ایتھلیٹس پر ممکنہ پابندی ، روس کا اتحادی ممالک کے ساتھ ریو اولمپکس کے بائیکاٹ ..
تازہ ترین : 1
ایتھلیٹس پر ممکنہ پابندی ، روس کا اتحادی ممالک کے ساتھ ریو اولمپکس ..

ایتھلیٹس پر ممکنہ پابندی ، روس کا اتحادی ممالک کے ساتھ ریو اولمپکس کے بائیکاٹ کا عندیہ

ماسکو (اردو پوائنٹ تازہ تر ین اخبار12نومبر۔2015ء ) روس پر بدعنوانی اور ڈوپنگ کے الزاما ت بحران کی صورت اختیار کرگیا ہے اور روسی ایتھلیٹس پر 2016ء ریو اولمپکس میں شرکت پرپابندی کے گہرے سائے منڈلا رہے ہیں ، اگر اس طرح کا فیصلہ ہوگیا تو روس اور اس کی اتحادیوں کی جانب سے میگا ایونٹ کے بائیکاٹ خارج ازامکان نہیں ۔ روس کی قسمت کا فیصلہ جمعے کو ہوگا جس میں روس کو ریو اولمپکس کے بارےشرکت دینے کی اجازت اور واڈا کمیشن کی رپورٹ پر بات کی جائے گی ۔

ورلڈ ایتھلیٹکس کمیٹی نےروس کو ایک ہفتے کے اندرواڈا کمیشن میں لگائے گئے ان الزامات کی وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ دوسری جانب روس نے ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کی جانب سے معطل کئے جانے کے بعد ملک کی ڈوپنگ لیبارٹری کو بند کردیا اور روس میں اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے سربراہ گریگوری نے اپنے عہدے سےاستعفی دے دیا ۔ ادھر انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے آئی او سی کے اعزازی رکن لامینے ڈیاک کو معطل کردیا ہے۔

وہ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن ایتھلیٹکس فیڈریشن کے صدر بھی رہ چکے ہیں ۔ فرانسیسی حکام لامینے ڈیاک کیخلاف کرپشن اور روس ڈوپنگ کیس میں رشوت لینے کےحوالے سے تحقیقات شروع کررہی ہے ۔ آئی او سی کا کہنا ہےکہ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کی ساکھ پر سوال کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا)نے پیر کو ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں روس پر اینٹی ڈوپنگ کوڈ کی خلاف ورزی کے الزام عائد کیا گیا تھا اور اس پر ایتھلیٹکس مقابلوں پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی تھی ۔

اس سے قبل روسی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے سربراہ نکیتا کمیوف نے ان الزامات کو بے بنیاد قراردیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کے ذرائع کی ساکھ پر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں کیونکہ جن لوگوں کو شامل کیا گیا ہے وہ خود ڈوپنگ ٹیسٹ میں ناکام ہوئے تھے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے تمام احکامات کی مکمل تعمیل کرتے ہوئے ملک کی ڈوپنگ لیبارٹری کی سرگرمیاں بند کر دی گئی ہیں۔

روس پرپابندی لگنے کے بعد انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گی ۔ 2017ء ورلڈ چیمپئن شپ کے چیئرمین وارنر نے بھی آئی اے اےایف سے روس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔خیال رہے کہ آئی اے اےایف روس پرڈوپنگ الزامات ثابت ہونے پر ریو اولمپکس سمیت 2017ء ورلڈ چیمپئن شپ پر پابندی عائد کرسکتا ہے ۔ واضح رہے کہ روس نے 2012ء سمر اولمپکس میں مجموعی طور پر81میڈلز جیتے جس میں 24 سونے،25 چاندی اور 32 کانسی کے تمغے شامل ہیں اور آئی او سی نے روسی ایتھلیٹس سے تمغے واپس لینے پر غور شروع کردیا ہے ۔

وقت اشاعت : 12/11/2015 - 21:48:30

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں