2018ء تک پاکستان سے بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا،نواز شریف
تازہ ترین : 1

2018ء تک پاکستان سے بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا،نواز شریف

قصور کے علاقہ بلوکی پاور پراجیکٹ کا افتتاح کرنے کے بعد منعقدہ تقریب سے خطاب

قصور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین ۔۔ آئی پی اے ۔۔10 نومبر۔2015ء)وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کے اندر اندھیروں کے خاتمے کے لیے جس تیزی اور نیک نیتی سے کام کررہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے یقینا کہا جاسکتا ہے کہ 2018 ء تک پاکستان سے بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا اگر 1999 ؁ء میں ہماری حکومت ختم نہ کی جاتی تو آج پاکستان کا نقشہ بدل چکا ہوتا مگر حکومت کی دن رات کی جانیوالی کاوشوں اور عوام کی طرف سے ملنے والی حمایت کو دیکھتے ہوئے ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوچکا ہے یہ بات انہوں نے قصور کے علاقہ بلوکی پاور پراجیکٹ کا افتتاح کرنے کے بعد منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہاکہ یہ پہلی مرتبہ ہورہا ہے کہ بجلی کے پراجیکٹ اور دوسرے منصوبوں میں اتنے بڑے پیمانے پر بچتیں کی جارہی ہیں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان پراجیکٹ سے کسی کی جیب گرم نہیں ہورہی بلکہ یہ منصوبے ملک اور قوم کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے شروع کیے جارہے ہیں یا کیے جاچکے ہیں انہوں نے کہاکہ جس طرح کی شفافیت ہمارے ترقیاتی کاموں میں نظر آتی ہے اس کی مثال پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں نہیں ملتی انہوں نے کہاکہ میں عملاً ایک عرصہ سے سیاست میں ہوں وزارت اعلیٰ کے زمانے سے لیکر وزارت عظمیٰ کے زمانے تک میں نے یہ دیکھا ہے کہ اگر پاکستان کے اندر دیانتداری کے ساتھ بجلی کے علاوہ دوسرے عوامی منصوبہ جات کو دیانتداری سے شروع کیاجاتا اور پھر ان پر کام بھی مکمل ہوتا تو آج پاکستان کی تاریخ ہی کچھ اور ہوتی ان منصوبوں میں جس طرح قومی پیسے کو بچایا جارہا ہے و ہ پاکستان کی تاریخ میں ایک انوکھی مثال ہے اور اس کے لیے ان منصوبوں میں شامل ہر سرکاری اہلکار سے لیکر افسر ان تک تحسین کے مستحق ہیں میاں شہباز شریف ،خواجہ محمد آصف،شاہد خاقان عباسی،اور دوسرے لوگوں نے ان منصوبوں کے لیے بیٹھ کر دن رات کام کیا ہے انہوں نے کہاکہ بجلی کے تین پراجیکٹس کے لیے تین سو ارب روپے کی رقم مختص کی گئی تھی کیونکہ ماضی میں یہ منصوبے انہی قیمتوں پر لگتے رہے ہیں مگر یہ کریڈٹ ہماری حکومت اور ان منصوبوں پرکام کرنیوالی ٹیم کو جاتا ہے کہ انہوں نے عوام کے پیسے کو امانت سمجھا کک بیکس اور کمشن لینے کا چکر ختم کیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ تین سو ارب روپے میں لگنے والے یہ منصوبے دوسو ارب روپے کے قریب میں مکمل ہورہے ہیں حکومت نے ان منصوبوں کے لیے باقاعدہ شفاف طریقے سے ٹینڈر طلب کیے اور ان منصوبوں سے جو بچتیں ہورہی ہیں وہ حکومت کی ایمانداری کا بین ثبوت ہیں انہوں نے کہاکہ ایک منصوبہ 93 بلین روپے میں لگنا تھا مگر وہ آج 55 ار ب روپے میں لگ رہا ہے اس طرح ان منصوبوں سے 110 ارب روپے بچائے گئے یہ بہت بڑی رقم ہے ہم پاکستان کی ایک ایک پائی کو امانت سمجھتے ہیں یہ منصوبے کم لاگت میں لگنا شروع ہوئے تو میری خوشی کی انتہاء نہ رہی آج پاکستان کی ستر سالہ روایات سے ہٹ کر کام ہورہے ہیں،اسی طرح پہلے بھی پاکستان میں یہ کام ہوتے رہتے تو آج پاکستان ایک مختلف ملک ہوتا اگر پاکستان کی دولت کو پاکستانیوں پر امانت داری سے خرچ کیا جاتا تو آج کے مقابلے میں پاکستان بہت بہتر ہوتا ،یہ منصوبے لاکھوں کروڑوں گھروں کو روشنی مہیا کریں گے ، گھریلو استعمال کی بجلی یہ پلانٹ سستی بجلی فراہم کرے گا۔

لوڈشیڈنگ نے پچھلے تیس سالوں سے جس طرح عوام کو بے حال اور معیشت کو برباد کیا اس سے ہر کوئی آگاہ ہے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کا کام شروع ہوچکا ہے بہت جلدلوڈشیڈنگ کے خاتمے کے نتیجہ میں ناصرف روشنیوں کا سفر شروع ہوگا بلکہ معیشت بحال ہونا شروع ہوجائے گی ہم پاکستان کے عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کے منصوبوں پر کام کررہے ہیں اس سے پاکستان کے اندر صنعت بحال ہوگی اور کسانوں کے ٹیوب ویل چلنا شروع ہوجائیں گے اور اس سے پاکستان سے بڑی حد تک بیروزگاری کا خاتمہ ہوگا اور لوگوں کو روزگار ملے گا انہوں نے کہاکہ خوشی کی بات یہ ہے کہ کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر بھی کام شروع کیاجارہا ہے ایک وہ دور تھا کہ پاکستانی بینکوں سے لوگوں کو 15 سے 20 فیصد سود پر قرضہ ملتا تھا ہم نے قرضوں کے حصول کو اس قدر آسان بنا دیا ہے اور شرح سود اس قدر کم کر دی ہے کہ آج بینکوں سے قرضہ لینا انتہائی آسان ہوچکا ہے وزیر اعظم نے کہا کہ اﷲ کا شکر ہے کہ پاکستان ترقی کی شاہراہ پے چل نکلا ہے اور پاکستان کا خسارہ تیزی سے کم ہورہا ہے پاکستان کی معیشت کے خسارے میں اتنی کمی گذشتہ پندرہ سال سے نہیں ہوئی تھی جتنی ہمارے دور میں ہوئی ہے ۔

پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر کبھی اتنے نہیں ہوئے جتنے آج ہیں ،عالمی رینکنگ کے ادارے ہماری پالیسیوں کی تعریف کر رہے ہیں اگلے دو تین سال اگر یہ معاملات اسی طرح چلتے رہے تو پاکستان مشکلات سے باہر نکل آئے گا 2018 ء میں گیس اوربجلی کی کمی ختم ہوچکی ہوگی انہوں نے کہااگر دھرنوں کی سیاست نہ ہوتی تو یہ پراجیکٹ آدھے مکمل ہوچکے ہوتے جن کی وجہ سے ان منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر ہوئی ہے ایسی سیاست کرنیوالے درحقیقت پاکستان کی ترقی کا راستہ روک رہے ہیں،اس وقت پاکستان کے کاشتکار وں کی اشیاء کی بیرونی منڈیوں میں قیمتیں گر گئی ہیں ہمارے متاثرہ کاشتکاروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے ہم نے 341 ارب روپے کا پیکج دیا ہے مگر اب اس میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ایسی منفی سیاست کرنیوالوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی کسان دشمنی سے کسانوں کا ہی نہیں بلکہ ملک کا بہت زیادہ نقصان ہوگا کسانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑاکرنے کے لیے اس پیکج کی ضرورت ہے اس کے ساتھ ساتھ چین کی مدد سے پاکستان کے اندر کئی منصوبے زیر تکمیل ہیں اور کئی کاآغاز ہونے جارہاہے پانی سے بجلی پیدا کرنے کے لیے ڈیم بنانے کے لیے بھی زمین خریدی جارہی ہے بھاشاہ ڈیم کے لیے بھی زمین کی خریداری کے لیے رقم ادا کی جاچکی ہے بھاشاہ ڈیم پہلے دونوں ڈیموں سے بڑاہوگا جس سے کسانوں کوزرعی ضروریات کے لیے پانی بھی میسر آسکے گا کیونکہ آنیوالے وقت میں پانی ہماری بہت بڑی ضرورت ہوگی ہمیں اس وقت آبی ذخیروں کی ضرورت ہے،آج تک تربیلا اور منگلا کے بعد کوئی تیسرا ڈیم بنایا ہی نہیں گیا یہ پاکستان کا تیسرہ بڑا ڈیم ہوگا ہم اپنے دوسرے پروگراموں سے بھی غافل نہیں ہیں لاہور ملتان موٹر وے بھی اگلے ماہ شروع ہورہی ہے یہ نیشنل ہائی ویز سے علیحدہ روٹ ہوگا اور یہ کراچی تک جائے گا،جب ہماری حکومت 1999 میں ختم کی گئی تو ہم اس وقت اسلام آباد سے لاہور تک موٹر وے بنا چکے تھے اور اس کام کو آگے بڑھانا چاہتے تھے یہ کراچی تک جانا تھی اگر اس کو کوئی بڑھانے والا کوئی ہوتا تو یہ منصوبے اب تک مکمل ہوچکے ہوتے مگر افسوس کہ گذشتہ پندرہ سالوں میں اس طرح کسی نے توجہ ہی نہیں دی ہم لاہور سے ملتان اور وہاں سے کراچی تک موٹر وے پر کام شروع کر چکے ہیں عوام جلد دیکھے گی کہ گلگت بلتستان ،ہنزہ اور ہزارہ کے علاقہ میں بھی موٹر وے کی تعمیر شروع ہوجائے گی اس طرح کے پی کے موٹر وے کو گوادر سے ملارہے ہیں جو طورخم سے ہوتا ہوا سنٹرل ایشیاء تک جائے گا اس کے ساتھ ساتھ ریلوے کے منصوبوں پربھی کام ہورہا ہے ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ اﷲ تعالیٰ ہمیں حوصلہ دے اور ہم اپنے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں،انہوں نے کہاکہ حکومت کی چاروں طرف نظر ہے ہماری پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ کراچی کے حالات میں بہت بہتری آچکی ہے ہم ہر جگہ کام کررہے ہیں جہاں فوری ضرورت ہے فوری کام کر رہے ہیں اور کوئی ایسا علاقہ نہیں چھوڑ رہے جہاں کام نہ ہورہا ہوقوم دعا کرے کہ اﷲ تعالیٰ ان کی مدد سے پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کی کوششوں میں ہمیں کامیاب کرے میں پاکستان کے عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ آنے والا وقت ایک روشن مستقبل لیکر آرہا ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 10/11/2015 - 22:27:03

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں