سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر پٹرولیم کے نہ آنے پر ارکان کا شدید ..
تازہ ترین : 1

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر پٹرولیم کے نہ آنے پر ارکان کا شدید احتجاج، واک آؤٹ ،اجلاس ملتوی کردیا گیا

تمام ارکان کے چلے جانے کے بعد وفاقی وزیرکمیٹی روم آپہنچے

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پٹرولیم و قدرتی وسائل کے اجلاس میں وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل کے آنے پر کمیٹی ارکان کا واک آؤٹ ، چیئرمین کمیٹی نے ارکان کو روکنے کی کوشش کی مگر کوشش کارگر ثابت نہ ہوئی ۔اجلاس کا ایجنڈا مکمل کرنے سے پہلے ہی برخاست کر دیا گیا ۔ وفاقی وزیر پہنچے مگر تاخیر سے ، اجلاس میں کمیٹی نے کہا کہ وزیر پٹرولیم کی عدم دلچسپی پارلیمنٹ کے وقار کو مجرو ح کرنے کے مترادف ہے کمیٹیوں کے اجلاس سرکاری محکمہ جات کی اصلاح عوام کی بحالی اور ممبران کی آئین کے تحت دی گئی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے منعقد کیے جاتے ہیں اور وزراء کی عدم شرکت اچھی روایت نہیں، کمیٹی اجلاس برخاست ہوتے ہی چیئرمین اور ممبران کمیٹی / کمیٹی روم سے باہر نکلے تو وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی آگئے ۔

کنوینئر سینیٹر نثار محمد کی طرف سے یو ایف جی کی شرح اور گیس چوری کے حوالے سے رپورٹ اجلاس میں پیش کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ گیس کمپنیاں موثر اقدامات کے ذریعے گیس چوری کو روکنے کیلئے ایسی حکمت عملی مرتب کریں جس سے یو ایف جی کی شرح کو نیچے لا یا جا سکے اور عوام پر دباؤ کی بجائے خسارہ گیس کمپنیاں برداشت کریں۔کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر میر اسرار اﷲ خان زہری کی صدارت میں منعقد ہوا ۔

ا ۔ ذیلی کمیٹی پیٹرولیم کے کمیٹی اجلاس شروع ہوا تو ممبران کمیٹی نے پچھلی کمیٹی کی بین الاقوامی پٹرولیم کمپنیوں کی حفاظت کے حوالے سے وزارت داخلہ کو بجھوائی گئی ہدایت پر وزارت داخلہ اور وزارت پٹرولیم سے بریفنگ کے لئے کہا سینیٹر محمد یوسف بادینی نے احتجاجاً سوال اٹھایا کہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت کے دو وزراء میں سے ایک وزیر بھی موجود نہیں ورکنگ پیپر اجلاس کے دوران فراہم کیا گیا ہے وزیر کی عدم شرکت پر اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ کریں گے جس پر سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ وزیر اجلاس میں شرکت کیلئے آرہے ہیں جس پر سینیٹر اعظم خان موسی خیل نے بھی واک آؤٹ کی حمایت کی ۔

سینیٹر سردار فتح محمد محمد حسنی نے کہا کہ جس صوبے میں مائنگ اور دوسرے قدرتی وسائل نکالنے یا تلاش کرنے کیلئے درخواست دی جاتی ہے اسی صوبے کی حکومت وزارت داخلہ کو این او سی کے لئے بھی خط لکھتی ہے اور سوال اٹھایا کہ کیا کوئی صوبہ اگر کمپنی یا کاروباری گروپ کو حفاظت فراہم نہ کر سکے تو وزارت داخلہ کیا اقدامات اٹھاتی ہے جس پروزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری طارق خان نے بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ وزارت داخلہ کمپنیوں کی حفاظت کی ذمہ دار نہیں ملک میں سیکورٹی کی سخت صورتحال کی وجہ سے سول آرمڈ فورسز مصروف ہیں ۔

چینی کمپنیوں کی حفاظت کیلئے پاک فوج کا خصوصی ڈویژن بنایا گیا ہے بلوچستان کے اضلاع نوشکی اور سوئی میں د وکور ہیڈکوارٹر بنائے جا رہے ہیں ۔چینی سرمایہ کاروں کی حفاظت کے لئے خصوصی حفاظتی ڈویژن قائم کر دیا گیا ہے مزید 22 ونگز بنائے جارہے ہیں جوائنٹ سیکرٹری وزارت داخلہ سلمان نے کہا کہ سول آرمڈ فورسز صرف بیرونی سرحدوں کے ذمہ دار ہیں لیکن ان سے دوہری ڈیوٹی لی جارہی ہے کے پی کے میں فرنٹیئر کور ضرب عضب میں اور فرنٹیئر کانسٹیبلری بلوچستان میں وزیراعظم کے حکم کے تحت صوبائی حکومت کی مدد کر رہی ہیں سیکرٹری پٹرولیم ارشد مرزا نے آگاہ کیا کہ میں نے ایڈیشنل سیکرٹری وزارت داخلہ سے مشاورت کی ہے اور ساتھ ہی چیئرمین کمیٹی سے کہا کہ قائمہ کمیٹی وزارت داخلہ کو تمام بین الاقوامی کمپنیوں کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے ہدایت دے ایجنڈے پر ابھی بحث جاری تھی کہ ممبران کمیٹی یوسف بادینی ، اعظم خان موسیٰ خیل نے پیٹرولیم وزیر کے انتظار کے باجود اجلاس میں عدم شرکت پر واک آؤٹ کا اعلان کر دیا جس پر سینیٹر زفتح حسنی ، باز محمد خان ، تاج آفریدی بھی واک آؤٹ کر گئے سینیٹر نثار محمد نے کہا کہ میں ایجنڈے کو مکمل کرنے سے پہلے دوسرے معاملات پر بحث اور پارلیمنٹ کے وقار کو مجروع کرنے پر اپنا الگ احتجاج ریکارڈ کر ا رہا ہوں ۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر اسرار اﷲ زہری نے اجلاس برخاست کر تے ہوئے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کی طرف سے یو ایف جی اور گیس چوری جیسے اہم معاملے پر ذیلی کمیٹی کی رپورٹ چیئرمین سینیٹ کو بجھوائی گئی عوامی اعرض داشتوں اور تیل و گیس تلاش کرنے والی بین الاقوامی کمپنیوں کی ملک بھر میں حفاظت جیسے اہم ترین قومی معاملے پر کمیٹی کے پچھلے اجلاس میں دی گئی ہدایات پر عمل درآمد کی بریفنگ دی جارہی تھی

وقت اشاعت : 11/11/2015 - 19:53:03

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں