکتے تاہم وہ ایوان سے چلے گئے ڈپٹی چیئرمین کی ہدایت پر حکومتی ارکان اپوزیشن کو منا کر ایوان میں واپس لائے۔

اجلاس کے دور ان پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر نعمان وزیر پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق سوال کا جواب موصول نہ ہونے پر واک آؤٹ کرگئے۔ وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے بتایا کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق سوال کا جواب وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال خود آکر دینا چاہتے ہیں۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ ہمیں یہ طریقہ کار قبول نہیں۔

وہ ڈپٹی چیئرمین کے روکنے کے باوجود ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔ اجلاس کے دور ان اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ میں بار بار کہتا ہوں کہ ہمیں مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے‘ کئی ارکان مختلف ایشوز پر مجھ سے بات کرتے ہیں تاہم مجموعی مسائل کے حوالے سے تبادلہ خیال نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کے حوالے سے ہمیں مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔

کیا ہم نے جو فسکل ڈیفیسٹ پارلیمان نے منظور کیا ہے اس میں رہ رہے ہیں یا نہیں پاکستان کو 2013ء میں میکرو اکنامک لحاظ سے غیر مستحکم ملک قرار دیا جاچکا تھا۔ ایک چیز واضح ہے کہ قرضہ بڑھے گا جب تک ہم مالیاتی خسارے سے نہیں نکلیں گے۔ عہدے کا چارج سنبھالتے ہی میں نے 32 اداروں سے سیکرٹ فنڈز واپس لئے اور سٹیٹ بنک کو منتقل کئے۔ صرف دو انٹیلی جنس اداروں کے پاس یہ دستیاب ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض عناصر کی طرف سے منفی تاثر پھیلانے کی کوشش ہو رہی ہے‘ حقائق اس سے بہت مختلف ہیں جو بتائے جارہے ہیں۔ کل غیر ملکی قرضے 65 بلین ہیں اس میں پرائیویٹ سیکٹر کے قرضے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف حکام سیلز ٹیکس بڑھانے کا کہہ رہے تھے ہم نے ان کی بات نہیں مانی۔ تمام سیاسی جماعتیں معاشی مسئلے پر سیاست سے بالاتر ہوکر میثاق معیشت کریں۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہمارا بجٹ اب بھی خسارے میں ہے۔ یہ کہنا کہ قرضہ نہیں بڑھے گا غلط ہے‘ قرضہ بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب پر پیسہ خرچ ہوا ہے۔ اس حوالے سے عالمی برادری کی طرف سے کمٹمنٹس کی جاتی ہیں ،دیا کچھ نہیں جاتا۔ سول آرمڈ فورسز کو بڑھا رہے ہیں۔ اس سال سو ارب روپے آئی ڈی پیز کیلئے رکھے ہیں۔ ان کو باعزت طریقے سے گھر بھیجنا ہے تین ادارے مل کر یہ کام کر رہے ہیں تاکہ شفاف طریقے سے یہ کام ہوسکے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں آئی ایم ایف جانے کا کوئی شوق نہیں‘ ان سے جنگیں کرتا رہا ہوں۔ ہم نے کسی سے ڈکٹیشن نہیں لی۔ اگر ہم آئی ایم ایف سے پیسہ نہ لیتے تو کسی اور ملک کو چلے جاتے۔ داسو کیلئے اور سندھ کے منصوبوں کے لئے پیسہ لیا‘ہم نے پیسہ لیا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی موجودگی رکھنی پڑتی ہے۔ پاکستان جس صورتحال میں تھا اس سے نکلنے کے لئے آئی ایم ایف سے بات کرنا پڑی۔

سعودی عرب‘ کویت سمیت ہر ملک ہم سے بزنس پر راضی ہے ۔ اب ہم ہر جگہ نظر آرہے ہیں۔ میکرو اکنامک روڈ میپ اب سب کو نظر آرہا ہے ۔اس حوالے سے بعض لوگ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو شرمناک ہے۔ میں ایوان کو تفصیلی جواب دینا چاہتا ہوں اس کے لئے وقت دیا جائے۔ چیئرمین نے کہا کہ آئندہ سیشن میں آپ کو وقت دیا جائے گا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت غریبوں اور مستحق افراد کا پیسہ بڑھایا گیا ہے۔ ہمیں انفراسٹرکچر اصلاحات کرنا ہوں گی لیکن یہیں سے اس کی مخالفت کی جاتی ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/11/2015 - 17:29:55

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں