موجودہ حکومت کی کوششوں سے 2017 تک ملک و قوم کو لوڈشیڈنگ سے نجات مل جائیگی،چوہدری ..
تازہ ترین : 1

موجودہ حکومت کی کوششوں سے 2017 تک ملک و قوم کو لوڈشیڈنگ سے نجات مل جائیگی،چوہدری محمد نواز

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 نومبر۔2015ء) فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر چوہدری محمد نواز نے قصور میں بلوکی کے مقام پر 1223 میگا واٹ کے پاور پلانٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ حکومت کی کوششوں سے 2017 تک ملک و قوم کو لازماً بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نجات مل جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غالباً پہلی بار توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے سنجیدہ کوششیں کرنے کے ساتھ ساتھ سستی بجلی پیدا کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف نے صاف اور شفاف منصوبوں کے ذریعے پاکستان میں کک بیک کے بغیر بڑے بڑے منصوبے پہلے سے بھی کم قیمت میں تیار کراکر ثابت کر دیا ہے کہ اس سے پہلے زیادہ تر منصوبوں میں رشوت چلتی رہی جس کی وجہ سے نہ تو لوڈ شیڈنگ کا مسٴلہ حل ہوا اور نہ ہی لوگوں کو سستی بجلی مل سکی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت داسو اور دیا میر بھاشا جیسے بڑے بڑے پن بجلی کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ ایسے منصوبوں پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے جنہیں موجودہ حکومت کے دور میں ہی مکمل کر لیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنا دراصل میاں محمد شہباز شریف کی انتظامی صلاحیتوں کا امتحان ہے اور انہیں توقع ہے کہ وہ اپنی ان کوششوں میں ضرور کامیاب ہونگے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومت صرف دعووٴں کی حد تک نہیں بلکہ انہوں نے کئی منصوبوں پر عملی طور پر کام بھی شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو یقین ہو گیا ہے کہ یہ منصوبے انتہائی تیز رفتاری سے مکمل ہونگے اور 2017 تک لوڈشیڈنگ پر کافی حد تک قابو پا لیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں بڑے پیمانے پر صنعتیں قائم ہیں جو بجلی کی قلت کی وجہ سے اپنی پوری استعداد کار کے مطابق چل نہیں رہیں۔

اگر ان کو ضرورت کے مطابق بجلی مہیا کر دی جائے تو اس سے جہاں صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور مزدوروں کیلئے روزگار کے نئے اضافی مواقع پیدا ہونگے وہاں سرکاری محاصل میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ملک میں شروع کئے جانے والے خاص طور پر بجلی کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے اعلیٰ سطح پر مانیٹرنگ کا بند وبست کرنا ہوگا تا کہ اس سلسلہ میں پیدا ہونے والے روزمرہ کے مسائل کو فوری اور بلا تاخیر طور پر حل کیا جا سکے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/11/2015 - 14:15:29

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں