ایران کے سنی کرد عالم دین کی معمر اور معذور والدہ کی دردمندانہ اپیل
تازہ ترین : 1

ایران کے سنی کرد عالم دین کی معمر اور معذور والدہ کی دردمندانہ اپیل

تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء)ایران میں موت کی سزا پر عمل درآمد کے منتظر نوجوان سنی کرد عالم دین شہرام امیری کی والدہ نے ایک کھلے خط میں اپنے بیٹے کی جان بخشسی کی اپیل کرتے ہوئے پیشکش کی ہے کہ وہ بیٹے کی جگہ پھانسی چڑھنے کو تیار ہیں۔شہرام امیری کی معمر والدہ قدم خیر فرامرزی نے ایرانی حکام سے اپیل کی ہے کہ اس کے بیٹے کی جان بخشی کے بدلے اسے پھانسی دے دی جائے اور بخوشی یہ سزا قبول کرنے کو تیار ہیں۔

عرب ٹی وی نے شہرام امیری کو ایران کی انقلاب عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزا سے متعلق تفصیلی رپورٹ میں بتایا تھا کہ حکام نے کرد سنی عالم دین کو تہران کے شمال مغرب میں رجائی شہر جیل کی کال کوٹھڑی میں منتقل کر دیا ہے، جو اس بات کا اعلان ہے کہ انہیں کسی بھی لمحے تختہ دار پر لٹکا دیا جائے گا۔ایران میں سیاسی اور سول قیدیوں کی ڈیفینس کمیٹی مہم نے کرد سنی عالم دین کی والدہ کی کھلی اپیل نشر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کا چھوٹا بیٹا بہرام احمدی بھی سرکار کی سنائی گئی سزائے موت کی بھینٹ چڑھ گیا، اس لئے میں آج دنیا کے سامنے اپنے بڑے بیٹے کی جان بخشی کے لئے ہاتھ پھیلا رہی ہوں تاکہ میرے بڑے بیٹے کی زندگی بچائی جا سکے۔

شہرام کے خاندان نے ماضی میں کئی مرتبہ اپیل کی کہ ان کا مقدمہ کھلی عدالت میں انصاف کے اصولوں کے مطابق سنا جائے اور انہیں اپنا دفاع کرنے کے لئے آزاد وکیل کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ انقلاب عدالت اپنے فیصلے بند کمرے میں کرتی ہے جہاں ملزموں کو وکیل سے بات تک کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ہماری کوئی نہیں سنتا کیونکہ ہم سنی ہیں شہرام کی والدہ نے اپنے تحریری پیغام میں کہا ہے کہ وہ میرے بیٹے کو قتل کرنا چاہتے ہیں جس نے ابھی عمر کی تیس بہاریں بھی نہیں دیکھیں۔

اس کم عمری میں بھی اس نے سات برس جیل کی سلاخوں کے بیچھے گزارے ہیں، جن میں زیادہ وقت قید تنہائی میں گزرا۔ اب اس پر مسجد میں دینی سرگرمیاں دکھانے کی پاداش میں موت کی سزا مسلط کی گئی ہے۔ میں معذور ماں کیا کر سکتی ہوں، اس سے پہلے شہرام کا چھوٹا بھائی بھرام بھی فنا کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

وقت اشاعت : 11/11/2015 - 13:16:06

قارئین کی رائے :

  • اشفاق احمد کی رائے : 11/11/2015 - 15:45:35

    ان کی فقہ والوں کو یہاں کوئی ہلکی سی تکلیف پہنچے تو یہ چینخنا شروع کر دیتے ہیں۔ وہاں پہ سنی حضرات کےساتھ اس سلوک سے ہماری آنکھیں کھل جانی چاہییں

    اس رائے کا جواب دیں

اپنی رائے کا اظہار کریں