لیز پر دی گئی زمین کی واپسی بارے سپریم کورٹ کے احکامات نظر انداز
تازہ ترین : 1

لیز پر دی گئی زمین کی واپسی بارے سپریم کورٹ کے احکامات نظر انداز

پوش سیکٹرز کے گھروں میں سرکاری و غیر سرکاری دفاتر ختم کرانے پر حکام نے چپ سادھ لی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء) سی ڈی اے حکام نے لیز پر دی گئی زمین واپس لینے سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کردیا ، ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کے احکامات کو نظروں سے اوجھل کرنے کیلئے کھوکھوں کیخلاف ہنگامی بنیادوں پر ایکشن لیا گیا ۔ وفاقی دارالحکومت کے پوش سیکٹروں کے جہاز نما گھروں میں قائم سرکاری و غیر سرکاری دفاتر ختم کرنے کیلئے سی ڈی اے حکام نے مکمل چپ سادھ لی ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ جو کہ جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس دوست محمد پر مشتمل تھا نے ایک کیس برج فیکٹر بنام سی ڈی اے سپیشل مجسٹریٹ میں 15ستمبر 2015ء کو یہ فیصلہ سنایا تھا کہ سی ڈی اے کی اربوں روپے مالیت کی قیمتی زمین جو کوڑیوں کے بھاؤ لیز پر دی گئی ہے ان کے غیر قانونی استعمال کو نہ صرف روکا جائے بلکہ غیر قانونی استعمال کرنے والوں سے یہ زمین واپس لیکر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے جبکہ اس فیصلے پر عملدرآمد کی بجائے سی ڈی اے نے دو ماہ بعد غیر قانونی کچی آبادیوں کی آباد کاری میں ملوث سی ڈی اے کے 44 افسران و ملازمین پر وفاقی تحقیقاتی ادارہ ( ایف آئی اے ) نے ناقابل ضمانت دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا تو سی ڈی اے انتظامیہ نے مضحکہ خیز اور معنی خیز انداز میں حرکت میں آگئی اور پورے شہر میں کھمبیوں کی طرح پھیلے ہوئے کھوکھوں کے کیخلاف کارروائی شروع کردی شروع کی گئی یہ کارروائی اس وقت مشکوک ہوگئی جب صرف کھوکھوں کو گرایا گیا اور کثیر المنزلہ پلازوں کوسرکاری زمین کا قبضہ چھوڑنے کیلئے مہلت دی جانے لگی نہ صرف یہ بلکہ گھریلو استعمال کیلئے الاٹ کئے گئے مکانوں کا کمرشل استعمال کرنے والے سرکاری ، نیم سرکاری ، اور دیگر طاقتور لوگوں کو نہ ہی کوئی نوٹس جاری ہوا اور نہ ہی ان کیخلاف کوئی کارروائی عمل میں آئی ایسی ایک واضح مثال سیکٹر ایف ٹین کے ایک گھر میں ایف آئی اے کا سپیشل انوسٹی گیشن سیل اور اس کی حوالات کا قیام ہے جو کہ گزشتہ کئی سالوں سے قائم ہے اور اب بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کے ان احکامات کو کھلا چیلنج دیتا نظر آتاہے جن میں واضح کہا گیا ہے کہ جن مقاصد کیلئے سی ڈی اے کی اراضی لیز کی گئی ہے اگر اس سے ہٹ کر کام کیا جارہا ہے تو سی ڈی اے حکام فوری اور سخت کارروائی کرے

وقت اشاعت : 11/11/2015 - 22:22:13

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں