سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں لئے گئے زیادہ تر ازخود نوٹسز قانون سے ماورا ..
تازہ ترین : 1

سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں لئے گئے زیادہ تر ازخود نوٹسز قانون سے ماورا تھے،صدر سپریم کورٹ بار

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء)صدر سپریم کورٹ بار بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ ججز کے تقرر میں بار کے کردار کو بڑھایا جائے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں لئے گئے زیادہ تر ازخود نوٹسز قانون سے ماورا تھے ان پر نظر ثانی کی جائے پی سی او ججز کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں اس پر بھی نظر ثانی کی جائے ججز کو صرف آرٹیکل 209 کے تحت ہی نکالا جاسکتا ہے وکلاء کے حوالے سے شکایات بارے انضباطی ٹریبونلز کو فعال کرنے کیلئے کہہ دیا ہے جمہوریت آزاد عدلیہ اور آئین و قانون کو کوئی خطرہ ہوا تو جمہوری قوتوں کے ساتھ کھڑے ہونگے ہم نے چیف جسٹس پاکستان کو واضح کیا ہے کہ بینچ اور بار کے باہمی احترام کا خیال رکھے جانے سے ہی عام لوگوں کو جلد سے جلد انصاف ملے گا مقدمہ کی سپلمنٹری کاز لسٹ اور اہم مقدمات کے جلد لگانے کے حوالے سے وکلاء کو بھی رائے میں شامل کیاجائے تاہم مقدمات کے نمٹانے میں وکلاء عدلیہ کا بھرپور ساتھ دینگے سپریم کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی ظفر کا کہنا تھا کہ ریڈ زون کی وجہ سے وکلاء کو سپریم کورٹ تک پہنچنے میں مشکلات درپیش تھیں اور ٹیکسی گاڑی کو آگے نہیں آنے دیاجاتا تھا اس کیلئے شیٹل سروس شروع کردی ہے سپریم کورٹ پارکنگ میں وکلاء کی گاڑیوں کیلئے شیڈز اور دیگر سہولیات بھی فراہم کررہے ہیں ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عدلیہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرے تو انہوں نے کہا کہ ججز کا تقرر میں بار کا کردر انتہائی کم رکھا گیا ہے حالانکہ ججز کے بارے میں جتنا بار ممبران بہتر جانتے ہیں اتنا کوئی نہیں جانتا پی سی او ججز کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ پی سی او ججز بارے سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا تھا وہ قابل قبول نہیں کیونکہ ہمارا موقف ہے کہ ججز کو صرف آئین کے آرٹیکل 209کے تحت ہی نکالا جاسکتا ہے اور اسی بات کی وجہ سے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری بھی بحال ہوئے تھے لیکن عدلیہ نے جو طریقہ اختیار کیا ہے یہ دنیا میں کئی اختیار نہیں کیا گیا چاہتے ہیں اس پر نظر ثانی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسا دوبارہ نہ ہوسکے اس بات پر خوشی ہے کہ چار ججز جن سے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے حلف لیا تھا ان کو فارغ کردیا گیا تھا اب دوبارہ عدلیہ میں واپس لایا گیا ہے ہم چاہتے ہیں کہ آئین اور قانون جو کہتا ہے اس کے مطابق ہی کام ہونا چاہیے ازخود نوٹس بارے اختیار کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس اختیار کے استعمال میں اور سٹیپنگ کی گئی اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا جو شفاف ٹرائل کے تصور کیخلاف ہے اگر ازخود نوٹس لینا بھی ہو تو اس حوالے سے پوری طرح چھان بین اور خصوصی معاملات میں ہی اس اختیار کا استعمال ہونا چاہیے ۔

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جانب سے نئی سیاسی جماعت بنانے کے سوال پر علی ظفر کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں راتوں رات نہیں بن جاتیں اس کیلئے کم از کم انہیں دس سال کا عرصہ درکار ہے ویسے بھی بڑے بڑے لوگ آئے اور ان کی سیاسی جماعتیں آج نظر بھی نہیں آتی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری منصوبہ بندی بڑی اور واضح ہے ہم چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ جو سپلمنٹری کاز لسٹ جاری کرتی ہے یا اہم مقدمات رجسٹری برانچوں میں لگاتی ہے اس حوالے سے وکلاء سے مشاورت کی جائے اور اس حوالے سے عملدرآمد بھی ہو اور یہی بات ہم نے موجودہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کو ان سے ملاقات کے دوران بتائی ہے اور انہیں پوری طرح یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ مقدمات کے جلد نمٹانے اور انصاف کی فراہمی میں وکلاء ان کی بھرپور معاونت کرینگے

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/11/2015 - 15:16:30

اپنی رائے کا اظہار کریں