امتحانی نظام میں مکمل شفافیت کے باوجود کامیاب ہونے والے امیدواروں کی کامیابی ..
تازہ ترین : 1

امتحانی نظام میں مکمل شفافیت کے باوجود کامیاب ہونے والے امیدواروں کی کامیابی کے تناسب میں تین فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے‘اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے ناظم امتحانات محمد عمران خان چشتی

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 نومبر۔2015ء)اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے ناظم امتحانات محمد عمران خان چشتی نے انٹرمیڈیٹ سال اول پری میڈیکل کے سالانہ امتحانات برائے 2015ء کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال نقل کی روک تھام اور امتحانی نظام میں مکمل شفافیت کے باوجود پری میڈیکل کے نتائج میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کی کامیابی کے تناسب میں تین فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امیدواروں کی کامیابی کا تناسب بڑھنے یا کم ہونے کا تعلق شفاف امتحانی نظام کے ساتھ طالب علموں کی اپنی محنت اور صلاحیتوں سے بھی ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرمیڈیٹ سال اول کے باقی رہ جانے والے پری انجینئرنگ اور کامرس ریگولر کے نتائج کا اعلان بھی بہت جلد کردیا جائے گا۔ ناظم امتحانات محمد عمران خان چشتی نے انٹربورڈ کے شعبہ امتحانات کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ شعبہ امتحانات کے عملے کی کارکردگی مثالی اور لائق تحسین ہے، امتحانی نتائج کی تیاری کیلئے لازمی ٹیبولیشن رجسٹر سمیت دیگر ضرور ی اشیاء تاخیر سے فراہم کیے جانے کے باوجود شعبہ امتحانات کے عملے نے اپنی دن رات کی محنت سے نتائج کے اتنی جلد اجراء کو یقینی بنایا ہے۔

ناظم امتحانات کا کہنا تھا کہ انٹرمیڈیٹ بورڈ کے دیگر شعبوں کے مقابلے میں شعبہ امتحانات کی مثالی کارکردگی لیڈرشپ کے وژن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نتائج کی تفصیلات بتاتے ہوئے محمد عمران خان چشتی نے کہا کہ پری میڈیکل سال اول کے امتحانات میں 18141 امیدواروں نے رجسٹریشن حاصل کی جبکہ 17882 امیدوار امتحانات میں شریک ہوئے جس میں سے 8852 امیدوار تمام چھ پرچوں میں، 2329 امیدوار پانچ پرچوں میں، 2315 امیدوار چار پرچوں میں، 1808 تین پرچوں میں، 1346 دو پرچوں میں اور 936 امیدوار ایک پرچے میں کامیاب قرار پائے۔

محمد عمران خان چشتی نے بتایا کہ ان امتحانات میں چھ پرچوں میں کامیابی حاصل کرنے والے امیدواروں کا تناسب 49.61 فیصد، پانچ پرچوں میں 13.05 فیصد، چار پرچوں میں 12.98 فیصد، تین پرچوں میں 10.13 فیصد، دو پرچوں میں 7.54 فیصد جبکہ ایک پرچے میں 5.25 فیصد رہا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/11/2015 - 21:43:55

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں