بادشاہ لوگ ہیں آجائیں تو کارروائی آگے بڑھائی جائے‘ وزیر اعظم ایوان میں نہیں آتے ..
تازہ ترین : 1

بادشاہ لوگ ہیں آجائیں تو کارروائی آگے بڑھائی جائے‘ وزیر اعظم ایوان میں نہیں آتے تو وزرا کیوں آئینگے‘خورشیدشاہ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین ۔۔ آئی پی اے ۔۔11 نومبر۔2015ء)اپوزیشن لیڈر سید خورشید قومی اسمبلی اجلاس میں وزرا کی غیر حاضری پر پھٹ پڑے،کہا ڈھائی برس گزر جانے کے باوجود حکومت نے پارلیمنٹ کو سنجیدہ نہیں لیا ، وزیر اعظم نے وزراء کو گورننس بہتر بنانے کیلئے کچھ نہیں کہا۔قومی اسمبلی سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بادشاہ لوگ ہیں آجائیں تو کارروائی آگے بڑھائی جائے،اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے احتجاج بھی کیا۔

خورشید شاہ نے گزشتہ روز کی طرح بدھ کے روز بھی قومی اسمبلی اجلاس میں اپنی اننگز دھواں دھار انداز سے کھیلی، خطاب میں کہاکہ وزیر اعظم نے وزرا کو گورننس بہتر بنانے کیلئے کچھ نہیں کہا،وزراء کی عدم حاضری کے ساتھ بیوروکریٹس بھی سوالوں کے صحیح جواب نہیں دے رہے ،حال یہ ہے کہ ہماری باتوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا، اجلاس سے ارکان غائب ہیں، کوئی کورم کی نشاندہی نہیں کرتا، بادشاہ لوگ آجائیں تو کارروائی آگے بڑھائی جائے۔

خورشید شاہ نے کہاکہ ڈھائی برس گزرنے کے بعد بھی حکومت نے پارلیمنٹ کو سنجیدہ نہیں لیا ، وزیر اعظم نے ایوان میں آنا چھوڑدیا تو وزرا کیوں آئینگے،ہمارا وزیراعظم آتا تھا اس لیے ہمیں بھی آنا پڑتا تھا،ووٹ لینے کیلیے تووقت نکل آتا ہے ، جیتنے کے بعد یہاں آناکوئی گوارہ نہیں کرتا۔خورشید شاہ کی باتوں کا نوٹس لیتے ہوئے اسپیکر نے سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری پلاننگ اور سیکرٹری خزانہ کو فوری طلب کرلیا۔

دریں اثناء قومی اسمبلی میں کور کمانڈرز کانفرنس کا بھی چرچا رہا قائدحزب اختلاف خورشید شاہ کہتے ہیں کور کمانڈرز کانفرنس میں گورننس بہتر بنانے کی بات حکومت کے لیے بہت بڑا اشارہ ہے۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ دونوں شریفوں کو ایک پیج پر ہونا چاہیئے انہوں نے کہا کہ اگر دونوں شریف ایک پیج پر ہونگے تو ہم ان کی غیر مشروط حمایت کریں گے، جو تب ہی ہوگا جب آئین بالادست ہوگا۔

محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آئی ایس پی آر کا بیان آئین کی روح کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ وزرا اور ارکان اسمبلی کو عیاشی نہیں کرنے دیں گے، آئندہ اجلاس میں وہ کورم کی نشاندہی کرنیوالے پہلے آدمی ہونگے۔ پارلیمنٹ کے باہر بننے والی کسی خارجہ پالیسی کو تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں شریفوں کو ایک پیج پر ہونا چاہیئے۔ نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے محمود حان اچکزئی کا کہنا تھا کہ منگل کے روز کورکمانڈر کانفرنس کے بعد فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جو بیان جاری کیا گیا ہے وہ آئین کی روح کے منافی ہے۔

اْنھوں نے کہا کہ اس بیان کے بارے میں سپریم کورٹ سے تشریح کروائی جائے۔اْنھوں نے کہا کہ بعض لوگ اس معاملے پر جان بوجھ کر بیان نہیں دینا چاہیے یا پھر ’ہم نے بیایمانی سے حلف اْٹھایا ہے‘محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ خطے میں جنگی ماحول ہے۔ ’عراق اور لیبیا ختم ہوگیا ہے جبکہ ادھر داعش کی باتیں ہو رہی ہیں۔اْنھوں نے کہا کہ اْن کی جماعت کسی بھی ایسی خارجہ پارلیسی کی حمایت نہیں کرے گی جو یہاں یعنی پارلیمنٹ میں نہ بنائی گئی ہو۔

اْنھوں نے کہا کہ ان حالات میں پارلیمنٹ کا مشرکہ اجلاس بلا کر اعتماد میں لیا جائے۔واضح رہے کہ منگل کیروز آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت کور کمانڈرز کے اجلاس کے بعد آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے جاری آپریشن کے نتائج حاصل کرنے اور ملک میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ حکومت انتظامی امور کو بہتر کرے۔فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان پر ردعمل دینے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ سویلین حکومت کا احتساب عوام2018میں ہونے والے عام انتخابات میں ہی کریں گے۔

وقت اشاعت : 11/11/2015 - 13:30:36

اپنی رائے کا اظہار کریں