کول پاور انرجی پاکستان کے توانائی بحران کا بہترین حل ہے ‘وزیر معدنیات چوہدری ..
تازہ ترین : 1

کول پاور انرجی پاکستان کے توانائی بحران کا بہترین حل ہے ‘وزیر معدنیات چوہدری شیر علی خان

لاہور ( (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء))صوبائی وزیر معدنیات و کان کنی چوہدری شیر علی خان نے کہا کہ سالٹ رینج میں موجود کوئلے سے 300 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ 2018 تک مکمل کر لیا جائے گا،سالٹ رینج میں 600 ملین ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں مگرتوانائی پیدا کرنے کے لئے کلین کول ٹیکنالوجی استعمال کرنا بہت ضروری ہے تاکہ ماحول پر منفی اثرات نہ پڑیں ،حکومت پنجاب توانائی بحران کے حل کے لئے ماحول دوست کول پاور کی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کر رہی ہے ۔

انہوں نے یہ بات اپنے دفتر میں انرجی ماہرین اور محکمہ معدنیات کے افسران کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ کوئلے کی کان کنی مشکل مرحلہ ہے تاہم کوئلہ نکالنے کے لئے جدید طریقے بھی اپنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں توانائی کی بچت کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو پی ایس بجلی چوری کرتا ہے اور بیٹریاں ری چارج کرنے کے لئے زیادہ بجلی استعمال کرتا ہے صارفین سردیوں میں یو پی ایس استعمال نہ کریں- ایک اندازہ کے مطابق یو پی ایس 2 ہزار میگا واٹ بجلی استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف توانائی کے بحران کے خاتمے کے لئے دن رات محنت کر رہے ہیں۔ چوہدری شیر علی خان نے کہا کہ پاکستان کی صرف 67فیصد آبادی کو بجلی میسر ہے جبکہ بین الاقوامی ادارہ توانائی کے مطابق پاکستان کو 2025 تک 49 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنی پڑے گی- انہوں نے کہا کہ 2025 تک تما م ڈیم بن بھی جائیں تو 15 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر سکیں گے۔

پاکستان فرنس آئل کی خریداری پر 20 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کر رہا ہے، پاکستانی کوئلہ ملک کے توانائی کے بحران کا واحد حل ہے۔ جنوبی افریقہ 93 فیصد، چین 81 فیصد، بھارت 71 فیصد اور آسٹریلیا 69 فیصد بجلی کوئلے سے پیدا کر رہا ہے جبکہ پاکستان کوئلے کے لامحدود ذخائر ہونے کے باوجود صرف اعشاریہ چھ فیصد بجلی کوئلے سے پیدا کر رہا ہے جبکہ صرف تھر میں 30 ٹریلین ڈالر مالیت کے 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں جن سے 500 سال تک ایک لاکھ میگا واٹ بجلی سالانہ حاصل کی جا سکتی ہے۔

تھر میں موجودہ مقامی کوئلہ توانائی پیدا کرنے کے لئے بہترین کوئلہ ہے جس کی اپ گریڈیشن کی ضرورت نہیں جبکہ پنجاب ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی کوئلے کے ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2025 تک 49 ہزار میگا واٹ بجلی کے پیدا کرنے کے لئے کان کنی انتہائی اہم ہے اور توانائی پیدا کرنے کے لئے ماحول دوست ٹیکنالوجی استعمال کرنا ضروری ہے تاکہ ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگلے 100 سال تک کوئلہ توانائی پیدا کرنے والا سب سے بڑا ذریعہ ہو گا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/11/2015 - 15:21:44

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں