ماحولیاتی خطرات کا مقابلہ کرنا تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جڑواں شہروں کی ..
تازہ ترین : 1

ماحولیاتی خطرات کا مقابلہ کرنا تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جڑواں شہروں کی دس یونیوسٹیوں کے طلباء و طالبات کے مابین مقابلہ کہانی نویسی، ماحولیاتی ماہرین و سول سوسائٹی نمائندوں کی شرکت، بہترین کہانی نویسوں کیلئے انعامات کا اعلان

`

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء) جڑواں شہروں کی دس یونیوسٹیوں کے طلباء و طالبات کے مابین ماحولیاتی تغیرات کے موضوع پر منعقدہ کہانی نویسی کے مقابلے کے شرکاء سے خطاب میں ماحولیاتی ماہرین و سول سوسائٹی نمائندوں نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ ماحولیات کی حفاظت تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ کا ہونے والا اجلاس (سی او پی 21سمٹ) مستقبل میں انسانی بقاء کے حوالے سے لائحہ عمل طے کرنے میں نہایت معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق غیرسرکاری ادارے پیپلز ایمپاورنگ اینڈ ڈیویلپمنٹ الٹرنیٹوز (پی ای ڈی اے) کے اشتراک سے ایک روزہ تقریب کے انعقاد کا مقصد طلباء و طالبات کوماحولیاتی معلومات سے متعلق آگاہی فراہم کرنا اور سول سوسائٹی نمائندوں سے تبادلہ خیال کا موقع فراہم کرنا تھا۔اقراء یونیورسٹی کے سوشل سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اعجاز حسین کاکہنا تھا کہ ماحولیاتی تغیرات کی بناء پر پاکستان سمیت خطے کے ممالک کو عدم استحکام جیسے مہلک خطرات کا سامنا ہے جس میں قدرتی وسائل کی کمی، سمندری سطع میں اضافے اور انتہائی شدید موسمی تبدیلیاں سرفہرست ہیں،پی ای ڈی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے اپنے خطاب میں قدرتی آفات کا حوالہ دیتے ہوئے ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے بروقت اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

قائداعظم یونیوسٹی کے سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر محمد زماں نے ماحولیاتی تغیرات، موسمی تبدلیوں، قدرتی آفات کے حوالے سے واضع پالیسی کے تعین پر زور دیا، اس موقع پر بینش چوہدری، ڈاکٹر مبشر احمد بھٹی سمیت دیگر مقررین نے ماحولیاتی تغیرات کو مستقبل میں علاقائی کشیدگی کا باعث بننے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے ٹھوس حکمت عملی کی تیاری کی تلقین کی، سرکاری ٹیلی وژن پی ٹی وی کے سینئر نیوز ایڈیٹر رمضان خالد نے ماحولیاتی مسئلے سے آگاہی فراہم کرنے کیلئے میڈیا کا پلیٹ فارم احسن طریقے سے استعمال کرنے کیلئے مختلف تجاویز کا تبادلہ کیا۔

کہانی نویسی کے شرکاء کا کہنا تھا کہ راولپنڈی اسلام آباد کی اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں میں اس نوعیت کی تقریبات کا انعقاد سے مثبت نتائج مرتب ہونے کی توقع ہے۔ اس موقع پر منتظمین کی جانب سے بہترین کہانی نویسوں کو انعامات اور دیگر علاقائی زبانوں میں ترجمہ کرکے شائع کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/11/2015 - 23:15:19

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں