موسمیاتی تبدیلی سے پاکستان کی زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے، ہم ملینیئم ..
تازہ ترین : 1

موسمیاتی تبدیلی سے پاکستان کی زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے، ہم ملینیئم ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکے ، اس وقت پاکستان گلوبل وارمنگ کابہت کم حصہ دار ہے ، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی تبدیلی کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں‘ درجہ حرارت کو کم کرنے کیلئے پاکستان موثر اقدامات کرے گا‘ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ نشانہ بنا ہوا ہے

سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی کی اس اہم موضوع پر بحث کے دوران عدم موجودگی باعث تشویش ہے، چیئرمین سینیٹ نے موسمیاتی تبدیلی کی قائمہ کمیٹی کوخصوصی کمیٹی میں تبدیل کردیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء) وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ نے کہاہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے پاکستان کی زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے ہم ملینیئم ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکے‘ جو وزیر کہتا ہے کہ ہم نے حاصل کئے ہیں اسے اس ایوان کو حقیقت بتانی چاہئے‘ اس وقت پاکستان گلوبل وارمنگ کابہت کم حصہ دار ہیں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی تبدیلی کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں‘ درجہ حرارت کو کم کرنے کیلئے پاکستان موثر اقدامات کرے گا ۔

وہ بدھ کو سینیٹ کے اجلاس میں پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیر رحمان کی ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے تحریک التواء کا جواب دے رہے تھے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کو ہمیشہ ایسی جگہوں پر گھسیٹا گیا جن سے نہ تو ہماری عوام کا تعلق تھا اور نہ ہی حکومت کا ‘ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ نشانہ بنا ہوا ہے‘ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی کا اس اہم موضوع پر بحث کے دوران موجود نہ ہونا تشویش کا باعث ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کی قائمہ کمیٹی کو سپیشل کمیٹی میں تبدیل کردیا۔سینیٹر شیری رحمان نے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے تحریک التواء پیش کرتے ہوئے کہا کہ پیرس میں کوپ 21 کانفرنس ہورہی ہے اور اس کانفرنس میں جو ممالک ماحولیاتی تبدیلی پر اثر انداز ہوتے ہیں وہ کاربن ٹیکس ادا کرتے ہیں پاکستان نے اپنی موسمیاتی تبدیلی پر کوئی پالیسی نہیں ببائی اور ایک موقع ضائع کردیا ہمارا ملک دنیا کے تین سب سے زیادہ آلودہ ملکوں میں شامل ہے کیونکہ موسمیاتیت بدیلی کا سب سے بڑا نشانہ ہیں ماحولیاتی دباؤ کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوگا اور موسمیاتی تبدیلی کا کوئی وزیر نہیں ہے۔

وزیراعظم اگر جارہے ہیں تو پیپلز پارٹی کی بنائی ہوئی پالیسی لے جائیں کیونکہ حکومت نے تو پالیسی بنانی ہی نہیں ہم ین بہت سے مواقع ضائع کئے اب اس کا جواب کوئی نہیں دے سکتا امریکن کانگریس نے اسے قومی رسک قرار دیا ہے موسمیاتی تبدیلی سے غربت‘ دہشت گردی میں بھی اضافہ ہوگا اگر پالیسی حکومت کی جانب سے بنائی گئی ہے تو اسے ایوان میں آنا چاہئے سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ پاکستان کو ملینیئم ترقی کے اہداف میں پاکستان کو کامیابی نہیں ملی پائیدار ترقی کے اہداف میں موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو بھی لانا چاہئے کیونکہ پاکستان میں زلزلے کی وجہ سے تباہی ہوتی ہے دنیا میں غربت اور تباہی ترقی یافتہ ملکوں کی جانب سے جنگوں پہ تعاون کرنا ہے سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کی نگرانی کے لئے اسلام آباد میں دفتر قائم کیا گیا اور اس کا کو دفتر صوبوں میں نہیں بنایا گیا صوبوں کے تعاون کے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے موسمیاتی تبدیلی پاکستان اور بھارت کا سب سے بڑا مسئلہ اور دونوں ممالک کو اس پر بیٹھ کر بات کرنی چاہئے سینیٹر کریم احمد خواجہ نے کہا کہ چالیس سال بعد کراچی اور ٹھٹھہ کے ڈوبنے کا اشارہ ہے مگر حکومت نے 2015 کے اہداف میں اس کا ذکر تک نہیں کیانعمان وزیر خٹک نے کہا کہ ہمارا ا بھی تک وزیر موسمیاتی تبدیلی ہی نہیں او راس پر واضح پالیسی تک نہیں بنائی گئی۔

اس ایوان کے اس مسئلہ کو سنجیدہ لیتے ہوئے اس پر کمیٹی بنانی چاہیے۔ سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ ملینئیم ڈویلپمنٹ اہداف اور پائیدار ترقی کے اہداف میں حکومت نے کام ہی نہیں کیا اور ابھی تک ایک ہدف بھی مکمل طور پر حاصل نہیں کیا جاسکا۔ بدین ‘ ٹھٹھہ اور کراچی کا سمندر میں ڈوبنے کا خطرہ ہے جس پر ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہو گا اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کا خیال کرے۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کا سامنا ہے۔ ہمارے لئے یہ انتہائی شرم کی بات ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پر کانفرنس میں جا رہے ہیں مگر ہمارے پاس وزیر ہی نہیں چیئرمین آپ وزیر اعظم کو گرین فون کریں یا ریاض پیرزادہ کو اضافی قلمدان دیاجائے یا پھر شیری رحمن کو 3 ماہ کیلئے وزیر بنا دیا جائے۔ سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ وفاق میں و زیر نہیں اور صوبوں میں جنگلات کے محکمہ کو کوئی لیتا ہی نہیں کیونکہ اس میں کچھ نہیں ۔

ہماری بہت سی پہاڑیوں پر درخت نہیں ہیں ایمرش درخت جو کہ نایاب درخت ہیں کاٹ کے ختم کر دئیے ہیں۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی آج سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ حکومت کو اس وزارت کو اہمیت کی حامل وزارت بنانا چاہیے۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہاکہ بلوچستان میں ڈراؤٹ چاغی میں ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے آیا پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے پائیدار وفاق ہونا چاہیے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ہم اب بھی حادثات کے انتظار میں ہیں جس طرح ہم دفاع پر بجٹ خرچ کرتے ہیں اس طرح ہمیں اس پر بجٹ میں خطیر رقم مختص ہونے چاہیے کم ترقی یافتہ علاقوں کے لوگوں کی آمدن اور اسلام آباد میں ایک سکول کے بچے کا جیب خرچ برابر ہے۔ ترقی کیلئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس کا فقدان آج ہمارے ملک میں ہے

وقت اشاعت : 11/11/2015 - 18:11:25

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں