حکومتی اراکین ٹی وی پر آکر ہماری کر دار کشی کرتے ہیں ٗ ریاستی ادارے کو کوئی حق ..
تازہ ترین : 1

حکومتی اراکین ٹی وی پر آکر ہماری کر دار کشی کرتے ہیں ٗ ریاستی ادارے کو کوئی حق نہیں کہ آئینی سول حکومت پر تنقید کرے ٗاعتزاز احسن

الیکشن جیسے جمہوری عمل کیلئے فوج کو بلایا جاتا ہے، ہرمعاملے میں فوج کو گھسیٹ لیا جاتا ہے ٗمحسن لغاری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین ۔۔ آئی پی اے ۔۔12 نومبر۔2015ء )سینٹ میں قائد حزب اختلاف سید اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ حکومتی اراکین ٹی وی پر آکر ہماری کر دار کشی کرتے ہیں ٗ ریاستی ادارے کو کوئی حق نہیں کہ آئینی سول حکومت پر تنقید کرے ٗحکومت کے ساتھ کھڑا ہوں ٗ ہر ادارے کو آئین کے تحت کام کرنا ہو گا۔جمعرات کو سینٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ ناقص گورننس صرف سول اداروں میں نہیں بلکہ عدلیہ اور عسکری اداروں میں بھی ہے ٗ ناقص گورننس کے خاتمے کیلئے ایک طریقہ کار موجود ہے ٗ کمانڈرز کانفرنس میں جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ نہایت غلط ہے ٗ ایسا بیان حکومتی نااہلی ظاہر کرتا ہے یہ سوال فوج سے بھی پوچھا جاسکتا ہے لیکن کبھی سرعام ایسا نہیں ہوا ۔

حکومت کو اس کا جواب دینا چاہیے تھا تاہم مجھے حکومتی ترجمان بننا پڑرہا ہے ٗ انتہائی اہم بحث ہورہی ہے لیکن حکومتی ارکان یہاں موجود نہیں جس پر چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ اسی وجہ سے حکومت کو ناقص گورننس کا طعنہ دیاجاتا ہے حکومت کے پاس کوئی وزیر خارجہ نہیں نہ ہی کوئی مستقل وزیردفاع ، آئی ایس پی آر کا بیان بہت دور رس ہے اس کو دیکھنا ہوگا ۔

قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومتی اراکین ٹی وی پر آکر ہماری کردار کشی کرتے ہیں ، فوج کو کوئی حق نہیں کہ آئینی سول حکومت پر تنقید کرے ۔ پختون ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ فوج خارجہ اور داخلہ پالیسی میں مسلسل مداخلت کررہی ہے ٗ پالیسیاں ترتیب دینا فوج کا نہیں منتخب عوامی نمائندوں کا حق ہے ، مسلم لیگ (ن )کے سینیٹر نیہال ہاشمی نے کہا کہ کچھ ادارے اپنے دائرہ کار سے باہر ہوتے ہیں ، پارلیمنٹ ہمیشہ سے ہی تختہ مشق رہی ہے ۔

چیئرمین رضاربانی نے کہا کہ حکومت کو صرف تجویزدے سکتا ہوں کہ تمام ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہیں اور حکومت پارلیمنٹ کا ان کیمرہ مشترکہ اجلاس بلائے ، ممکن نہیں تو سینیٹ میں معاملہ لایا جائے ، مسائل کا حل پارلیمنٹ میں ہے ۔ سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ زلزلے ہوں یا سیلاب، فوج کو بلایا جاتا ہے، سول ادارے اپنے کام نہیں کرتے، الیکشن جیسے جمہوری عمل کیلئے فوج کو بلایا جاتا ہے، ہرمعاملے میں فوج کو گھسیٹ لیا جاتا ہے، بے شک ناقص گورننس کا معاملہ آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز میں نہیں آنا چاہیے تھا، مسلم لیگ ن کے سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ فوج کو سول حکومت کا سپروائزر نہیں بننا چاہیے تھا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/11/2015 - 18:07:14

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں