سانحہ صفورا کیس، سرکاری وکیل کی عدم تعیناتی کے باعث التوا کا شکار
تازہ ترین : 1

سانحہ صفورا کیس، سرکاری وکیل کی عدم تعیناتی کے باعث التوا کا شکار

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 نومبر۔2015ء) سانحہ صفورا کیس سرکاری وکیل کی عدم تعیناتی کے باعث التوا کا شکار، انسداد دہشت گردی عدالت نے محکمہ داخلہ سندھ کو خط میں اسپیشل پراسیکیوٹر کو جلد تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کراچی نے محکمہ داخلہ سندھ کو خط بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سانحہ صفورا کیس سرکاری وکیل کی عدم تعیناتی کے باعث التوا کا شکارہے۔

لہذا اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کو جلد از جلد تعینات کیا جائے۔ پراسیکیوٹر کی عدم تعیناتی کے باعث اب تک باقاعدہ سماعت شروع نہ ہو سکی ہے۔حکومت کی طرف سے مقرر کردہ پراسیکیوٹر محمد خان برڑو اور مبشر مرزا نے گزشتہ ماہ سیکورٹی اور مناسب فیس نہ ملنے کے باعث پیروی سے انکار کر دیا تھا۔ پراسیکیوٹرز نے 30 لاکھ روپے مقدمے کی فیس، سیکیورٹی اسکواڈ اور محفوظ علاقے میں رہائش کا مطالبہ کیا تھا جسے محکمہ داخلہ نے منظور کر کے لاء سیکریٹری کو سفارش بھیجی تھی ، سیکریٹری قانون نے دونوں وکلاء کو تین لاکھ روپے مقدمہ فیس کی مد میں ادا کرنے کے لئے خط جاری کیا ،دونوں وکلاء کے انکار پر وزیر اعلیٰ کے مشیر قانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے رابطہ کر کے مناسب فیس کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم سیکریٹری قانون کی جانب سے پھر دونوں وکلاء کو 6 لاکھ روپے فیس ادا کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

وقت اشاعت : 13/11/2015 - 11:48:00

اپنی رائے کا اظہار کریں