سینیٹ آف پاکستان میں آزاد جموں و کشمیر یااے جے کے کونسل کے معاملات کو زیر بحث نہیں ..
تازہ ترین : 1

سینیٹ آف پاکستان میں آزاد جموں و کشمیر یااے جے کے کونسل کے معاملات کو زیر بحث نہیں لایا جا سکتا، سینٹ کمیٹی میں انکشاف

کمیٹی کا سخت برہمی و حیرانی کا اظہار،آئندہ اجلاس میں وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کو طلب کر لیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء) سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر پروفیسر ساجد میر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔قائمہ کمیٹی کے ایجنڈا میں کشمیر کونسل کے کام ،کارکردگی کے معاملات کے علاوہ دو عوامی عرضداشتوں کے معاملات شامل تھے۔چیئرمین کمیٹی و اراکین کمیٹی نے آزاد جموں اینڈ کشمیر کونسل سیکرٹریٹ کی طرف سے ادارے کے متعلق بھیجی گئی تفصیلات جس کے مطابق آزاد جموں کشمیر کی پاکستان کی پارلیمنٹ میں نمائندگی نہ ہو نے کی و جہ سے سینیٹ آف پاکستان میں آزاد جموں و کشمیر یااے جے کے کونسل کے معاملات کو زیر بحث نہیں لایا جا سکتاپر سخت برہمی و حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کو طلب کر لیا۔

رکن کمیٹی سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی ترقی و خوشحالی کیلئے بجٹ حکومت پاکستان فراہم کرتی ہے اور ان کے تحفظ کیلئے بارڈر پرہماری فوج تعینات ہے جسکا خرچہ بھی حکومت پاکستان برداشت کرتی ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ اس حوالے سے وزارت قانون سے بھی رائے طلب کی جائے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف پاکستان کو قرضہ دیتے ہیں تو ایک ایک پائی کا حساب بھی لیتے ہیں۔

فاٹا میں وفاق فنڈ فراہم کر کے اس کا آڈٹ کراتا ہے۔سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) صلاح الدین ترمذی نے کہاکہ اس ضمن میں آئندہ اجلاس میں متعلقہ وزیر سے بریفنگ حاصل کی جائے۔اراکین کمیٹی کی متفقہ رائے سے کمیٹی کا اجلاس احتجاجاً ملتوی کر دیا گیا۔سیکرٹری برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان عابد سعید نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اے جے کے کونسل ایک آزاد قانون ساز ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے۔

یہ 1974 کے ایکٹ کے مطابق کام کر رہی ہے اس کونسل کے سربراہ وزیر اعظم پاکستان ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت آزاد جموں اینڈ کشمیر اور چیز ہے اور یہ کونسل اور چیز ہے۔آئندہ اجلاس میں74 19کے ایکٹ کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے اور وزارت امورخارجہ کو بھی بلایا جائے تاکہ تمام حقائق پارلیمنٹیرین کے سامنے آ سکیں۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں عوامی عرضداشت جو مسٹر محمود شاہ و دیگر کی زمین کے معاوضے کے حوالے سے تھی کے متعلق قائمہ کمیٹی نے ہدایت دی کہ متاثرین کو جلد سے جلد زمین کا معاوضہ فراہم کیا جائے۔

اور کمیٹی کے اجلاس میں ڈاکٹر عارف عباس کی عرضداشت جو استور گلگت بلتستان میں ڈی ایچ اے ہسپتال کی ناقص صورتحال جس میں سرنجوں کے بار بار استعمال،ناقص صفائی،بجٹ کی عدم دستیابی ،کے معاملات کے حوالے تھی کے متعلق سیکرٹری عابد سعید نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ وزیر اعلی نے ان چیزوں کا نوٹس لیتے ہوئے 13تاریخ کو ایک میٹنگ طلب کی ہے جس میں تمام ہسپتالوں کے لئے یقینی فنڈز کی فراہمی عمل میں لائی جائے گی اور اس میٹنگ میں باقی معاملات کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا۔

اورسینیٹ قائمہ کمیٹی نے اس حوالے سے دو ماہ کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز حاجی مومن خان آفریدی،سراج الحق،لیفٹنٹ جنرل (ر) ریٹائرڈ صلاح الدین ترمذی اور عبد الرحمان ملک کے علاوہ سیکرٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان و دیگر اعلی حکام نے شرکت کی ۔

وقت اشاعت : 11/11/2015 - 20:00:14

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں