صوبے کے ہسپتالوں کے انتظامات کی بہتری کیلئے وزیر اعلی خیبرپختونخوا پرویز خٹک ..
تازہ ترین : 1
صوبے کے ہسپتالوں کے انتظامات کی بہتری کیلئے وزیر اعلی خیبرپختونخوا ..

صوبے کے ہسپتالوں کے انتظامات کی بہتری کیلئے وزیر اعلی خیبرپختونخوا پرویز خٹک ان ایکشن

دیہی اور دور دراز علاقوں میں ڈاکٹروں کو خدمات انجام دینے کیلئے راغب کرنے کی غرض سے پرکشش مالی مراعات کے پیکج پر اتفاق

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 نومبر۔2015ء)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے صوبے کے دیہی اور دور دراز علاقوں میں ڈاکٹروں کو خدمات انجام دینے کیلئے راغب کرنے کی غرض سے پرکشش مالی مراعات کے پیکج سے اتفاق کیا ہے جو وزیراعلیٰ کی ہدایت پر صوبائی محکمہ صحت نے ہنگامی طور پرتیار کیا ہے ان مراعات پر صوبائی حکومت کو طبی عملہ کی تنخواہوں کی مد میں 3.3 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا تاہم ان ترغیبات کی تفصیلات کا باقاعدہ اعلان وزیراعلیٰ پرویز خٹک آئندہ ہفتے کریں گے وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت کو حکم دیا ہے کہ وہ صوبے کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کی ضروریات کا جائزہ لے کر ان ضروریات کو پوراکرنے کیلئے جامع منصوبہ پی سی ون کی شکل میں آئندہ منگل تک ہر صورت میں پیش کریں اور اس منصوبے میں ڈاکٹروں سمیت طبی عملے، میڈیکل آلات، ادویات ، مشینوں، لیبارٹریوں، کمروں اور عمارات کی بحالی اور تزئین و آرائش تک کی ضروریات بھی شامل ہونی چاہئیں اُنہوں نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہاکہ اس منصوبے کے تحت ضلعی ہسپتالوں کو عملے اور آلات کی فراہمی آئندہ 15 دسمبر جبکہ عمارات کی بحالی کاکام آئندہ سال جون تک مکمل کیا جائے گا وہ منگل کے روزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں صحت کے شعبے کے مسائل سے متعلق اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں صوبائی وزیر صحت شہرام خان ترکئی، وزیر تعلیم محمد عاطف، صحت، فنانس اور ایڈمنسٹریشن کے سیکرٹریوں اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس میں صوبے کے مختلف ہسپتالوں کیلئے 900 نرسوں اور 500 ہیلتھ ٹیکنشنز کی این ٹی ایس اور تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر ہنگامی بنیادوں پر براہ راست ایڈہاک بھرتیوں کی منظوری بھی دی گئی جن کیلئے صوبائی پبلک سروس کمیشن نے این او سی بھی جاری کر دی ہے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے ان بھرتیوں کا عمل ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت دی اُنہوں نے محکمہ صحت سے کہاکہ وہ تحصیل ہسپتالوں اور دیہی و بنیادی مراکز صحت میں سہولتوں اور عملے کی کمی ہنگامی بنیادوں پر پوری کرنے کیلئے بھی الگ الگ منصوبے ایک ہفتے کے اندر تیار کریں تاکہ ان ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بھی فوری اقدامات کئے جاسکیں وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت اور قانون کو ہدایت کی کہ وہ اُن 571 بنیادی مراکز صحت کو کمیونٹی کے ذریعے کسی آزادانہ اور خودمختار نظام کے ذریعے چلانے کے بارے میں بھی تجاویز پیش کریں جو پی پی ایچ آئی آئندہ 31 دسمبرکو معاہدے کی مدت ختم ہونے پر واپس صوبائی حکومت کے حوالے کرے گی وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ موجودہ ضلعی ہسپتالوں میں کمروں، آپریشن تھیٹر، انتظار گاہوں اور اوپی ڈی وغیر ہ کیلئے جگہ کی کمی کو بھی پورا کیا جائے اور ہسپتالوں کی عمارات کی تزئین و آرائش اور بحالی کے ذریعے اس طرح کی تمام ضروریات پوری کی جائیں اور یہ منصوبہ آئندہ سال جو ن تک ہر صورت میں مکمل کیا جائے جس کیلئے صوبائی حکومت تمام ضروری وسائل بلا حیل وحجت فراہم کرے گی اُنہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہاکہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد ضلعی ہسپتالوں کی سہولیات یا عملے میں کسی قسم کی کمی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اس لئے محکمہ صحت پی سی ون میں تمام ضروری سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائے وزیراعلیٰ نے ڈاکٹروں کیلئے مالی مراعات کے پیکج سے اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ اس پیکج پر اگرچہ صوبائی حکومت کو بھاری مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا تاہم اُنہوں نے کہاکہ عام آدمی خصوصاً غریب اور محنت کش طبقوں کو صحت کی بہترین سہولتیں احسن اور باعزت طریقے سے مسلسل فراہم کرنے کیلئے مالی مشکلات کے باوجود اس طرح کے اخراجات سے بھی گریزنہیں کیا جائے گا اور نہ ہی معیار ی سہولیات اور خدمات پر کوئی سمجھوتہ کیا جائے گا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 10/11/2015 - 23:06:09

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں